ہر عام کی طرح میرے احباب کی فہرست زیادہ طویل نہیں، چند ہی ایسے مخلص دوست ہیں جن سے نہ صرف قلبی تعلق ہے بلکہ ذہنی ہم آہنگی کی بنا پر جب بھی ملتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ قیس کی جنگل کی تنہائی ہی نہیں کٹی بلکہ دیوانوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ وفا اور نمک حلالی کے بحران میں میرے چند دوست ایسے بھی ہیں جن کو ہمارے سیاسی قائدین سے اتنا شدید لگاؤ ہے کہ وہ اپنے محبوب قائدین کی خاطر دن کے اجالے کو رات کہنے سے نہیں چوکتے اور اب بھی اپنی تمام تر تعلیمی و ذہنی قابلیت کے ساتھ موجودہ سیاسی نظام کے کرتا دھرتا حضرات سے اپنی آخری امیدیں لگائے اپنی زندگی کے سنہرے دن کاٹ رہے ہیں کہ شاید ابھی مداری کے چغے میں کوئی ایسا سحر سامری ہو جس کے پھونکنے سے نہ صرف پاکستان کے تمام مسائل حل ہو جائیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم کا قرضہ، بے روزگاری، مہنگائی اور تمام نام نہاد مافیاز کا خاتمہ بھی ہو جائے جن کی وجہ سے واحد اسلامی ایٹمی طاقت ایشین ٹائیگر بن جائے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی کوئی تعلیمی سند ہو جس سے ہمیں نہ صرف کھوٹے اور کھرے کا علم ہو جائے بلکہ سیاسی مداریوں کی شعبدہ بازی کو سمجھنے میں بھی آسانی ہو؟ دیکھا جائے تو ہماری سیاسی منڈی میں نہ صرف جھوٹ بہت مہنگے داموں بک رہا ہے بلکہ دھڑا دھڑ بک رہا ہے، غریب کا کوئی پرسان حال نہیں، نظام جوں کا توں موجود ہے، ہر آدمی اپنے آپ کو ایک سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہوئے اپنے قریبی دوست پر اپنے نظریات تھوپنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے جذباتی حامی اپنے اپنے لیڈر کے نظریات کا جس شد و مد سے پرچار کرتے ہیں وہ نہ صرف ناقابل فہم ہے بلکہ کبھی کبھی تو ہنسی کے ساتھ ساتھ رونا بھی آتا ہے کہ جھوٹ پر مبنی نظریات کا کتنی ڈھٹائی اور غیر پیشہ ورانہ انداز میں دفاع کیا جاتا ہے۔
Read more