کرائے کی عورتیں اور لنڈے کے ارسطو


دو دن سے پورے پاکستان میں ایک شور برپا ہے کہ خلیل الرحٰمان قمر نے ماروی سرمد کو نہ برا بھلا کہا بلکہ گالی گلوچ بھی کی ہے۔ مجھ ناچیز کے خیال میں اس وقت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہر شخص کو اس پورے قضیئے کے نہ صرف سیاق و سباق کا علم ہے بلکہ ہر وہ فرد جو سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے اپنا فلسفہ جھاڑرہا ہے۔ لبرل اور قدامت پسندانہ نظریات کے حامی بر سر پیکار ہیں، الیکٹرانک میڈیا جس نے اس معاملے کو ہوا دینے کے لئے نہ صرف تیل اور تیلی مہیا کی بلکہ مکمل اور بھر پور ماحول بھی مہیا کیا اس وقت نہ صرف اپنا منفی کردار ادا کر رہا ہے بلکہ پس پردہ کچھ لوگ اپنی جیبیں بھرنے میں بھی مصروف نظر آتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، عالم کفر کی آنکھوں میں کھٹکتی یہ مملکت ہمیشہ این جی اوز کے لئے مردم خیز رہی ہے، ان نام نہاد این جی اوز نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے ہماری ہی صفوں سے ایسے کرائے کے فلاسفر، ادیب اور صحافی خریدے ہیں جن کا نصب العین ہی قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند تھا، جنہوں نے صرف اپنے مادی مقاصد کے لئے نہ صرف ہماری آئیڈیالوجی کو نقصان پہنچایا بلکہ ملک دشمن این جی اوز کے مقاصد کی تکمیل کے لئے گولیاں اور گالیاں کھا کر بھی بد مزہ نہ ہوئے۔

آپ کو یہ لنڈے کے ارسطو نہ صرف سوشل میڈیا پہ اپنا فلسفہ بھگارتے دکھا ئی دیتے ہیں بلکہ ہر اس میدان میں اپنے خفیہ مقاصد کی تکمیل میں مصروف عمل ہیں، جہاں سے وہ نہ صرف پاکستانیت بلکہ اسلامی فلسفے پر کاری ضرب لگا سکیں۔ اپنے مقاصد میں وہ کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں؟ یہ میرے کالم کے قارئین اور ہر محب وطن پاکستانی کے علاوہ ہر ذی ہوش شخص جانتا ہے کہ ہمارے ملک کو لبرل ازم کی طرف لے جانے اور اسلام پسندی سے موڑنے کے لئے یہ سازشی ٹولہ کوئی نہ کوئی ہتھکنڈا استعمال کرتا رہا ہے۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں۔ آپ کو یہ لنڈے کے ارسطو اور کرائے کی عورتیں ہر میدان میں نظر آئیں گی جو صرف اور صرف ڈالر کی خاطر ہمارے قومی اور اسلامی نظریات کو بیچنے سے کبھی باز نہیں آئیں گے۔

اگر دیکھا جائے تو بات خلیل الرحمان اور ماروی سرمد کے درمیان جھگڑے کی نہیں بلکہ یہ دو نظریات اور دو تہذیبوں کے درمیان جاری جنگ ہے۔ لیکن اس جھگڑے کو ہوا دینے والے چینل نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے پاکستانی عوام کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ ہم اپنے خصوصی مسائل کی بجائے فروعی مسائل میں الجھے رہیں۔ دیکھا جائے تو اس پروگرام میں گالی گلوچ کے وقت ایک وقفہ بھی لیا جا سکتا تھا اور بعد میں دونوں فریقین کے درمیان صلح صفائی کروا کے دوبارہ آن ائیر کیا جا سکتا تھالیکن ریٹنگ کے چکر میں الیکٹرانک میڈیا ہمیشہ وطن دشمنی مین پیش پیش ہی رہا ہے اور ماضی قریب میں بھی اس طرح کے ایشوز کھڑے کیے جاتے ہیں تاکہ سازشی عناصر کو مظلوم ثابت کیا جاسکے۔

”میرا جسم میری مرضی جیسے متنازع نعرے میں نہ صرف لامحدود معانی پوشیدہ ہیں بلکہ یہ ایک ایسا دوغلا نعرہ ہے کہ اس کا نہ تو دفاع کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے خلاف دلائل دیے جا سکتے ہیں لیکن عورت کے استحصال کی بات کی جائے تو آج تک ان این جی اوز نے ہمارے معاشرے کے معدودے چند واقعات کا سہار الے کر ہی ہمیشہ بات کا بتنگڑ بنایا ہے جس میں تیزاب گردی، جنسی استحصال اور ونی جیسے قبیح واقعات ہیں لیکن اگر ان نعروں کے تخلیق کاروں کے لائف سٹائل اور ظاہری شکل و شباہت دیکھ کر ہی ایک عام فہم رکھنے والا شخص سمجھ جاتا ہے کہ اس نام نہاد نمائندہ خاتون کو تو اپنی زندگی میں وہ سب سہولیات حاصل ہیں جن کے لئے وہ جدوجہد کر رہی ہے۔

کیا ایسا تو نہیں کہ وہ عوام کے نام نہاد حقوق کے تحفظ کے لئے کرائے پہ بھرتی کیا گیا ہو؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے نام پر وہ کہیں سے باقاعدہ تنخواہ لے رہا ہو؟ کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ ماروی سرمد یا شرمین چنائے جیسی نام نہاد خواتین رہنماؤں کو زندگی میں کسی ایسی مصیبت یا واقعے کا سامنا کرنا پڑا ہو جس کے دفاع کے لئے وہ گھنٹوں چینل پر بیٹھ کر اپنا فلسفہ جھاڑتی نظر آتی ہیں؟ چند ماہ پہلے مجھے ایک این جی او کے نائٹ تھیٹر کے انتظامات کے لئے کہا گیا جس میں بچوں کو جنسی ہراسانی کے بارے میں آگاہی مطلوب تھی، جس کنٹینر کے ذریعے بچوں کو آگاہی ڈاکومنٹری دکھائی گئی اس کی قیمت ایک کروڑ سے کم نہ ہو گی۔

(اس پروگرام میں بھی سوائے تصویریں بنانے کے کوئی خاص عمل سرانجام نہ دیا گیا) اب آپ خود سوچیں کہ ہماررے پاس تو ایک وقت کی ہوتی ہے اور دوسرے وقت کی روٹی کے لئے ہمیں سخت جدو جہد کرنی پڑتی ہے پھر کون ہیں وہ لوگ جو یہ کروڑوں کے فنڈ کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں؟ کیا ایسا تو نہیں کہ یہ ہما را سوشل سیٹ اپ اور خاندانی نظام تباہ و برباد کرنا چاہتے ہوں؟

بات شروع کرتے ہیں مختاراں مائی کیس سے، جس میں مختاراں مائی نامی ایک گاؤں کی لڑکی کو پنجایت کے ذریعے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ مختاراں مائی کیس کو اچھالنے اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے جہاں کئی غیر ملکی طاقتوں نے اپنا کردار ادا کیا تھا وہاں مقامی پروموٹرز نے بھی اس کیس کا خوب فائدہ اٹھایا، حکومت ِپاکستان نے بھی مختاراں مائی کو فاطمہ جناح گولڈ میڈل اور 5 لاکھ روپے کا تعاون پیش کیا۔ جنوبی پنجاب کے پسماندہ گاؤں کی مختاراں مائی نے چند ہی سالوں میں امریکا، لندن، کینیڈا، یورپ اور نہ جانے کہاں کہاں کا سفر عیش و عشرت سے طے کیا۔

مختاراں مائی کے بیرون دوروں سے دنیا بھر میں ملکی وقار کو خاک میں ملایا گیا، اور ان پر ڈالروں کی برسات ہوتی رہی جو تاحال بھی جاری ہے۔ اس کے بعد ملالہ ڈرامہ چلایا گیا، یہاں تک کہ اس کو نوبل پرائز سے نوازا گیا تاکہ پوری دنیا میں جگ ہنسائی ہو اور مسلمانوں کے خلاف گمراہ کن پراپیگنڈہ کیا جا سکے۔ ملالہ ڈرامے کے بعد شرمین چنائے جیسی نام نہاد خواتین کی پیش رو نے خواتین کے خلاف تیزاب گردی جیسے اکا دکا واقعات کے خلاف آواز اٹھائی اور پس پردہ کار فرما ہاتھوں نے اسے اپنے کندھوں پر بٹھا لیا۔

گزشتہ سال سے 8 مارچ کو ہنے والے نام نہاد خواتین مارچ نے نہ صرف پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہوا ہے بلکہ مغرب زدہ لباس اور میک اپ سے لتھڑے زیادہ تر چہرے مجھے کرائے کے لگتے ہیں جن کے پیچھے بھی وہی مذموم مقاصد کار فرما ہیں جو مختاراں مائی، ملالہ اور تیزاب گردی جیسے واقعات کے پیچھے تھا جن کا اہم مقصد پاکستانی معاشرے کو ایک قدامت پسند معاشرہ ثابت کرنا ہے۔

ؓ اب ذرا تصویر کا دوسرا رخ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ اس تمام ہنگامے میں نہ صرف ماروی سرمد جیسی مادر پدر آزاد خواتین اپنے ذاتی مفاد کا تحفظ کرتی دکھائی دیتی ہیں بلکہ اس تمام لڑائی میں فریق دوئم وہ لنڈے کے ارسطو ہیں جن کو سوائے اپنی دکانداری چمکانے کے کوئی اور کام آتا ہی نہیں اور وہ حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ اپنی دکان کے مفسدخیالات کو لفافے کے عوض بیچنے میں وقت نہ آڑے آجائے۔ دیکھا جائے تو خلیل الرحمان کا روّیہ خود مصنوعی لگتا ہے کیونکہ اتنی جلدی جوش اور غصے میں آکر اول فول بکنا کسی بھی ٹاک شو کے پینل میں شامل ایک باشعور تجزیہ نگار کا کام نہیں ہے۔

میرے خیال میں جذباتیت اور دل سے سوچنے کی بجائے اور ماروی سرمد یا خلیل الرحمان قمر جیسے فصلی بٹیروں کے، ہم سب کا فرض ہے کہ جن حالات میں یہ پروگرام پیش کیا جا رہا تھا ان کا جائزہ لیا جائے۔ دیکھا جائے تو 8 مارچ کو ہونے والے خواتین مارچ کی ہائی کورٹ نے مشروط اجازت دے دی ہے کہ اس مارچ میں ایسا کوئی بھی نعرہ یا مواد شامل نہیں کیا جائے گا جس سے نفرت اور معاشرتی اقدار کو ٹھیس پہنچتی ہو کیونکہ مجھ ناچیز کے خیال میں گزشتہ سال ہونے والے خواتین مارچ میں زیادہ تر لبرل اور سیکولر خواتین نے ہی شرکت کی جن کا خصوصی مقصد معاشرتی اقدار کو نشانہ بنانا تھا اس لئے ایسی تمام خواتین کو اس طرح کی سستی حرکات سے روکنا موجودہ حکومت کا فرض اوّلین ہے اور اس تمام معاملے میں عدلیہ ایک بہترین اور مناسب کردار ادا کر سکتی ہے۔

Facebook Comments HS