میں عورت ہوں میں سامراج کے لئے خطرہ ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حسین کا سر نیزوں پر تھایزید فتح کا جشن منا رہا تھا اور کیوں نہ مناتا وہ اس سے پوچھنے والا کون تھا۔ اور اس سے کوئی کیونکرپوچھتا کہ بھئی تم نے یہ ظلم کیوں کیا سب یزید کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے اور کوئی نہ تھا جو ظلم کو ظلم کہی دیتا یوں تو وہاں پر ہزاروں مرد تھے دربار ہزاروں مردوں سے بھرا پڑاتھا، اور سبکو پتہ تھا آل رسول کا مقام کیا ہے مگر للکارصرف اور صرف ایک خاتون کرتی ہے۔ یزید کی مستی اور تکبر کو بی بی زینب للکارتی ہے۔

اورتاریخ یہ کیسے بھول سکتی ہے کہ جب بی بی زینب نے فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور یزید تو ظالم ہے اور ظالم کے خلاف جنگ جاری رہے گی اور پھر وقت نے دیکھا کہ بی بی زینب ہی اس فتح مبین کی روح رواں تھی۔ جس نے یزیدی حکومت کا خاتمہ کیا روسی بادشاہت کے خلاف ایک عظیم جدوجہد نے نیکولس ٹو کی بادشاہت کو ختم کیا یہ تو ہمیں معلوم ہے مگر ہم یہ جاننے کی کوشش نہی کرتے کہ یہ کبھی نہ ہوتا اگر اس انقلاب کی روح رواں روس کی محنت کش عورتیں نہ ہوتی یعنی دنیا میں پہلے سوشلسٹ انقلاب کا محرک خواتین تھی۔

یہ باتتں یہاں پر رک نہیں جاتی ہیں آس پاس نظر دوڑائیں انگریزوں کی عظیم سلطنت کو میدان جنگ میں کس نے شکست دی ایک کمزور میوند کی ملالہ ہاں جن کا سورج غروب نہی ہوتا تھا ان کے تکبر کے سورج کو ایک بکریاں چرانے والی لڑکی نے ختم کیا۔

پاکستان کی تاریخ کے سب سے مضبوط ڈکٹیٹر کا سورج اپنے آب وتاب پر ہوتا ہے جمہوریت کے بڑے بڑے پہلوان نظر نہی آتے ایک کمزور سی خاتون وقت کی مضبوط ترین امریت سے لڑنے کا فیصلہ کرتی ہے اور آپ اس کمزور خاتون کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگائے سکتے ہیں کہ سیاست کے بڑے بڑے نام حتیءکہ ولی خان بھی فاطمہ جناح کی امامت میں صف آراءہوجاتے ہیں۔

ضیاء کو ظلمت میں تبدیل کرنے والی ایک نہتی لڑکی جس کے سامنے بڑے بڑے جرنیل گر جاتے ہیں۔ ہاں ایک نہتی بے نظیر۔

اور ابھی کل ہی کی بات ہے جب طالبان اپنے ظلم کے ساتھ فرعونیت کے درجے پے پہنچ گے تھے یہ وہی طالبان ہیں جس سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر اعلی ڈر جاتا ہے۔ جس کو موجودہ حکمران دفاتر کھول کر دیتے ہیں۔ مگر ایک تیرہ سالہ ملالہ ان کے خلاف قلم لے کر کھڑی ہوجاتی ہے آپ اندازہ لگائیں ایک تیرہ سالہ بچی کے پاس نہ تو بندوق تھی نہ ہوائی جہاز آج بھی اس کا نام۔ اس دہشت کے نظرئیے کے لیے دہشت ہے۔

یہ سب بیان کرنے کا مقصدایک ہی ہے کہ واقعی ڈر جاؤ دنیا بھر کے ظالموں عورت بہت خطرناک ہے اس پر جتنی پابندیاں لگا سکتے ہوں لگا لو کبھی مذہب کبھی رسم رواج کبھی اقدار کبھی معاشی، سیاسی سماجی اور نفسیاتی دباؤ اپنے سب ہتھیاروں کے سامنے سے عورت کے آگے سب آراء ہو جاؤ ورنہ تمہارا یہ نظام جو آپ نے بہت سے سہاروں مفروضوں ظلم اور جبر کی بنیاد پر کھڑا کر رکھا ہے یہ گرنے والا ہے اور اس نظام کو گرانے والی عورت ہی ہو گی۔

کیا کسی نے کبھی غور کیا ہے کہ یہ محض ایک اتفاق ہے کہ دنیا بھر کے مرد تہذیب ملا اور پنڈت ویسے ہی ڈرے ہوئے ہیں عورت مارچ سے یا عورت کی سیاسی بیداری سے ہر گز نہی یہ سب نظریہ سامراج کا ایک منصوبہ ہے کیونکہ سامراج کو معلوم ہے کہ ان کا یہ ظلم نظرئیہ کھڑا ہی غلاظت اور بربریت پر ہے اور اس نظرئیے کو اس ہی دن شکست ہو گی جب سب عورتیں انقلاب کے لیے کھڑے ہوں گے۔

میرا جسم میرا حق جیسے انقلابی نعرے کو آپ سیکس سے ملا کر کتنی دیر تک عورتوں کا راستہ روک سکتے ہو۔ یہ ظلم کا نظام ختم ہونا ہی ہے اس نے ختم ہونا ہی ہے۔ یزید کی دربار سے لے کر قصور کی زینب تک سب اس ظلم کے خلاف مظلوموں کی جدوجہد جاری ہے جس کی آبیاری عورتوں نے اپنے خون سے کی ہے۔

تہذیب اور ملا کے پردے میں چھپ کر آپ کب تک عورتوں پر حملہ آور ہوتے رہیں گے سترہ ہزار معصوم بچوں کے ساتھ ریپ کرنے والے پورن فلموں میں ٹاپ پوزیشن لینے والے مسجدوں، مدرسوں، اسکولوں، کالجوں میں بچوں اور عورتوں کے جسم اور روح پر زخم لگانے والے کس منہ سے تہذیب اور مذہب کی بات کرتے ہیں؟

یہ جو ملا عورت کے خلاف نکلتا ہے جو عورت مارچ کے خلاف نکلتا ہے وہ مانسہرہ کے اس مولوی کے ساتھ کیوں کھڑا ہے جس نے ایک بچے کا سو دفعہ ریپ کیا؟ کیا واقعی معاشرہ یہ چاھتا ہے لوگ یہ چاھتے ہیں کہ مردوں کو آزادی دی جائے کہ وہ یہ سب جرائم کرتے آئیں اور ان سے کوئی نہ پوچھنے والانہ ہو، ان کو کوئی روکنے والانہ ہو۔

تاریخ بدل رہی ہے یہ سماج جتنا جبر کرنا چاھے کر لے اب یہ پدر شاہی ظالمانہ نظام نہی چلنے والا۔

ہاں میں انکار کرتی ہوں اس بات سے کہ میں کسی بھی مرد سے کم ہوں، میں انکار کرتی ہوں اس نظام سے جس میں اسکول صحت تعلیم فیصلہ سازی کا حق کسی مرد کے پاس ہو، میں انکار کرتی ہوں اس بات سے کہ بیٹے کے لیے دس دفعہ بچے پیدا کروں، میں انکار کرتی ہوں کہ میں اپنے آپ کو حلالہ کے لیے پیش کروں، میں ونی ہونے سے انکار کرتی ہوں، میں خاوند اور بھائی کے گالم گلوچ اور تھپڑ کے بدلے میں خاموش رہنے سے انکار کرتی ہوں۔ اور دنیا بھر کے مردوں کو یہ پیغام ہے کہ میں انسان ہوں تم میرے خدا نہی ہوں میں اپنے خدا کو جوابدہ ہوں اور میرے جسم سے پیدا ہو کے میرا خدا بننے کی کوشس مت کرو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *