زبردستی کی شادی رومانوی ہوتی ہے کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افسانے کی حقیقی لڑکی قسط 2

اصل ارمغان اس کے لیے ”عام سا اسلم“ تھا اور بسمہ کو اُس سے بلاوجہ چڑ تھی۔

اس کا بلاوجہ دل چاہتا کہ اسلم کے بارے میں کسی سے باتیں کرے۔ مگر کیا؟ بس یہ سوچ کے رہ جاتی کہ سب کچھ تو اس کے تخیل میں تھا اسی لیے کبھی اپنی قریب ترین دوستوں، فائزہ اور گل بانو سے بھی کچھ نہیں کہہ پائی۔ دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اسے پتا تھا کہ دونوں کا ردِعمل کیا ہوگا۔ فائزہ تو فورا اظہارِ عشق کا مشورہ دے دے گی اور گل بانو ایک لمبا سا لیکچر، عورت اور حیا پہ سنائے گی۔ سچی بات یہ ہے کہ اگر کوئی اور لڑکی اسے ایسا کچھ بتاتی تو وہ بھی شاید ایسا ہی کوئی لیکچر دیتی جس میں عموماً باتیں امی اور دادی کی باتوں کا کاپی پیسٹ ہوتیں۔

وہ اور گل بانو خیالات میں کافی حد تک ایک جیسی تھیں۔ دونوں لڑکوں سے دور دور رہتی تھیں۔ لڑکوں کے اسکول میں ساتھ پڑھنے کے باوجود دونوں بہت ضروری بات ہی لڑکوں سے کرتی تھیں۔ دونوں نے اپنا بڑا سادوپٹہ کھول کے اوڑھا ہوتا اور سر پہ اسکارف بندھا ہوتا جو اسکول آنے سے لے کر چھٹی تک ٹس سے مس نہ ہوتا۔ انہیں ہر وقت یہ لگتا کہ ہر کوئی انہیں پرکھ رہا ہے، ان کی حیا اور شرافت کا ترازو لے کر، اور ان کی کوشش ہوتی کہ ہر ایک کے حیا اور شرافت کے معیار پہ وہ کسی نہ کسی طرح پورا اتریں۔

چاہے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔ اور اپنے انہی اصولوں کی وجہ سے بسمہ مزید الجھن کا شکار تھی۔ فائزہ البتہ ان دونوں سے کافی الگ تھی۔ جو دل میں آیا منہ پہ بول دیا۔ دوپٹہ سر پہ لے کر نکلتی مگر کب وہ دوپٹہ سر سے اتر جاتا اسے فکر ہی نہیں ہوتی اور یونہی ننگے سر گھوم پھر کے آجاتی۔ گل بانو اور بسمہ ٹوک ٹوک کے آدھی ہو جاتیں، انہیں ڈر تھا کسی نے ان کے گھر پہ بتا دیا کہ وہ ایسی لڑکی سے دوستی رکھتی ہیں تو گھر والے دوستی نہ چھڑوا دیں۔

فائزہ دیکھنے میں ٹھیک ٹھاک ہی تھی مگر اس کے باوجود لڑکوں کو فاصلے پہ رکھتی۔ اس کا رویہ بہت عجیب لگتا جیسے وہ لڑکی ہے ہی نہیں نہ لڑکوں سے شرماتی تھی نہ انہیں اپنے طرف متوجہ کرنے کے لئے سطحی حرکتیں کرتی تھی۔ بلکہ کافی اعتماد سے بات کر لیتی تھی۔ ٹیچر جب بھی کوئی کام لڑکوں سے کروانے کو کہتیں تو یہ دونوں فائزہ کو ہی آگے کردیتیں۔

گرمیوں کی چھٹیاں گزار کر دوبارہ اسکول شروع ہوا تو کئی دن تک لگاتار گل بانو آئی ہی نہیں۔ فائزہ اور بسمہ دونوں اپنی اپنی چھٹیوں کی کارکردگی ایک دوسرے کو سنا کر اب گل بانو کا انتظار کر رہی تھیں کہ وہ آئے تو اپنی سنائی جاسکے اور اس کی سنی جاسکے۔ جب پورا ہفتہ گزر گیا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ چھٹی کے وقت نویں جماعت میں پڑھنے والے اُس کے کزن سے پوچھا جائے۔ فائزہ تو کب سے کہہ رہی تھی مگر بسمہ ہی روک دیتی تھی۔ کہ لوگ انہیں ایک لڑکے سے بات کرتا دیکھ کر پتا نہیں کیا سمجھیں ویسے بھی گل بانو چھٹیاں گزارنے گاؤں جاتی تھی اور دو تین دن دیر ہی سے اسکول آنا شروع کرتی تھی مگر پورا ہفتہ لیٹ کبھی نہیں ہوئی۔

چھٹی کی گھنٹی بجتے ہی دونوں کو اپنا ارادہ یاد آیا فائزہ جلدی جلدی اپنا بیگ بند کر رہی تھی جبکہ بسمہ اور سست ہوگئی

”بسمہ جلدی کر وہ نکل جائے گا۔ “

”یار اس سے پوچھنا ضروری ہے کیا۔ کلاس کی لڑکیاں دیکھ لیں گی تو پتا نہیں کیا سوچیں گی تجھے پتا ہے نا کتنی گندی سوچ ہے ان کی۔ “

” بسمہ کسی کی گندی سوچ نہیں مجھے پتا ہے تجھے اپنے جلاد بھائی کا ڈر ہے جو گل بانو کے کزن کا کلاس فیلو ہے“

بسمہ نے آنکھیں بند کرکے لمبا سانس کھینچا۔

”ٹھیک ہے مگر تو بات کرنا“

”“ ہاں کرلوں گی تو چل تو سہی۔ ”

وہ دونوں جلدی جلدی راہداری کے قریبی کونے کی طرف چل دیں جس طرف کلرک آفس تھا۔

طلبہ عموماً اس طرف سے نہیں آتے تھے مگر ان کی کلاس بالکل آخر میں تھی، کلرک آفس کے بالکل ساتھ۔ آج جلدی کی وجہ سے وہ طلبہ والے گیٹ کی بجائے اس طرف آگئیں۔ تاکہ گل بانو کے کزن سے پہلے ہی مین گیٹ تک پہنچ جائیں اور اس سے گل بانو کا پوچھ سکیں۔ یہ آئیڈیا بھی فائزہ کا ہی تھا ورنہ بسمہ ہرگز اتنے رش میں کسی لڑکے سے بات کرنے پہ راضی نہیں تھی۔ اسے مسلسل گھبراہٹ ہورہی تھی۔ حالانکہ اسے پتا تھا کہ فائزہ خود ہی بات کرلے گی۔

کلرک آفس کے سامنے سے گزر کر وہ جیسے ہی گراونڈ میں آئیں تو انہوں نے ایک مرد اور عورت کو ادھر اتے ہوئے دیکھا داخلہ یا فیس کے کاموں سے آنے والے عموما اسی رستے سے آتے تھے۔ مرد کوئی پینتاپیس یا پچاس سال کا انکل ٹائپ تھا جبکہ عورت نے کچھ پرانے سے فیشن کا بڑا سا برقعہ بمعہ نقاب پہنا ہوا تھا تو اس کی عمر کا اندازہ تو نہیں ہوا مگر چال سے وہ کوئی جوان عورت لگ رہی تھی۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ عورت ایک دم جلدی جلدی آگے آنے لگی کہ مرد بہت پیچھے رہ گیا۔ قریب آکر عورت نے نقاب ہٹایا ان دونوں کے منہ سے ایک ساتھ حیرت سے چیخ سی نکلی

”گل بانو۔ “

” کہاں تھی اتنے دن سے؟ یہ کیا ہوگیا تجھے اتنی کمزور کیوں ہورہی ہے۔ اور یہ اسکارف کی جگہ پورا شامیانہ کیوں پہنا ہوا ہے؟ “

فائزہ کے سوالات کی رفتار سے اس کی بے چینی اور پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔

گل بانو بہت عجیب سی لگ رہی تھی کمزور بھی اور اپنی عمر سے بڑی بھی۔

”ٹھیک ہوں یار۔ تم لوگ بتاؤ چھٹیاں کیسی گزریں۔ “

ہمیشہ دھیمے لہجے میں بات کرنے والی گل بانو کا لہجہ آج بھی دھیما تھا، مگر صرف دھیما نہیں تھا کچھ اور بھی تھا اس کے لہجے میں، جو بسمہ کو محسوس ہوا مگر وہ سمجھ نہیں پائی۔

”چھٹیاں تو ٹھیک گزریں۔ تو پیر کو آئے گی تو آرام سے تفصیل بتائیں گے۔ مگر یار اس بار بہت زیادہ چھٹیاں کر لیں تونے، پتا ہے فزکس اور میتھس کا اتنا سارا کام ہوگیا ہے انگلش کی ٹیچر بھی لکھوا لکھوا کے آدھا کر دیتی ہیں۔ “

بسمہ کو فکر تھی کہ گل بانو کی پڑھائی کا کافی حرج ہوگیا ہے۔

”یار میں اب اسکول نہیں آؤں گی۔ لیونگ سرٹیفکیٹ لینے آئی ہوں۔ “

”بانو پاگل ہے کیا تو؟ آدھے سال میں اسکول بدل رہی ہے کہیں ایڈمیشن نہیں ملے گا۔ “ فائزہ اس اچانک انکشاف پہ حیران بھی تھی اور ناراض بھی۔

” کہیں اور ایڈمیشن نہیں لینا بس سرٹیفکیٹ لینا ہے“

”ہوا کیا ہے بانو یار ٹھیک سے بتا نا ایسے کوئی بیچ میں پڑھائی چھوڑی جاتی ہے کیا؟ “

بسمہ تو کچھ ایسی ہکا بکا ہوئی کہ بول ہی نہیں پائی فائزہ ہی نے پوچھا۔

گل بانو نظریں چرانے لگی جیسے اسی سوال سے بچنا چاہ رہی تھی۔

”میرا نکاح ہوگیا ہے گاؤں میں۔ “

”واؤ یار! ہاؤ رومینٹک۔ بتایا کیوں نہیں چپکے چپکے شادی کر لی“

بسمہ سرپرائز قسم کی شادی کا سن کر ایکسائٹڈ ہوگئی۔ اس کی دماغ میں ڈائجسٹ کی کہانیاں گھوم گئیں پہلے اچانک نکاح پھر خوبصورت سے گبرو ٹائپ شوہر سے کچھ ناراضگی کچھ مہینے نرمی گرمی اور پھر بہت سا رومینس۔ ساتھ ہی چند سیکنڈز کے لیے معصوم سی گل بانو کے ساتھ ایک مضبوط جوان کا سراپا لہرایا جو شاید اس سے ذرا بڑا ہی ہو۔ کہانیوں میں بھی تو عموماً ایسی سچویشن میں ہیرو تھوڑا بڑا ہوتا ہے 20 یا 22 سال کا روڈ مگر اصولوں کا پکا۔

مگر کہہ کر اسے احساس ہوا کہ وہ کتنا بے موقع بات کہہ گئی۔ فائزہ اسے غصے سے گھور رہی تھی جبکہ اصل شرمندگی اسے گل بانو کی نظروں سے ہوئی جن میں ناراضگی نہیں تھی، بس عجیب سی بے چارگی تھی۔

فائزہ نے ہونٹ بھینچ لیے پھر کچھ لحظہ رک کے تھوڑا دھیمے لہجے میں بولی۔

” یار مگر پڑھائی چھوڑنے کی تو ضرورت نہیں نا اس میں کیا مسئلہ ہے“

”نہیں یار ایک تو فی الحال میری کنڈیشن ایسی نہیں اور پھر“ اِن ”کی بھی مرضی نہیں۔ “

گل بانو نے جیسے ”اِن“ کہہ کر پیچھے آتے مرد کی طرف اشارہ کیا تو ان دونوں کو احساس ہوا کہ وہ گل بانو کا شوہر ہے۔

”کیا ہوا ہے تجھے طبعیت ٹھیک ہے نا“

ان کا دماغ اس کے شوہر پہ بھی اٹکا مگر اس کا یہ کہنا کہ ”کنڈیشن ایسی نہیں“ زیادہ تشویش ناک تھا۔

”وہ یار! ۔ “ گل بانو کہہ کر تھوڑا رکی پھر جیسے تھوڑی ہمت جمع کی۔

”میں پریگننٹ ہوں“ گل بانو نے ایسے کہا جیسے خود بھی نہ سننا چاہتی ہو۔

”اچھا انہیں دیر ہورہی ہے ہم درخواست دے آئیں۔ “

وہ جلدی سے کہہ کرآگے بڑھ گئی۔

بسمہ کو اپنے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوتے محسوس ہوئے یہ لفظ اس کے اور اس کی عمر کی لڑکیوں کے لیے کتنا ممنوعہ تھا اسے اچھی طرح اندازہ تھا۔ اسے لگ رہا تھا جیسے اس نے سن کے بھی کوئی غیر اخلاقی حرکت کی ہے۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ یہ سب اسے رومینٹک لگنا چاہیے یا خوفناک۔

اس کی بچپن کی دوست جو یہ تک بتاتی تھی کہ گھر میں کس وقت کیا پکا اور کس کس نے نہیں کھایا اور کیوں نہیں کھایا وہ اپنی شادی کا ایسے سرسری سا بتا کے جاچکی تھی۔ وہ دونوں وہاں سن سی کھڑی رہ گئیں۔ پھر سر جھکا کر گیٹ کی طرف بڑھ گئیں دونوں کو ہی پتا تھا کہ دونوں کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔

رکشے میں بیٹھنے تک وہ دونوں بالکل خاموش ہی رہیں پھر بسمہ ہی بولی

”یار اس کا ہسبینڈ (شوہر) کتنا ایجڈ (زیادہ عمر کا) لگ رہا تھا نا؟ “

”ہمم اور بانو کتنی بیمار اور کمزور لگ رہی تھی اور ناخوش بھی۔ اوپر سے تو بھی عجیب ہے کتنا بکواس کمنٹ کیا تھا“ فائزہ نے غصے میں بسمہ کی نقل اتاری۔

”واؤ ہاؤ رومینٹک۔ تو پاگل ہے کیا زبردستی کی شادی رومینٹک ہوتی ہے کیا؟ “ ”

”تجھے کیسے پتا کہ زبردستی کی شادی ہے۔ “ اپنے اوپر الزام آتا دیکھ کے بسمہ بھی تھوڑے جارحانہ موڈ میں آگئی۔

”ہاں واقعی زبردستی تھوڑی ہوئی ہوگی، اس پچاس سال کے بڈھے سے گل بانو کا چکر چل رہا تھا نا۔ بسمہ تو اتنی بچی ہے کیا؟ گل بانو کو نہیں جانتی وہ پڑھنا چاہتی تھی، ایسے اچانک شادی کرے گی؟ “ ”

”تو فضول برے برے اندازے لگا رہی ہے کچھ ایسا ہوتا تو ہمیں ضرور بتاتی۔ ویسے بھی پڑھائی چھوڑنا کوئی اتنی بڑی بات تو نہیں نا بشریٰ آپی کی شادی بھی میٹرک کے امتحانوں سے ایک مہینہ پہلے ہوئی تھی دولہا بھائی نے تو امتحان دینے کی اجازت بھی دے دی تھی بشریٰ آپی خود ہی نہیں گئیں وہ تو بالکل سیٹ تھیں۔ “ ”

اسے خود بھی اپنے دلائل کھوکھلے لگ رہے تھے مگر یہی سب سے سنتی آئی تھی کہ لڑکی کے لیے بس گھر بسنا ہی اہم ہوتا ہے۔

” بسمہ تیری بشریٰ آپی سے کتنی بے تکلفی ہے؟ کتنی راز کی باتیں تم لوگ ایک دوسرے سے شئیر کرتے ہو؟ “

”یار دوستی تو بالکل بھی نہیں، دونوں ہی بڑی بہنیں مجھے ابھی تک چھوٹا سمجھتی ہیں، جب بھی آتی ہیں امی اور دادی سے ہی کوئی باتیں کرتی رہتی ہیں میں ساتھ بیٹھتی ہوں تو امی کسی نا کسی بہانے سے اٹھا دیتی ہیں بقول دادی بیاہی لڑکیوں کی باتوں سے میرا کیا لینا دینا۔ مگر بات تو ان کے گھر میں خوش ہونے کی ہے نا وہ تو یہی بتاتی ہیں کہ وہ بہت خوش ہیں بلا وجہ جھوٹ تھوڑی بولیں گے؟ “

”بسمہ جب پچھلے سال بائیولوجی کی ایک ڈائیگرام پہ میڈم نوشابہ نے تجھے بہت ڈانٹا تھا اور تیرا موڈ اگلے دن تک خراب تھا، منہ اتنا سوجا ہوا تھا تربوز جیسا۔ گھر پہ کس کس کو بتایا تھا؟ “

بسمہ اس بالکل لا تعلق بات پہ تھوڑا چڑ گئی ”اب اس بات کا گل بانو کے مسئلے سے کیا تعلق“

”بتا تو“

”نہیں گھر پہ تو کسی نے پوچھا ہی نہیں کہ موڈ کیوں خراب ہے تم دونوں کو ہی بتایا تھا“ پھر تھوڑا ہنسی۔ ”بتایا کب تھا منہ اور پھُلا لیا تھا تاکہ تم لوگ خود پوچھو۔ “

”بالکل یہی مسئلہ ہے، بسمہ ہم ہر کسی کو سب کچھ نہیں بتا سکتے بلکہ قریبی دوستوں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے رویئے سے ہمارا مسئلہ سمجھ لیں۔ یہی سب میں نے بانو کے رویئے میں دیکھا تیرا کیا خیال ہے وہ دوسروں سے ملے گی تو یہ سب اداسی انہیں نظر آئے گی؟ نہیں بسمہ، وہ چھپا جائے گی۔ “

بسمہ چپ رہ گئی۔ باقی کا سفر خاموشی میں ہی پورا ہوگیا۔

بسمہ گھر آئی تو بھی اس کی آنکھیں لال ہورہی تھیں کسی کو سلام کیے بغیر سیدھی اپنے اور دادی کے مشترکہ کمرے میں گھس گئی۔ پیچھے سے دادی نے کچھ کہا مگر دماغ سن ہورہا تھا کچھ سمجھ نہیں آیا۔ بیگ رکھ کر تھکن زدہ انداز میں بیٹھ گئی۔ اب اسے رونا نہیں آرہا تھا بس سوچیں تھیں جن کی یلغار ختم ہی نہیں ہورہی تھی ایک دم دروازہ کھلا تو وہ چونکی، امی ناراض سی دروازے کے بیچ کھڑی تھیں۔

”بہری ہوگئی ہو کیا؟ باہر سے دادی اور میں آوازیں دے رہے ہیں مجال ہے جو جواب دے جاؤ۔ جیسے جیسے بڑی ہورہی ہو مزاج ہی آسمان پہ پہنچ رہے ہیں۔ ہوا کیا ہے؟ کس کی میت پہ سوگ منا رہی ہو؟ “

اس کا مسئلہ پوچھنے کی بجائے امّی نے پہلے ہی اچھی طرح عزت افزائی کردی۔ ان کا لہجہ ہمیشہ جیسا تھا پہلے تو اسے لگتا تھا سب امیاں ایسی ہی بات کرتی ہیں مگر آج یہی لہجہ بہت تکلیف دہ لگا۔ بہت اجنبیت بھرا، وہ کچھ بول ہی نہیں سکی۔

”اب کچھ بتاؤ گی بھی کہ ماں یونہی کھڑی بکتی رہے“

” امی وہ گل بانو نے اسکول چھوڑ دیا ہے اس کی شادی ہوگئی ہے“

نا چاہتے ہوئے بھی اس کے آنسو بہنے لگے۔

” تو اس میں رونے کی کیا بات ہے اچھی بات ہے بچی وقت سے اپنے گھر کی ہوگئی۔ “

امی اس کے جذبات سے بے پروا اپنی کہتی رہیں۔

”اچھا بس اٹھو منہ ہاتھ دھوؤ، کپڑے بدل کے کھانا کھاؤ۔ عجیب بچے ہیں آج کل کے اتنے نازک مزاج کہ ذرا ذرا سی بات پہ آنسو بہنے کو تیار رہتے ہیں۔ “

امی بڑبڑاتی ہوئی باہر نکل گئیں۔ وہ تھکے تھکے قدموں سے اٹھی اور الماری سے کپڑے نکال کے غسل خانے میں بدلنے کے لیے کمرے سے نکلی تو آوازوں سے اندازہ ہوا کہ امی دادی کو اسی بارے میں بتا رہی ہیں۔ امی نے پتا نہیں کیا کہا تھا جس کے جواب میں دادی کی بات زیادہ واضح سنائی دی۔

” ارے ہاں بڑا ظلم ہوا ہے بچی کے ساتھ وہ تو اب پیٹ سے ہے نا؟ “ آخری بات انہوں نے آواز دبا کے کرنے کی کوشش کی مگر وہ بھی خاصی بلند تھی۔

وہ ٹھٹھک کے رک گئی۔

”انہیں پہلے سے معلوم تھا؟ اور یہ بھی معلوم ہے؟ “

دل شکستگی کا جو احساس اب ہوا پہلے کبھی نہیں ہوا۔

”انہیں پتا ہے کہ گل بانو میری بچپن کی سہیلی ہے اور کتنی گہری دوستی ہے۔ یہ کم از کم مجھے اس کی شادی کا تو بتا سکتی تھیں۔ ان کی اخلاقیات ہماری دوستی سے بھی زیادہ اہم ہیں۔ “ پہلی بار اس کے دل میں باغیانہ خیالات ابھرنے لگے۔

”کیسی ماں ہیں یہ انہیں میرے جذبات کا ذرا سا احساس نہیں“ وہ بہت مایوس سی ہوگئی ورنہ پہلے خود ہی امی اور دادی کے حق میں خود کو دلیلیں دے دیتی تھی مگر آج ان کے رویئے کے لیے کوئی دلیل نہیں مل رہی تھی۔ اسے یہ خود ساختہ اخلاقیات بہت تکلیف دے رہی تھی۔

وہ بہت مایوس سی ہوگئی تھی۔ رات جب تکیہ لے کر لیٹی تو بھی بس یہی سوچیں تھیں نا ارمغان کا خیال چڑا سکا نا اسلم کا خیال چہرے پہ مسکراہٹ لا سکا۔

آج اسے سب کچھ بہت عجیب لگ رہا تھا جیسے آج وہ کسی الگ دنیا سے اس دنیا میں آئی ہو جیسے اصل زندگی وہ نہ ہو جو وہ اب تک سمجھتی رہی تھی۔ اسے ہمیشہ ان مخصوص قسم کی باتوں سے دور رکھا گیا مگر اسی کے سامنے کئی بار امی اور دادی بہت کھلے تبصرے بھی کرتیں اور ڈانٹ اسے پڑتی کہ وہ یہ سب باتیں کیوں سن رہی ہے جبکہ اسے اندازہ بھی نہیں ہوپاتا کہ وہ لوگ کب کوئی ممنوعہ موضوع شروع کردیں گی۔ اسکول میں بائیولوجی کا ایک چیپٹر حذف کروادیا گیا تھا جو بعد میں اُن دوستوں نے چھپ کے پڑھا تھا۔

اسے تب بھی سمجھ نہیں آیا تھی کہ اگر یہ غلط باتیں ہیں تو درسی کتاب میں کیوں ہیں اور اگر کام کی باتیں ہیں تو حذف کیوں کی گئیں۔ کسی استاد کی مدد کے بغیر وہ ٹاپک کچھ زیادہ سمجھ نہیں آیا تھا مگر جتنا سمجھ آیا اس میں اسے کوئی نامناسب بات نہیں لگی تھی۔ مگر وہ کسی سے پوچھ نہیں سکی تھی ہاں ان دوستوں نے آپس میں تھوڑا بات چیت کی مگر گل بانو اور بسمہ خود ہی کافی شرمندہ سی تھیں جبکہ فائزہ کا کہنا تھا کہ اس کی امی کالج میں زولوجی پڑھاتی ہیں وہ چاہیں تو ان سے یہ ٹاپک سمجھ سکتی ہیں۔

مگر گل بانو نے منع کردیا کہ جس چیز کو بڑوں نے منع کیا ہے کچھ سوچ کے ہی کیا ہوگا۔ اس وقت بسمہ کو گل بانو کی بات صحیح لگی تھی۔ مگر آج جو کچھ ہوا اس نے اسے نئے سرے سے جھنجھوڑ دیا تھا۔ ہم سے یہ سب چھپایا جاتا ہے کیونکہ ہم بچیاں ہیں مگر گل بانو یہ سب سہہ کر آئی ہے جبکہ وہ بھی ہماری جتنی ہی بچی ہے اور امی کے لیے یہ سب کوئی عجیب بات نہیں تھی بلکہ بہت خوشی کی بات تھی۔ ایک کے بعد ایک سوچ ایسے آرہی تھی جیسے کمپیوٹر میں وائرس آگیا ہو۔

”مگر انہیں پتا کیسے چلا۔ “

سوچتے سوچتے اس کا دماغ یہاں آکر اٹک گیا۔ وہ ممکنہ رابطے سوچنے لگی گل بانو کا گھر تو اس کے گھر سے کافی دور تھا اس کی اپنی برادری کے محلے میں پھر اسے یاد آیا ہاں اسماء آپی کی دیورانی کا میکہ اسی محلے کے قریب ہے اور ان کی ایک بہن میلاد پڑھنے قریبی محلوں میں جاتی ہیں پہلے بھی ایک دفعہ اسماء آپی نے گل بانو کے کسی ذات برادری کے جھگڑے کا امی کو بتایا تھا جو اس کی ساس کو دیورانی کی والدہ نے بتایا کیونکہ ان کی بیٹی میلاد میں سن کر آئی تھیں۔

اسے تب بھی حیرت ہوئی تھی کہ کسی دوسرے کے ذاتی معاملات کیا اتنے اہم ہوتے ہیں کہ بغیر کسی وجہ بس بات برائے بات ایک دوسرے کو بتائے جائیں؟ اسے یقین ہوگیا کہ اسی ذریعے سے گل بانو کی شادی اور پریگنینسی کی خبر بھی یہاں پہنچی ہوگی۔ وہ تفصیل جاننا چاہتی تھی مگر اسے پتا تھا کہ امی یا دادی اسے کچھ نہیں بتائیں گی۔ اس کا دماغ بار بار فائزہ کی بات پہ جارہا تھا

” تو پاگل ہے کیا! زبردستی کی شادی رومینٹک ہوتی ہے کیا؟ “

صبح آنکھ کھلی تو سر میں شدید درد تھا اور جسم بالکل بے جان محسوس ہورہا تھا بستر سے نکل کر غسل خانے تک جانا مشکل لگ رہا تھا چکراتے ہوئے سر پہ ہاتھ رکھا تو اندازہ ہوا اس کا جسم بخار سے جل رہا تھا۔

جاری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 59 posts and counting.See all posts by absar-fatima

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *