خواتین کا عالمی دن، مغاشرتی رویے اور خواتین باہم معذوری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے ”جینڈر سوشل نارم۔ صنفی معاشرتی اصول“ انڈیکس نے 75 ممالک میں سیاست اور تعلیم جیسے شعبوں میں صنفی تعصب کا تجزیہ کیا، جس کی رپورٹ 6 مارچ 2020 شائع کی گئی ہے۔ اس تحقیق میں پتا چلا ہے کہ اس وقت دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں ہے جو مکمل طور پر صنفی مساوات کا حامل ہو۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر، قریب 50 ٪ مردوں نے کہا کہ انہیں روزگار اور ملازمت کے حصول پر خواتین کے مقابلے میں زیادہ حق ہے۔ تقریبا ایک تہائی ریسپونڈنٹس یا جواب دہندگان کا خیال تھا کہ مردوں کے لئے اپنی بیویوں کو مارنا قابل قبول ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق، دنیا کے نصف مرد اور خواتین یہ محسوس کرتے ہیں کہ مرد بہتر سیاسی رہنما ہوتے ہیں۔

خواتین کے عالمی دن کی آمد ہے اور اس دن کے حوالے سے بہت ضروری ہے کہ ہم معاشرے کے ان طبقات کے مسائل پر ضرور بات کریں جن کو اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اس نقطہ نظر سے خواتین باہم معذوری کی مشکلات اور ان کو درپیش مسائل پر بات کرنا بہت اہم ہے۔ ہم افراد باہم معذوری کے ساتھ ہونے والے نامناسب معاشرتی رویوں کا جائزہ لیں تو اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ خواتین باہم معذوری کو دوگنی نہیں بلکہ تگنی مشکلات کا سامنا ہے۔ سب سے پہلے بطور خاتون، دوسری وجہ وسائل کی کمی اور فیصلہ سازی کے عمل میں شامل نہ ہو سکنا اور تیسری اہم وجہ معذوری کی وجہ سے درپیش مسائل جو خواتین کے لئے مرد حضرات سے کہیں زیادہ شدید ہیں۔

پسماندہ آبادی اور دیہی علاقوں میں معذوری کی شرح دگنی ہو جاتی ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق عالمی سطح پر ہر پانچ میں سے ایک عورت معذوری کے ساتھ زندگی بسر کررہی ہے۔ کم آمدنی والے مملک میں معذور افراد کاتین چوتھائی حصہ خواتین پر مشتمل ہیں۔ معذوری، صنفی عدم مساوات اور امتیازی سلوک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ معذور خواتین کی معذوری کی ایک وجہ تو پیدائشی معذوری ہے لیکن ان کی ایک بڑی تعداد صنفی استحصال، صنفی تعصب اور تشد د کا شکار ہونے کی وجہ سے معذور ہو جاتی ہیں۔ گھریلو اور معاشرتی سطح پر وسائل کی غیر مساوی تقسیم اور خواتین کی رائے کو اہمیت نہ دینا بھی ان خواتین کے مسائل میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں۔ جس طرح غربت معذوری کی ایک اہم وجہ ہے، اسی طرح صحت، صنف اور معذوری کے درمیان بھی مضبوط تعلق ہے۔

خواتین، بشمول نوعمر اور نو عمر معذور خواتین، کو صحت کی سہولیات تک رسائی کے لیے مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے تو ان کے خاندان کے لوگ ان کی صحت کو اہمیت نہیں دیتے اور اس کے علاوہ وسائل تک رسائی نہ ہونا ان کے لئے صحت کی سہولیات کے حصول کو ناممکن بنا دیتا ہے۔

صنفی مساوات کے حصول اور خواتین کو با اختیار بنانے کے لئے بہت ضروری ہے کہ خواتین باہم معذوری کو مغاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کیا جائے۔ اور ان کو زندگی کے ہر شعبے میں شامل کیا جائے

اگر ہم صنفی مساوات کے حصول کے لئے درکار رفتار اور سٹینڈرڈز پر پیشرفت دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں صنفی تعصب کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اور ان اقدامات کا آغاز معاشرے کے سب سے اہم یونٹ ”گھر“ سے کرنا ہوگا اور سب سے ضروری سٹیک ہولڈر ”مرد“ کو ساتھ لیے کر آگے بڑھنا ہو گا۔ ماؤں کو بتانا ہو گا کہ آپ نے اپنے بچوں خاص طور پر بیٹوں کی تربیت میں خواتین کی عزت اور مساوی حقوق کی اہمیت کو بار بار دہرانا ہو گا۔

جب آپ دیکھتے ہیں کہ کوئی عورت کی بے عزتی کرتا ہے یا اس کے جائز حقوق سلب کرتا ہے تو اپنے بچے سے اس کے بارے میں بات کریں۔ اپنے بچوں خصوصا بیٹوں سے پوچھیں کہ وہ اس کے بارے میں کیسے محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح کی گفتگو سے نقطہ نظر بہتر اور وسیع ہوتا ہے اور ہم اپنے بچوں کی سوچ اور رویوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

آنے والی نسلوں کو صنفی برابری پرسب سے بہتر تعلیم مائیں ہی دے سکتی ہیں اور اس کے لیے اہم ہے کہ خواتین کو خود اپنے حقوق کی آگاہی اور ادراک ہو اور وہ اپنے حق کے لئے آواز بلند کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *