عورت مارچ اور ہمارے مرد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مارچ کا مہینہ کیا شروع ہوا، میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک تھرتھلی سی مچ گئی۔ میں حیران ہم تو شاید لڑکپن سے عورت مارچ میں جاتے رہے ہیں۔ عورتیں تقریریں کرتی تھیں ترانے گاتی تھیں اور مشعلیں جلا کر اپنے مطالبات پیش کردیتی تھیں۔ جس مرد کا دل چاہا شریک ہوا، سنا جس کا دل نہیں چاہا ایک دو مذاق کرکے خاموش ہورہے۔ اورزندگی معمول پر آگئی۔ لیکن گذشتہ سالوں میں کھانا خود گرم کرلو اور میرا جسم میری مرضی کو جس طرح موضوع گفتگو بنایا گیا اس نے بہت سوں کی قلعی کھول دی۔

لیکن بہت سے احباب جن میں مرد حضرات بھی شامل تھے عورت مارچ اور اس نعرے کے حق میں مدلل دلائل دیتے نظر آئے۔ میں آج بہت برسوں کے بعد کراچی کے عورت مارچ میں شامل ہونے کے لیے فیرئیر ہال کے قریب پہنچی تو دروازے پر سب سے پہلے لاتعداد لڑکوں اور ان کی ہیت دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ان میں سے بیشتر کے بارے میں یقین سے کہا جاسکتا تھا ان کو عورت مارچ تو چھوڑیں 8 مارچ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوگا۔ لیکن گیٹ پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ اندر داخل ہونے کے لیے صرف خواتین اور خواتین کے ہمراہ مردوں کو اجازت تھی۔ یعنی بلا مقصد آنے والے بے مراد واپس لوٹ رہے تھے۔

پارک میں داخل ہوئی تو میں نے توقع سے زیادہ سے لڑکوں اور مردوں کو دیکھا، گذشتہ آٹھ برسوں میں اسلام آباد میں بھی بہت سے مرد حضرات عورت مارچ میں آتے تھے لیکن عورتوں کے مقابلے میں ان کا تناسب بہت کم ہوتا تھا۔ کراچی میں یہ تناسب خوشگوار حد تک زیادہ تھا، تو میں نے سوچا کیوں نہ ان سے شمولیت کی وجہ پوچھی جائے۔

اسٹیج کے قریب پہنچی تو عورت مارچ کے بڑے سے بینر کے ساتھ معروف اداکار و صداکارخالد احمد نظر آئے، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ عورت مارچ میں کیوں آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ وہ عورت مارچ اور اس میں عورتوں کے لیے اٹھائی جانے والی آواز کو سپورٹ کرنے آئے ہیں۔ میرے سوال پر کہ نعرہ میرا جسم میری مرضی بہت سے لوگوں کو ناگوار گزر رہا ہے آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو اعتراض ہے ان کے دماغ گندے ہیں اور وہ ہر چیز میں سے نازیبائی کا پہلو نکال لیتے ہیں۔ مردوں کی بڑی تعداد میں موجودگی کو انہوں نے کہا کہ بہت خوش آئند بات ہے کہ مرد حضرات سپورٹ کے لیے عورتوں کے ساتھ موجود ہیں۔

معروف شاعر افضال احمد سید نظر آئے تو میں نے ان سے بھی شرکت کی وجہ معلوم کی ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مارچ میں اس لیے آئے ہیں کہ وہ ہر نا انصافی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی نظموں کے ذریعے بھی یہی پیغام دیتے رہے ہیں کہ ہمارے سماج میں جو ہر طرح کے ظلم، نا انصافی ہورہی ہے اس کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس تحریک کو بہت بڑی تحریک سمجھتے ہیں، اور اس کو بہت آگے بڑھانا چاہیے، ایک سال میں اس کا جتنا اثر ہوا ہے اس کا جلد اچھا نتیجہ نکلے گا۔

”وہ انسان ہے عزت نہیں“ کا پلے کارڈ اٹھائے ایک صاحب سے میں نے اپنا سوال دھرایا تو انہوں نے کہا کہ ہر سال غیرت کے نام پر کتنی بچیاں، عورتیں قتل کردی جاتی ہیں اور اس کے لیے صرف ایک الزام ہی کافی ہے۔ کوئی ثبوت کوئی منصفی نہیں چاہیے۔ مارچ میں آتے ہوئے یہاں ڈیوٹی پر موجود پولیس والے اس طرح میری ساتھ آنے والی خواتین کو گھور رہے تھے کہ میں بے چین ہوگیا۔ مجھے لگا کہ میں ان کے آگے نہیں بلکہ پچیھے چلنا چاہیے اور اسی طرح ان کو سپورٹ دے سکتا ہوں۔

عورت مارچ میں شامل ایک صاحب کا کہنا تھا کہ ان کو بہت زیادہ معلوم نہیں لیکن یہ عالمی مطالبہ ہے اور جسم اور اس کی مرضی کا مطلب غلط نہ لیا جائے بلکہ اس کا مطلب بچہ پیدا کرنے کے فیصلے میں اس کا اختیار اور مرضی شامل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بہن مارچ میں شریک ہونے آرہی تھیں تووہ اوران کے بہنوئی ساتھ آئے تاکہ عورتوں کی حقوق کی جدوجہد میں ساتھ دے سکیں۔

