میرے پاس تیزاب ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرا نام جانو قتال پوری ہے، میں عورتوں کا بہت بڑافین ہوں، یعنی اُن کے حقوق کا۔ لیکن جب سے کچھ عورتوں نے ’میرا جسم میری مرضی‘ جیسا لغو اور بیہودہ نعرہ ایجاد کیا ہے میں سخت غصے میں ہوں۔ نہ جانے وہ کون لوگ ہیں جنہیں یہ فحش نعرہ پسند ہے، مجھے تو اِس نعرے کی کوئی کل سیدھی نظر نہیں آتی، بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ میرے جسم پر میر ی مرضی چلے گی، یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ میری گاڑ ی، میری مرضی، جیسے چاہوں چلاؤں، جہاں چاہوں پارک کر دوں اور جس میں چاہوں دے ماروں!

میں تو نہیں مانتا ایسے فضول نعرے کو، میرے خیال میں عورت کے جسم پر اُس کی مرضی چل ہی نہیں سکتی کیونکہ اگر ایسا ہو تو عورت کبھی اپنے آپ کو بوڑھی نہ ہونے دے۔ اچھو کباڑیے کا بھی یہی خیال ہے، کل اُس سے جب عورتوں کے حقوق پر بات ہوئی تو وہ چھاتی پھلا کر کہنے لگا کہ میری طرح وہ بھی عورتوں کی آزادی کاسب سے بڑا چمپئن ہے۔ پھر اُس نے مجھے اپنی جوانی کا ایک قصہ سنایا کہ کیسے اسے اپنے محلے کی لڑکی سے عشق ہو گیا تھا، لڑکی چونکہ بہت حسین تھی اِس لیے اچھو کو لفٹ نہیں کرواتی تھی، اچھو نے اُس کی بہت منت سماجت کی، ترلے کیے، شادی کے پیغامات بھیجے مگر وہ نہیں مانی، کہتی تھی میری مرضی جس سے چاہوں گی شادی کروں گی۔

اچھو سے یہ بات برداشت نہیں ہوئی، بھلا اُس کی غیرت کیسے یہ گوارا کرتی کہ اُس کی محبت کسی اور کی ہو جائے۔ کرنا خدا کا یہ ہوا کہ اُس لڑکی کی بات پکی ہو گئی، ایک دن وہ گھر سے خریداری کی غرض سے نکلی تو اچھو نے اُس کا راستہ روک لیا اور اپنی سچی محبت کا واسطہ دیا کہ شادی سے انکار کرکے اُس کے ساتھ بھاگ جائے مگر وہ نہیں مانی، اچھو کو غصہ آگیا، اُس کے ہاتھ میں تیزاب کی بوتل تھی، اُس نے بوتل کا ڈھکن کھولا اور لڑکی پر تیزاب الٹ دیا، اُس کا سارا چہرہ جھلس گیا۔

اپنی محبت پر تیزاب پھینکنے کا اچھو کو آج بھی افسوس ہے مگر پچھتاوا نہیں کیونکہ اس کے بعد لڑکی کی شادی ختم ہو گئی اور وہ اب تک کنواری ہے۔ اچھو کہتا ہے کہ اگر وہ میری نہیں بن سکی تو کسی اور کی بھی نہیں بنی، سچی محبت کا یہی تقاضا تھا۔ میری محبت میر ی مرضی۔ اچھو آج کل ٹی وی ڈرامہ لکھ رہا ہے جس کا نام ہے ”میرے پاس تیزاب ہے۔ “

اچھو کباڑیے کے علاوہ میرا دوست نسیم گینڈا بھی حقوق نسواں کا ہامی ہے، اس سے ملاقات ہوئی تو کہنے لگا کہ پورے ملک میں فیمینزم کا مجھ سے بڑا حامی کوئی نہیں، میں تو عورتوں کو ہر قسم کی آزادی دینے قائل ہوں بشرطیکہ وہ اپنی حیا برقرار رکھیں اور بے وفائی نہ کریں، رہی بات اِس نعرے کی تو یہ نہایت ہی فحش اور بیہود ہ نعر ہ ہے جس کا مطلب سوائے اِس کے اور کچھ نہیں کہ جس کے ساتھ مرضی ہو گی اُسی کے ساتھ ملوں گی۔ اخ تھو۔

چلو آج تمہیں ایک مزے کا قصہ سناؤں، میری فیکٹری میں ایک لڑکی کام کرتی تھی، ہو گی کوئی اٹھارہ انیس سال کی، ایک دن مجھے پتا چلاکہ اُس نے کیشئر سے کچھ پیسے ادھار مانگے ہیں، کیشئر نے کریدا تو معلوم ہوا کہ چند ماہ پہلے اُس نے کسی لڑکے سے نکاح کیا تھا جو اب اسے چھوڑ کر چلا گیا ہے، لڑکی اب حاملہ ہے اور اپنا ابارشن کروانا چاہتی ہے۔ میں نے لڑکی کو آفس میں بلوایا، اُس وقت میں ڈرنک کر رہا تھا، تمہیں تو پتا ہے کبھی کبھار دن میں بھی پی لیتا ہوں، لڑکی اچھی خاصی قبول صورت تھی، میں نے اسے کہا کہ جتنے پیسے چاہیئں کیشئر سے مانگ لینا مل جائیں گے، بہت پریشان تھی بیچاری سو اس کے حواس بحال کرنے کے لیے میں نے ڈرنک بھی آفر کر دی، وہ نہ جانے کیا سمجھ بیٹھی کہ فوراً کمرے سے نکل کر بھاگ گئی اور آج تک اپنی تنخواہ لینے بھی فیکٹری واپس نہیں آئی۔ اب بند ہ ایسی لڑکیوں سے پوچھے کہ اپنے جسم پر مرضی چلانے کا نتیجہ تو تم نے بھگت لیا، ذراہماری مرضی کے مطابق بھی چل کر دیکھ لیتی شاید کوئی بھلا ہو جاتا۔

میرے تمام دوستوں میں شوکا گرینیڈ سب سے زیادہ لبرل اور پروگریسو ہے مگر وہ بھی اِس نعرے کے خلاف ہے۔ شوکے گرینیڈ کو آپ کوئی عام بندہ نہ سمجھیں، میرا یہ دوست انجینئر ہے اور باہر کے ممالک میں ملازمت کرتا رہا ہے، اسے سب معلوم ہے کہ کیسے مغرب میں عورت کو سرمایہ دارانہ نظام میں ایک کھلونا بنا دیا گیا ہے، وہ اِس موم بتی مافیا کو خوب کھری کھری سناتا ہے، اس کا کہنا ہے کہ امریکہ جیسے ملک میں بھی ہر سال سینکڑوں عورتوں کو اُن کے بوائے فرینڈ یا شوہر ’غیرت‘ کے نام پر قتل کر دیتے ہیں جبکہ یہاں کوئی با غیرت باپ یا بھائی یہ نیک کام کرے تو دو ٹکے کے لبرل چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔

چند دن پہلے کسی نے ٹویٹر پر اِس فحش نعرے کی حمایت کی تو شوکا گرینیڈ پنجے جھاڑ کر اُس کے پیچھے پڑ گیا اورجواب میں ٹویٹ کی کیا تم اپنی ماں بہن کو یہ نعرہ پلے کارڈ پر لکھ کر عورت مارچ میں جانے کی اجازت دو گے؟ اِس کے رد عمل میں اُس کاٹھے لبرل نے کہا کہ مسٹر شوکے آپ کی دلیل کمزور ہے، اِس دلیل میں سقم یہ ہے کہ آپ نے فرض کر لیا ہے کہ عورتیں اپنے اچھے برے کا فیصلہ نہیں کر سکتیں سو ہم نے بتانا ہے کہ انہیں کیسے اور کیا کرنا چاہیے، اسی لیے آپ نے کہا کہ کیا میں اپنی ماں بہن کو اجازت دوں گا جبکہ میرایہ ماننا ہے کہ بالغ مرد کی طرح بالغ عورت بھی اپنے فیصلے میں آزاد اور خود مختار ہے، اگر میں اپنے باپ اور بھائی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں تو یہی اصول ماں بہن کے معاملے میں بھی لاگو ہوگا۔

شوکے گرینیڈ نے یہ ٹویٹ پڑھ کر اُس شخص کی کھوکھلی دانشوری پر قہقہہ لگایا اور اسے تین چار ایسی گالیوں سے نوازا جو شوکے کی اپنی تخلیق کردہ ہیں اور جن کا ڈسا ہوا پانی نہیں مانگتا، ظاہر کہ کاٹھے لبرل کو جان چھڑاتے ہی بنی، دُم دبا کر بھاگ گیا۔

اچھو کباڑیے، نسیم گینڈے اور شوکے گرینیڈ کی طرح میں، جانو قتال پوری، بھی عورتوں کے معاملے میں بہت آزاد خیال ہوں یعنی مجھے آزاد عورتیں پسند ہیں، مصیبت مگر یہ ہے کہ یہ آزاد عورتیں دن بدن کچھ زیادہ ہی آزاد ہوتی جا رہی ہیں، یہ فحش لباس پہنتی ہیں، سگریٹ کے سوٹے لگا تی ہیں اور عورت کے حقوق کے نام پر مارچ کرکے عریانی کا پرچار کر تی ہیں۔ پچھلے سال کسی نے مجھے بتایا تھا کہ عورت مارچ میں ایسی لڑکیاں آتی ہیں جنہوں نے سلیولیس شرٹ اور تنگ جینز پہنی ہوتی ہے، میں بھی مارچ میں گیا تھا تاکہ یہ بے حیائی اپنی آنکھوں سے دیکھ کر تصویریں لے لوں اور پھر اُن لوگوں کے منہ پر ماروں جو اِس نام نہاد مارچ کی حمایت کرتے ہیں مگر شاید مجھے پہنچنے میں کچھ دیر ہو گئی، ایسی تمام عورتیں اُس وقت تک کہیں غائب ہو چکی تھیں۔

اِس دفعہ تو خیر مجھے یقین ہے کہ بات سلیولیس شرٹ سے آگے نکل جائے گی کیونکہ اب تو اِن عورتوں نے میرا جسم میری مرضی جیسے اخلاق باختہ نعرے لگانے ہیں، اِس مرتبہ میں کوشش کروں گاکہ مارچ میں سب سے پہلے پہنچ جاؤں تاکہ اِن عورتوں کو براہ راست دیکھ سکوں، ٹی وی پر صحیح نظر نہیں آتا۔ خیر جو بھی ہو مجھے تو بس اِس بات کا افسوس ہے کہ اِن عورتوں اور بیہودہ نعروں نے نئی نسل کے ذہنوں کو اِس قدر آلود ہ کر دیا ہے کہ میری بھانجی کہتی ہے کہ ماموں اگر میرے جسم پر کسی اور کی مرضی ہوگی تو و ہ تو ریپ کہلائے گا نا! اب بندہ کیا جواب دے ایسی خرافات کا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 75 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *