کورونا کی عالمی وبا کے دنوں میں پاکستان کی مادری زبانوں کا ادب

(اس مضمون کا متن انڈس کلچرل فورم کی جانب سے 21 فروری کو اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان کی مادری زبانوں کے ادبی میلے میں پیش کیا گیا، جو معمولی ترامیم کے ساتھ ’ہم سب‘ کے قارئین کے لئے حاضر ہے۔ تاہم یہ ایک سرسری جائزہ ہے جو کسی بھی صورت پاکستان کی مادری زبانوں میں ہونے والے کام کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔ یہ موضوع ایک مفصل اور جامع تحقیق کا متقاضی ہے جس کے لئے یہ مضمون ناکافی

Read more

عورت مارچ اور ہمارے مرد

مارچ کا مہینہ کیا شروع ہوا، میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک تھرتھلی سی مچ گئی۔ میں حیران ہم تو شاید لڑکپن سے عورت مارچ میں جاتے رہے ہیں۔ عورتیں تقریریں کرتی تھیں ترانے گاتی تھیں اور مشعلیں جلا کر اپنے مطالبات پیش کردیتی تھیں۔ جس مرد کا دل چاہا شریک ہوا، سنا جس کا دل نہیں چاہا ایک دو مذاق کرکے خاموش ہورہے۔ اورزندگی معمول پر آگئی۔ لیکن گذشتہ سالوں میں کھانا خود گرم کرلو اور میرا جسم میری

Read more

انیس عورتیں۔ سندھی ناول کے اردو ترجمے پر تبصرہ

بچپن سے الف لیلیٰ کی کہانیوں میں پڑھتے آئے کہ ایک شہزادے نے کبھی سات مشکل سوالوں کا جواب دے کرتو کبھی دیو سے مقابلہ کرکے اپنی محبت کوقید سے چھڑایا۔ بہت تخیلاتی اور خوش گوار احساس ہوتا تھا، لیکن یہ سوال بھی کہ ہمیشہ یہ ظالم بادشاہ یا دیو بیچاری شہزادیوں کو کیوں قید کرلیتے ہیں۔ اور ان کی آزادی اتنی جوکھم کا کام کیوں ہوتی ہے۔ پھر یہ کہ شہزادی ہمیشہ اتنی کمزور کیوں ہوتی ہے؟ بڑے ہونے

Read more

ایک مکمل نامکمل ناول – سندھی ناول موہن جودڑو کے اردو ترجمے پر تبصرہ

مجھے ہمیشہ اچھا لگتا تھا کہ دنیا بھر کے بڑے ناول، کہانیاں اردو میں ترجمہ ہوکر مجھے ملتی تھیں کہ میں بغیر کسی دوسری زبان کی دیوارپھلانگے دھم سے اس دنیا میں کود جاتی تھی، ان کرداروں کے ساتھ ان کے تہواروں میں شریک ہوتی، کبھی گرجا گھروں میں تو کبھی معبدوں میں، کبھی لاطینی امریکہ کی فضا میں سانس لیتی تو کبھی روس کی سخت سردی میں ان کرداروں کے ساتھ سماوار سے قہوہ پیتی اور باہر نکلتے ہوئے اپنے اور گھوڑے بان کے منہ سے نکلتی بھاپ والے منظرکا کراچی کی ہلکی پھلکی سردی میں لطف اٹھاتی۔

Read more

کھیل، لڑکیاں اور میڈیا

اماں ہالینڈ جارہی ہیں۔ تو وہاں جاکر سائیکل چلائیے گا۔ میرا گیارہ سالہ بیٹا بولا تھا، میرے لال مجھے سائیکل چلانی نہیں آتی۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ آپ اور بابا نے تو مجھے سکھائی ہے۔ بیٹا ایسا ہی ہے میں نے جواب دیا۔ مجھے تو کہا جاتا تھا لڑکیاں سائیکل نہیں چلاتیں۔ کرکٹ نہیں دیکھتیں۔ کیوں؟ کیوں کا جواب تم کو پھر کبھی دوں گی؟ آج جب میں نے یوم خواتین کی مناسبت سے آئے ہوئے تقریبات کے دعوت نامے

Read more

محبت کی زبان میں لکھا گیا ناول

(مقبول ترین سندھی ناول رھجی ویل منظر کے اردو ترجمے منظر جو رہ گیا پر تبصرہ) حیدرآباد لٹریچر فیسٹول دوہزار سترہ کا ایک سیشن۔ جس میں سندھی کے معروف ادیب طارق عالم ابڑو پر بات کرنے اور سننے کے لیے میلے میں موجود شائقین ادب کی بڑی تعداد سندھی لینگوج اتھارٹی کے ہال میں جمع تھی۔ اسٹیج پر گفتگو کے لیے بلائے جانے والے تمام مقررین بیٹھ چکے تھے، طارق عالم ابڑو کے دوست، لیکن مجھے حیرت ہوئی۔ ایک نشست

Read more

دوپٹہ تو اوڑھ لو…

ہائیکنگ کے لیے جاتے ہوئے شاہ فیصل مسجد کے قریب سے گزرےتو پیچھے سے آواز آئی … "دوپٹہ تو اوڑھ لو۔” اب جاگنگ سوٹ میں دوپٹہ ساتھ آیا ہی نہیں تھا تو اوڑھا بھی نہیں ۔۔۔ مڑ کر نہیں دیکھا، معلوم تھا ہو نہ ہو یہ آواز ضیا الحق کی قبر یا اس کے کسی مجاور کی ہوگی … لیکن اس کی قبر پہ تو کوئی  مجاور ہوتا ہی نہیں۔ لیکن دوپٹّے کا خیال آتے ہی پہلے طارق روڈ پر

Read more

ٹیگور صاحب کی چھوٹی سی فرمائش ۔۔۔

رات خواب میں ٹیگور آئےتھے، کہہ رہے تھےجوش صاحب مجھے چڑا رہےہیں کہ ہم دونوں پر پابندی لگی، لیکن ان کو مادری زبانوں کے ادبی میلے میں بلایا اور شامل کیا گیا اور مجھے نہیں کیا۔ مجھےکیوں نہیں کیا؟ جنوبی ایشیا کا واحد نوبل پرائز یافتہ ادیب ہوں۔ زبان بھی1971ء تک اسی ملک کی تھی۔ بھائی، سارا مسئلہ ہی اسی پر شروع ہوا تھا کہ نصاب میں مجھے پڑھانے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ تم لوگ تو پیدا بھی

Read more