ایک طالب علم پلے کارڈ لیے کھڑا تھا اوراس میں خلیل قمر کی تصویر لگی تھی، لکھا تھا ”میری نہیں تو کیا اس کی مرضی“۔ میں نے اس سے بات کی تو اس نے کہا کہ یہ مارچ عورتوں کے مطالبات پیش کرنے کا انتہائی مناسب طریقہ ہے اور ان کے خیال میں ہر مردو عورت کو اپنے وجود پر اختیار کا حق ہے جو اس کو ملنا چاہیے، نہیں تو خلیل قمر جیسے لوگ انسانوں کی بے عزتی کرنا اپنا حق سمجھنے لگتے ہیں۔

کراچی کے عورت مارچ میں شامل مارٹن نامی شخص سے بھی بات ہوئی جن کا تعلق برطانیہ سے ہے اور وہ آج ہی پاکستان پہنچے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں گو مساوات ہے لیکن عورتوں کے مساوی حقوق کے حصول کا یہ عمل بہت سست رفتار تھا اور اس کے لیے لمبی جدوجہد کرنی پڑی تھی۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں بھی صرف ایک صدی پہلے تک عورتوں کو مساوی حقوق حاصل نہیں تھے حتکہ کہ ووٹ کا حق بھی نہیں تھا۔ لیکن بہت سارے لوگوں کی مخالفت کے باوجود آج عورت کو مساوی حقوق حاصل ہیں کیونکہ اس کے بغیر جدید دنیا میں گزارہ نہیں۔

کراچی کے پرامن عورت مارچ میں دھمال ہورہا تھا کہ خبر آئی کہ اسلام آباد میں ہونے مارچ پر ہونے والے پر پتھراؤ ہوا ہے۔ جہاں کچھ دیر قبل میرے احباب سوشل میڈیا پر لائیو نظر آرہے تھے میں نے ان سے خیریت پوچھی تو یہ ذکر بھی ہوا کہ مردوں کے مارچ میں جانے کی کیا وجہ ہے۔

نیاز ندیم، ڈیموکریٹ گورننس اور مادری زبانوں کے حقوق کے لیے کام کرتے ہیں نے کہا کہ میری ذاتی تربیت اور تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ ہمارے سماج کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ عورت کا با اختیار نہ ہونا ہے۔ہمارے کچھ مردوں کو ”میرا جسم میری مرضی“ جیسے نعرے میں مسئلہ دکھائی دیتا ہے اور فحاشی نظر آتی ہے لیکن میری نظر میں اس نعرے میں، میری ماں کا مکمل درد سمایا ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میری ماں کی اپنے جسم پر مرضی ہوتی تو وہ تیرہ حمل کے بجائے چار پانچ پر رک پاتیں تو شاید صحت مند رہتیں اور دس پندرہ سال مزید زندہ رہتیں۔ میری ماں کے درد نے مجھے بچپن سے ہی فیمنسٹ بنا دیا اور مزید انسانی حقوق کی تعلیم اور پریکٹس نے میرے فیمنسٹ نظریات کو مستحکم کیا۔

اسلام آباد سے ایک اور صاحب، فہد رضوان جو اسلام آباد میں باغبانی کا رضاکارانہ کام بڑے پیمانے پر کرتے ہیں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کی بہن۔ ان کی بیٹی اور پاکستان کی کسی عورت کے ساتھ میریٹل ریپ نہ ہو، وہ چاہتے ہیں کہ ان کی بہن، ان کی بیٹی اور پاکستان کی ہر عورت کو جائیداد میں برابر کا حصہ ملے۔ وہ چاہتے ہیں کہ میری بہن، میری بیٹی اور پاکستان کی ہر عورت کی عدالت میں گواہی پوری ہو۔ وہ چاہتے ہیں ان کی بہن، ان کی بیٹی اور پاکستان کی ہر عورت اپنے معاملات طے کرنے میں آزاد ہو اور عورتوں کے حقوق کے حق میں وہ اس مارچ میں شامل ہوئے۔

مارچ سے باہر نکل رہی تھی تو میرے تیرہ سالہ بیٹے نے ایک جملہ کہا کہ ”مجھے یہاں آکر کر خوشی ہوئی اور ان مردوں کی باتیں سن کر اطمینان“۔ میں نے پوچھا کیوں تو کہنے لگا کہ شکر ہے سارے مرد ایک طرح نہیں سوچتے کہ اپنے لیے کچھ اور عورتوں کے لیے کچھ اور۔ ان سب مرد حضرات سے بات کرکے میرے دل میں جو اطمینان پیدا ہوا تھا، مستقبل کے مرد کے اس جملے نے مجھے مکمل طور پر خوش کردیا کہ ہمارا آج آسان نہیں لیکن کل روشن ہے جس میں عورت و مرد کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔

نصرت زہرا اردو زبان کی مصنفہ، مترجم، ثقافتی اور جمہوری حقوق کی کارکن اور صحافی ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے جمہوری حکمرانی اور ترقیاتی شعبے سے وابستہ رہی ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں ملازمت اختیار کی ہے۔ انڈس کلچرل فورم کے بورڈ آف گورنر کی ممبر ہیں اور پاکستان کی مادری زبانوں کے ادبی میلے کے انعقاد میں کلیدی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *