ہالی وڈ میں سیکس مناظر کو محفوظ بنانے والی خواتین

ویلیریا پراسو - نمائندہ سوشل افیئرز، بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیکس کریوگرافی
انٹیمیسی کوآرڈینیٹرز اداکاروں اور پروڈکشن سے وابستہ افراد کو گلے لگانے، چومنے اور عریانیت والے حساس جنسی مناظر فلمانے میں مدد فراہم کرتی ہیں

ایلیسیا روڈیز ایک مقصد کے ساتھ نیویارک میں بنے ایک سیٹ پر آئیں اور وہ مقصد ایک بڑے امریکی نیٹ ورک کے لیے بنائی جانے والی ٹی وی سیریز میں ایک انتہائی پیچیدہ اور نڈر گروپ کے جنسی منظر کی شوٹنگ کی نگرانی ہے۔

وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے یہاں موجود ہیں کہ ہدایت کار اس منظر میں حصہ لینے والے 30 اداکاروں میں سے ہر ایک کی طرف سے مقرر کردہ جنسی قربت کی حدود کا مشاہدہ کرے۔ وہ ایک بڑی سپریڈ شیٹ پر ان کی رضا مندی کا جائزہ لیتی ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا ج اسکے کہ جب کیمرا رول ہو تو ہر شخص مطمئن نظر آئے۔

شہر کے کسی اور حصے میں بنے تھیٹر میں، چیلیسا پیس ایک جوڑے کے قربت کے لمحے کی کوریوگرافی کر رہی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’یہاں کوئی آپ کے جسم کو ٹٹولتا نہیں ہے۔ سٹیج کی سمتوں کی ترجمانی کے لیے غیر جنسی زبان استعمال کرتے ہوئے جب یہ دونوں اداکار حرکات کے ایک عمل کو دہراتے ہیں تو وہ اپنے ساتھی کے جسم کے سامنے والے پٹھوں کی سطح پر اس سے رابطہ کرتے ہیں۔`

انٹیمیسی کوآرڈینیٹرز: جنسی مناظر کی محفوظ عکس بندی میں معاونت کرنے والی خواتین سے ملیے

چند سال پہلے تک یہ خواتین ایسا کوئی کام نہیں کر رہیں تھیں لیکن اب وہ انٹرٹینمنٹ کی صنعت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے پیشوں میں سے ایک کا حصہ ہیں۔

سیکس کوریوگرافی

تربیت یافتہ سہولت کاروں کی حیثیت سے اداکاروں اور پروڈکشن سے وابستہ افراد کو گلے لگانے، چومنے اور عریانیت والے حساس جنسی مناظر فلمانے میں وہ مدد فراہم کرتی ہیں۔

چند ہفتے قبل نامور امریکی اداکاراؤں کی یونین ایس اے جی۔ایف اے ایف ٹی آر اے نے ایک اہم دستاویز جاری کی جس میں ان ماہرین کی خدمات کے ذریعے جنسی مناظر کو باقاعدہ حیثیت دی گئی۔ انٹرٹینمنٹ کی صنعت میں جنسی بدسلوکی کو روکنے کے لیے یہ ایک وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔

ایس اے جی۔ایف اے ایف ٹی آر اے کی صدر گیبریلیا کارٹریس کا کہنا ہے کہ ’ایسا ہمارے اراکین کی حفاظت کے لیے کیا گیا ہے۔ اداکاروں اور خاص طور پر خواتین نے اپنی کہانیاں شیئر کیں۔ صرف وائن سٹائن کے بارے میں ہی نہیں، بلکہ بہت سے دوسروں کے بارے میں بھی۔‘

ہالی وڈ کے سابق فلم ساز ہاروی وائن سٹائن کو گذشتہ ماہ ایک امریکی عدالت نے جنسی جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا۔

ان کے خلاف الزامات نے می ٹو اور ’ٹائمز اپ‘ جیسی تحریکوں کو بڑھانے میں مدد کی۔ اس کے بعد کے دو برسوں میں ہالی وڈ میں انٹیمیسی کوآرڈینیٹرز کی مانگ بڑھ گئی ہے۔

پہلی بار فائٹ کوریوگرافر کی تربیت حاصل کرنے والی ایلیسیا روڈیز کا کہنا ہے ’ہمارے پاس اسسٹنٹ کوآرڈینیٹر ہیں اور ہم کوریوگرافی، فائٹ اور جسمانی تشدد والے مناظر میں لوگوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔‘

’لیکن جب قربت اور عریانی کی بات کی جائے جو ایک انتہائی خطرے والی صورتحال ہے تو اس پر ذرا بھی غور نہیں کیا گیا۔ یہ چونکا دینے والی بات ہے۔‘

روڈیز اب فل ٹائم انٹیمیسی کوآرڈینیٹر اور انٹیمیسی ڈائریکٹرز انٹرنیشنل کے شریک بانیوں میں شامل ہیں۔

اس صنعت سے وابستہ ماہرین کا اندازہ ہے کہ تقریباً 50 انٹیمیسی سپیشلسٹ اس وقت مختلف قسم کی پروڈکشنز کو معاونت فراہم کر رہے ہیں جن میں زیادہ تر امریکہ، برطانیہ میں ہیں اور ان میں گذشتہ برسوں کے دوران دس گنا اضافہ ہوا ہے۔

بوسہ
قربت کے مناظر کی عکس بندی

طاقت کا عدم توازن

ہدایت کاروں کی ہدایات کے پیشِ نظر قربت والے مناظر میں تبدیلی کرنا ایک عام سی بات تھی، اس طرح اداکار مناظر کے پیشِ نظر اپنی حدود خود متعین کرتے رہتے تھے۔

پیس، جنھوں نے سنہ 2017 میں تحقیقاتی گروپ تھیٹریکل انٹیمیسی ایجوکیشن شروع کیا تھا وہ کہتی ہیں: ’ہم اداکاروں کی حقیقی زندگی کے تجربات پر بھروسہ کرتے تھے، ہمیں بس یہ چاہتے تھے کہ ایک اداکار کا ’شوق سے قربت کے لمحات میں بوس و کنار وغیرہ‘ کا نظریہ، ہدایت کار کے نظریے سے مماثلت رکھتا ہو۔‘

ایمیلیا کلارک
ایمیلیا کلارک

انڈسٹری میں طاقت کے توازن کا کھیل، اداکاروں کے لیے صورتحال کو مشکل بنا دیتا ہے۔۔ خاص طور پرخواتین کے لیے۔۔۔ اگر وہ خوش نہیں ہیں اور آواز اٹھانا چاہتی ہیں تو بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

پیس کا کہنا ہے کہ ’خود کو بچانے کا پہلا اصول یہ ہے کہ آپ پوچھے جانے والے ہر کام کا جواب ’ہاں‘ میں دیتے ہیں۔ یہ اداکاروں کی تربیت میں شامل ہے۔‘

اکتوبر 2017 میں ہاروی وائن سٹائن سکینڈل سامنے آنے سے بہت پہلے سے اس معاملہ پر بحث چل رہی ہے۔

سنہ 1972 میں برنارڈو برٹوولوکی کی فلم ’لاسٹ ٹینگو ان پیرس‘ کی فلم بندی کے عشروں بعد ماریہ سنائیڈر نے کہا کہ انھیں اس وقت ’ذلت آمیز رویے‘ اور ’کچھ حد تک عصمت دری‘ کا سامنا کرنا پڑا جب ڈائریکٹر نے اچانک غیر دستاویزی جنسی مناظر شامل کر لیے۔ اس وقت وہ 19 سال کی تھیں۔

ابھی حال ہی میں امیلیا کلارک نے گیم آف تھرونز پر کچھ جنسی مناظر فلمانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان مناظر کو ’خوفناک‘ قرار دیا تھا۔

ایک انٹرویو کے دوران امیلیا کا کہنا تھا ’میں فلم سیٹ پر سب لوگوں کے سامنے مکمل طور پر برہنہ ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ مجھے کیا کرنا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ مجھ سے کیا توقع کی جا رہی ہے اور میں نہیں جانتی ہوں کہ آپ کیا چاہتے ہیں۔۔۔ اور میں نہیں جانتی میں کیا چاہتی ہوں۔‘

لیکن ہالی ووڈ میں می ٹو مہم کے بعد سے چیزیں تبدیل ہونا شروع ہوئی ہیں۔

اس سب صورتحال نے ایک اہم رخ ایچ بی او سیریز ’ڈیوس‘ کے سیٹ پر لیا۔ یہ سیریز سنہ 1970 کی دہائی میں نیو یارک میں پھیلی ہوئی پورن انڈسٹری کے بارے میں ہے۔ ایملی میڈ نے اس سیریز میں ایک جنسی کارکن اور پورن سٹار کا کردار ادا کیا ہے، جب انھیں اپنے عریاں مناظر میں کچھ تبدیلی نظر آئی تو انھوں نے باسز سے اس بارے میں بات کی۔

ایک ایچ بی او انٹرویو کے دوران میڈ کا کہنا تھا ’میں ایک ایسی شخصیت ہوں جس نے اپنے پورے کریئر میں بے شمار جنسی کردار ادا کیے ہیں۔ میں نے اپنا پہلا جنسی منظر 16 سال کی عمر میں فلم بند کروایا تھا۔۔۔ اور کئی بار مجھے اچھا محسوس نہیں ہوا۔۔۔ چاہے اس بات کا ادراک مجھے اسی لمحے میں ہوا ہو یا پیچھے مڑ کر دیکھنے پر مجھے ایسا محسوس ہوا ہو۔‘

پہلی مرتبہ مرکزی دھارے میں شامل کسی ٹی وی نیٹ ورک نے جنسی مناظر کی عکس بندی میں مددگار کے طور پر ایلیسیا روڈیز کی خدمات حاصل کیں۔

ایلیسیا روڈیز
ایلیسیا روڈیز فلم ’ڈیوس‘ کے سیٹ پر

’میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ صفحے پر کیا لکھا ہے، نا صرف اس بارے میں بلکہ جو نہیں لکھا، اس بارے میں بھی بات کریں تاکہ جب ہم سیٹ پر پہنچیں تو ہمیں کوئی سرپرائزز نہ ملے۔‘

’میں ڈائریکٹر کے نظریے کو ہی لے کر چلتی ہوں لیکن ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنانا چاہتی ہوں کہ اداکاری کرتے ہوئے سب اپنی حدود میں رہیں۔‘

بعد میں ایچ بی او نے اعلان کیا کہ نیٹ ورک ہر اس شو کے لیے انٹیمیسی کوآرڈینیٹر سے معاہدہ کرے گا جس میں عریانی کے ساتھ ساتھ دیگر کمپنیاں جیسے کہ نیٹ فلکس، ایمیزون اور ایپل پلس وغیرہ شامل ہوں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 12722 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp