چاچا غفورے کی دکان
ہمارے پرانے محلے میں چند ہی دکانیں تھیں ان میں سب سے بڑی اور شاندار دکان چاچے غفورے کی تھی۔ اس پر رش بھی سب سے زیادہ ہوتا، اور چاچا ہر گاہک کوجی جی کر کے بلاتا اور اگر کوئی بڑا گاہک آتاتو اس کو چائے بوتل بھی پیش کرتا، چاچے کا ایک نعرہ بہت مشہور تھا کہ ”گاہک مائی باپ ہوتا ہے“۔
چاچے کی دکان خوب چلتی اور جو چیز کہیں اور سے نہ ملتی وہ چاچے کے پاس لازمی مل جاتی۔ چاچے کی زبان بھی خوب میٹھی تھی، بچہ، مرد، عورت جو بھی آئے چاچا اس کو حسب منصب لقب کے ساتھ جی لگا کر بات کرتا جیسے باجی جی، بھائی جی، باؤ جی اور بچوں کو پتر جی۔ کبھی کبھی تو حد ہی کر دیتا کچھ بڑے اور ریگولر قسم کے گاہکوں کے تو ہاتھ چوم کر آنکھوں کو لگاتا، ان کے جوتے تک صاف کر دیتا۔ ایک دن چاچے غفورے کی بیوی نے بتایا کہ چاچاکھانے میں پیاز نہیں کھاتا کہ اس کے منہ کی بدبو سے گاہکوں کو تکلیف نہ ہو۔
چاچا دکان کو بھی خوب چمکا کر رکھتا، چاچے کی دکان ہمیشہ صاف ستھری ہوتی بلکہ دکان کے سامنے بھی روز جھاڑو لگاتا اور پانی کا چھڑکاؤ کرتا۔ دکان کے اندر بھی بہت سجاوٹ کر رکھی تھی، ایک اگر بتی تو ہمیشہ اس کی دکان پر جلتی رہتی۔ چاچے کا کاروبار بھی خوب چل رہا تھا۔
لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ جب بڑے بڑے ڈپارٹمنٹل سٹور زبن گئے، چیزیں آن لائن بکنا شروع ہو گیئں، اونچے اونچے پلازے اور شیشے کی دکانیں جہاں برانڈڈ پراڈکٹس بکنے لگیئں، تو چاچے کی دکان بھی پھیکی پڑتی گئی، اب چاچے کی دکان سے نہ تو مہنگی برانڈڈ چیزیں مل سکتی اور نہ ہی بچوں کی نت نئے کھلونے۔ تو چاچے کی دکان پر گاہک بھی کم ہوتے گئے، کاروبار کم ہو ا تو چاچے کی میٹھی زبان بھی کڑوی ہوتی گئی اور دکان کی چمک دمک بھی کم ہوتی گئی۔ وہی چاچا جو ہر کسی کو جی جی کر کے بلاتا تھا اب بات بات پر لڑنے لگ جاتا، وہی چاچا جو پہلے پیاز نہیں کھاتا تھا کہ منہ سے بدبو نہ آئے اب دکان پر سارا دن حقہ پیتا رہتا، اور دوستوں کے ساتھ تاش کھیلتا رہتا، کہاں دکان کے سامنے جھاڑو سے صفائیاں اور کہاں اب دکان ہی مٹی سے اٹی رہتی۔
ایک دن میں چاچے کی دکان پر گیا تو دکان کہ بہت بری حالت تھی، چاچا بیٹھا حقہ پی رہا تھا، اور سامنے بہت سا گندا پانی جمع تھا جس سے بدبو اٹھ رہی تھی اور مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ چاچا بہت غصہ میں تھا شاید بیوی سے لڑ کے آیا تھا یا کسی گاہک سے۔ خیر گاہک تو اب بہت کم آتے تھے۔ میں نے کہا چاچا کم سے کم دکان کی صفائی ہی کر لیا کرو۔ چاچے نے غصہ سے میری طرف دیکھا اور کہا ”میری دکان میری مرضی“


