ایک مکمل نامکمل ناول – سندھی ناول موہن جودڑو کے اردو ترجمے پر تبصرہ

مجھے ہمیشہ اچھا لگتا تھا کہ دنیا بھر کے بڑے ناول، کہانیاں اردو میں ترجمہ ہوکر مجھے ملتی تھیں کہ میں بغیر کسی دوسری زبان کی دیوارپھلانگے دھم سے اس دنیا میں کود جاتی تھی، ان کرداروں کے ساتھ ان کے تہواروں میں شریک ہوتی، کبھی گرجا گھروں میں تو کبھی معبدوں میں، کبھی لاطینی امریکہ کی فضا میں سانس لیتی تو کبھی روس کی سخت سردی میں ان کرداروں کے ساتھ سماوار سے قہوہ پیتی اور باہر نکلتے ہوئے اپنے اور گھوڑے بان کے منہ سے نکلتی بھاپ والے منظرکا کراچی کی ہلکی پھلکی سردی میں لطف اٹھاتی۔

Read more

کھیل، لڑکیاں اور میڈیا

اماں ہالینڈ جارہی ہیں۔ تو وہاں جاکر سائیکل چلائیے گا۔ میرا گیارہ سالہ بیٹا بولا تھا، میرے لال مجھے سائیکل چلانی نہیں آتی۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟ آپ اور بابا نے تو مجھے سکھائی ہے۔ بیٹا ایسا ہی ہے میں نے جواب دیا۔ مجھے تو کہا جاتا تھا لڑکیاں سائیکل نہیں چلاتیں۔ کرکٹ نہیں دیکھتیں۔…

Read more

محبت کی زبان میں لکھا گیا ناول

(مقبول ترین سندھی ناول رھجی ویل منظر کے اردو ترجمے منظر جو رہ گیا پر تبصرہ) حیدرآباد لٹریچر فیسٹول دوہزار سترہ کا ایک سیشن۔ جس میں سندھی کے معروف ادیب طارق عالم ابڑو پر بات کرنے اور سننے کے لیے میلے میں موجود شائقین ادب کی بڑی تعداد سندھی لینگوج اتھارٹی کے ہال میں جمع…

Read more

دوپٹہ تو اوڑھ لو…

ہائیکنگ کے لیے جاتے ہوئے شاہ فیصل مسجد کے قریب سے گزرےتو پیچھے سے آواز آئی … "دوپٹہ تو اوڑھ لو۔" اب جاگنگ سوٹ میں دوپٹہ ساتھ آیا ہی نہیں تھا تو اوڑھا بھی نہیں ۔۔۔ مڑ کر نہیں دیکھا، معلوم تھا ہو نہ ہو یہ آواز ضیا الحق کی قبر یا اس کے کسی…

Read more

ٹیگور صاحب کی چھوٹی سی فرمائش ۔۔۔

رات خواب میں ٹیگور آئےتھے، کہہ رہے تھےجوش صاحب مجھے چڑا رہےہیں کہ ہم دونوں پر پابندی لگی، لیکن ان کو مادری زبانوں کے ادبی میلے میں بلایا اور شامل کیا گیا اور مجھے نہیں کیا۔ مجھےکیوں نہیں کیا؟ جنوبی ایشیا کا واحد نوبل پرائز یافتہ ادیب ہوں۔ زبان بھی1971ء تک اسی ملک کی تھی۔…

Read more