جسم عورت کا مرضی ہماری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سندھی زبان کی ایک کہاوت ہے کہ ”شکم سیری بنیا برداشت کر سکتا ہے یا بھینس“ اور اس کہاوت کا لب لباب یہی ہوگا کہ دولت۔ طاقت اور شہرت کا نشہ ہضم کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

خلیل الرحمان قمر کے ساتھ بھی ایسا کچھ مسئلہ نظر آتا ہے۔ اس بندے سے عزت و شہرت ہضم نہیں ہو پا رہی۔

آپ اس بندے کے مختلف انٹرویوز دیکھیں بہت ہی گھمنڈی۔ متکبر۔ خود پسند اور نرگسیت کا شکار نظر آئے گا۔ اور یہ غرور ”میرے پاس تم ہو“ ڈرامے کے بعد دگنا چوگنا ہوگیا تھا۔

میں ماروی سرمد کے ساتھ اس کی گالم گلوچ والی گفتگو دیکھ کر سوچ رہا تھا یہ عورت کی طرف ہماری روش کی مجموعی تصویر ہی تو ہے۔ پدرسری معاشرے میں صدیوں سے عورت پیر کی جوتی ہی تو تصور کی جاتی رہی ہے۔

یہ وہ سماج ہے جہاں پیروں کی درگاہوں پر اور مساجد میں اولادِ نرینہ کی دعائیں مانگی جاتی ہیں اور بیٹی کے جنم کی مبارک کوئی نہیں وصول کرتا۔ بیٹے کو جنم دینے کے بعد ہی جاکر گھر میں عورت کو سکون کی روٹی نصیب ہوتی ہے۔

خلیل الرحمان قمر اپنی سوچ اور روش میں اکیلا نہیں آپ کو دفتروں میں، گھروں میں، گلی کوچوں اور چوراہوں پر مطلب کہ ہر جگہ ایسے کئی خلیل الرحمان قمر مل جائیں گے جن کے شب و روز عورت دشمنی میں صرف ہوتے ہیں۔ ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ سن کر ان لوگوں کا کلیجہ کھول اٹھتا ہے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ یہ دراصل پرورش اور ماحول کا نتیجہ ہے۔

اکثر و بیشتر گھروں میں بیٹے اور بیٹی کے ساتھ والدین کے رویے اور توجہ کی تفریق صاف دکھائی دے گی۔ گھر کے سب معاملات میں لڑکے کو اولیت دی جاتی ہے۔ باپ تو اپنی جگہ۔ ماں جو کہ خود ایک عورت ہوتی ہے بیٹے کو کھانہ پہلے دیگی۔ بچی کو یہ بول کر چپ کرایا جاتا ہے کہ ”پہلے بھائی کھانا کھا لے پھر تم کھانا“

اسکول ایج سے یونیورسٹی تک لڑکے کو گھر سے زیادہ خرچہ ملتا ہے۔ ”لڑکی کی تعلیم و تدریس کے معاملے میں خاص توجہ نہیں دی جاتی۔

یہ تو ہے ہمارے پڑھے لکھے باشعور اور مہذب کہلانے والے اکثر گھروں کی مجموعی تصویر۔ اور دیہات کا تذکرہ تو آنسوؤں میں کیا جائے تو بہتر ہوگا۔

دیہات میں ہر مرد اپنے رویے میں ماشا اللہ ہمارے ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمان قمر صاحب سے دو ہاتھ آگے ہی نظر آئے گا۔

لڑکیوں کی تعلیم جہاں ممنوع ہے۔

”لڑکی کو پڑھ لکھ کر کون سا کلیکٹرنی بننا ہے“ یہ فکرہ بول کر لوگ اپنی بچیوں کو اسکول سے دور رکھتے ہیں۔ بلکہ اگر کوئی سر پھر اس روش سے بغاوت کرکے اپنی بچی کو اسکول بھیجتا ہے تو اس کا جینا اجیرن کر دیا جاتا ہے۔

آپ کو کہانیوں میں۔ افسانے۔ ناول۔ ڈرامے۔ اور فلموں میں عورت کے حوالے سے اخلاقیات کا پرچار ہی نظر آئے گا۔ اور ہر تحریر میں یہ تاثر دلایا جاتا ہے کہ عورت کی عزت محض گھر کی چار دیواری تک ہی محدود ہوتی ہے۔

آپ عورت لفظ کے لغوی معنوں پر ہی غور کرکے دیکھیں جو ہے ”چھپانے کی چیز“

اب جو جو چھپانے کی چیز ہی اسے معاشرے کے ہم خلیل الرحمان قمروں سے کھلے منہ راستوں پر گھومتے ہوے۔ دفتر میں ساتھ بیٹھ کر کام کرتے اور اپنے حقوق کی بات کرتے کیسے برداشت ہو سکتی ہے؟

عورت ہمارے معاشرے میں فقط ایک جسم ہے۔ جس کی ہر حرکت ہماری مرضی کی تابع ہونی چاہیے۔ جب عورت ”میرا جسم میری مرضی“ کی بات کرتی ہے ہمیں اس میں غلاظت اور بے حیائی جھلکتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ جسم پر مرضی سے ہم جنسی خواہشات کے حصول کا نتیجہ اخذ کرتے ہیں جبکہ جسم پر اپنی مرضی کا حق کا مطلب مرضی کی زندگی جینے کا حق بھی تو ہو سکتا ہے۔

عورت کے معاملے میں آیات و احادیث کے حوالات چن چن کر لانے والے حضرات سے کوئی یہ کیوں نہیں پوچھتا کہ وہ زندگی کے اور سب معاملات میں دین کے کتنے پابند واقع ہوئے ہیں؟

جسم پر مرضی کو بی حیائی اور غلاظت اور معاشرتی اقدار کے خلاف ماننے والے ان مردوں کی نظر میں کیا چھ ماہ سے چھ برس کی بچیوں سے زنا بالجبر معاشرتی اخلاقیات کے عین مطابق ہے؟

جس معاشرے کی اخلاقیات اور اقدار کا ببانگِ دھل چرچہ ہو رہا ہے اس میں جنسی ہراسمنٹ کے واقعات روزمرہ کی زندگی کا اب حصہ ہو چکے ہیں۔ جھیز کے نام پر بلیک میلنگ عام ہے۔ معمولی سے گھریلو لڑائی میں عورت جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔ غیرت کے نام پر قتل باعث فخر جانا جاتا ہے۔

اور ہمارے خلیل الرحمان قمر جیسے جیسے راوی چین لکھنے میں مصروفِ عمل ہیں اور انہیں یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ ”عورت مارچ“ سے معاشرے کے اس چین کو ٹھیس پنہچنے کا اندیشہ ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply