یقیناً سب مرد ویسے نہیں ہیں مگر بہت سے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیکھیے اکا دکا کیسز تو ہر جگہ ہوتے رہتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا اتنا واویلا کیا جائے۔

کیا کہا اکا دکا کیسز؟ جو معاملات آپ کے ہاں نہیں ہیں اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ہیں ہی نہیں۔ ریپ، ہانر کلنگ، ونی، زبردستی یا مجبور کر کے کی گئی شادی، چھوٹی عمر کی شادی، وراثت سے محرومی، جیہز، ڈومیسٹک وایولینس، پری برتھ ابارشن، ایسڈ اٹیک، بلیک میلنگ، ہیراسمنٹ، کردار کشی۔ تعلیم و تربیت سے لے کر زندگی کے ہر فیصلے میں ڈسکریمینیشن۔ ذرا آکڑے نکال کے دیکھیے میرے محترم۔ آپ جیسے بھی اور مجھ جیسے بھی سب بیٹھ کے روئیں گے۔

آپ فرماتے ہیں کہ اسلام سے زیادہ خواتین کے حقوق کا علمبردار و محافظ کوئی مذہب نہیں اور جتنے حقوق و آزادیاں اسلام نے عورت کو دی ہیں دینا کے کسی مذہب و نظام نے نہیں دیں تو اب عورتوں کو اور کیا چاہیے۔

لاریب اس حقیقت میں رائی برابر بھی شک نہیں کہ اسلام سے بڑھ کر نہ کسی نے عورت کو عزت دی ہے نہ حقوقِ آزادی۔

مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اسلام نے جو حقوق و آزادیاں عورت کو دی ہیں وہی تو کچھ انسان انھیں دینے سے انکاری ہیں اور انھی انسانوں کے خلاف جدو جہد مطلوب ہے۔ لہذا اس جدو جہد کو اسلام میں عورت کے حقوق سے انکار اور اسلام کے خلاف کہہ کر حقائق کو مسخ نہ کریں اور دونوں چیزوں میں فرق سمجھیں۔

دوئم آپ کہتے ہیں کہ دوسرے معاشروں میں یہ جرائم عام ہیں تو یہاں اتنا شور کیوں۔ اول تو دوسرے معاشرے ہمارا سبجیکٹ نہیں اور نہ ان کے اعدادو شمار ابھی زیر بحث ہیں۔ بالفرض اگر دوسرے معاشروں میں یہ جرائم ہیں بھی تو یہ کوئی دلیل نہیں کہ ان کا ہمارے معاشرے میں اس بنیاد پر ہونا جائز ہے اور یہ مسئلہ نہیں ہیں۔

سوئم اپ کہتے ہیں کہ مرد بھی جرائم کا شکار ہے تو عورتوں کا واویلا کیوں؟ تو بھائی بے شک اپ درست ہیں کی مردوں کے خلاف بھی جرائم ہوتے ہیں مگر ان میں سے کتنے جرائم و زیادتیاں ہیں جو ان کے خلاف محض اس لیے ہوتیں ہیں کہ وہ مرد ہیں؟ یہ سارے جرائم جو میں نے گنوائے انصاف کریں اور خود دیکھ لیں کہ مردوں کی اکثریت ان سے متاثر ہے کہ عورتوں کی؟ اور کیا ان کا ارتکاب عورت کے خلاف اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ عورت ہے؟ اور بالفرض اگر مرد بھی ان زیادتیوں کا شکار ہوں تو پھر بھی یہ کوئی دلیل نہیں کہ ان کو جائز مان کے صبر کر کیا جائے۔

اور آخری بات کہ اگر کچھ لوگوں نے اس جدو جہد کے دوران یا اس کی آڑ میں اخلاقی حدود قیود کراس کی ہیں یا کرتا ہے تو اس کی بنیاد پر ہم سری جد و جہد کو گندا یا حرام کہہ کر مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ اور نہ یہ بات اس کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کر کے اسے سلب کیا جا سکتا کے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ایک طرف ان کالے عناصر کی نشاندہی کر کے ان کی راہ کے مقاصد کو ناکام کریں اور دوسری طرف اس جدو جہد کو سپورٹ کریں

یقینا آپ سارے اس عورت دشمنی کا حصہ ہیں نہ اسے پسند کرتے ہیں۔ آپ سارے ایسے نہیں ہیں کہ جو عورت کو کمتر یہ دوسرے درجے کا شہری سمجھتے ہیں۔ اپ سارے وہ نہیں ہیں جو حقوق نسواں کے انکاری ہیں۔ آپ میں سے سارے وہ نہیں ہیں جو عورت کے وجود و اس کی زندگی کے فیصلوں میں اس کی مرضی کے انکاری ہیں۔ مگر بہت سے ایسے ہیں۔ اور انھہی بہت سوں کے خلاف یہ جنگ ہے۔ جسے آپ کے ساتھ، آپ کی مدد اور آپ کی طاقت کے بغیر جیتنا مشکل ہے اور اس میں آپ کا ساتھ اتنا ہی ضروری ہے جتنا آپ کی جنگوں میں عورتوں کا۔

تو جیسے میرے رب نے عورت و مرد کو ایک دوسرے کا سہارا بنایا ہے ویسے ہی اس عظیم مقصد میں بھی اپکے سہارے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ دل بڑا کیجیے اور بسم اللہ کیجیے۔ خدا کی قسم معاشرتی جنت نظیر ہوگا۔

# 8 مارچ
#حقوق۔ نسواں۔ کا۔ عالمی۔ دن
#مرد۔ عورت۔ ہمقدم

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *