خوف کی ریاست

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آخر کیوں کفر کی حکومت قائم رہ سکتی لیکن ظلم کی نہیں۔ حضرت علی ؑکے اس فرمان کی گہرائی کا اندازہ اس وقت ہوا جب سٹیفن آر کوے کی کتاب ”سپیڈ آف ٹرسٹ“ نظر سے گزری۔ اس کتاب کے مطابق معیشت کا براہِ راست تعلق ٹرسٹ یعنی اعتماد یا بھروسے کے ساتھ ہونا ہے۔ جہاں بھروسا زیادہ ہو وہاں اخراجات کم ہوتے ہیں اور جہاں بھروسا کم ہو وہاں اخراجات زیادہ ہوتے ہیں۔

اِ س کو سمجھنے کے لئے آپ مُلکی یا عالمی حالات کا مطالعہ کر لیں۔ پاکستان ہی کی بات کریں تو کچھ دہائیاں پہلے تک جب دہشت گردی کے عفریت نے مُلکی سیکورٹی کے بھروسے کو پامال نہیں کیا تھا تو عام شہری ہر جگہ بے خوف جا سکتا تھا۔ یہاں تک کہ اگر ائیر پورٹ کِسی کو لینے یا چھوڑنے جانا ہوتا تو تقریباً جہاز کے پاس تک پہنچنا بھی مشکل نہیں ہوتا تھا۔ تب سیکورٹی سکینرز، کیمرے اور ہر جگہ سیکورٹی گارڈ موجود نہیں تھے اور ظاہر ہے اِسی وجہ سے اخراجات بھی زیادہ نہیں تھے۔ مگر اب ایک چھوٹی سی پرچون کی دُکان بھی سیکورٹی گارڈ اور کیمروں کے بغیر خود کو غیر محفوظ خیال کرتی ہے۔ اِن سیکورٹی اخراجات پر اُٹھنے والا خرچ براہِ راست کاروبار کے منافع پر اثر انداز ہوتا ہے اور کاروبار اِسے صارف کو منتقل کرتا ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔

بھروسے کا عدم وجود ایک اور ہولناک احساس کو جنم دیتا ہے اور وہ ہے خوف کا احساس اور خوف کا احساس براہ راست ظلم کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ جن معاشروں میں ظلم ہو وہاں خوف کا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ خوف کا تعلق صرف جان اور مال کے خطرے سے نہیں بلکہ آج ہم انواع و اقسام کے خوف کا شکار ہیں۔ مثلاً اگر کوئی چیز خرید رہے ہیں تو ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ یہ اصل ہے یا نہیں۔ پوری مقدار میں ہے یا نہیں، ہم کسی ملازم کو رکھ رہے ہیں تو اس بات کا خوف ہے کہ یہ ہمیں دھوکا تو نہیں دے گا یا نقصان تو نہیں پہنچائے گا۔

ہم دورانِ سفر کسی سے کچھ لے کر نہیں کھا سکتے کہ کہیں یہ کوئی نشہ آور شے نہ ہو۔ ہم بچوں کو کھیلنے کے لئے باہر نہیں بھیج سکتے کہ معاشرہ بچوں کے لئے محفوظ نہیں ہے۔ ہم کسی سرکاری دفتر جاتے ہیں تو خوف کا شکار رہتے ہیں کہ رشوت کے بغیر کام نہیں ہو گا۔ پولیس کا لفظ ہمیں تحفظ کا احساس دلانے کی بجائے خوفزدہ کر دیتا ہے۔ مریض ڈاکٹر سے خوفزدہ اور سائل وکیل سے۔

بد اعتمادی کا یہ خوف ہماری جڑوں میں سرایت کر چکا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر کسی گھر کو تباہ کرنا ہو تو اس کے مکینوں میں ایک دوسرے کے خلاف شک و شبہ پیدا کر دو۔ مکین ایک دوسرے پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ جنہوں نے نظام بنانا ہے وہ خود نظام پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں، جنہوں نے انصاف دینا ہے وہ خود انصاف کی دہائیاں دے رہے ہیں جنہوں نے عوام کو تحفظ دینا ہے وہ خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔

مکمل تباہی میں جو کسر رہ گئی تھی وہ ایک لا یعنی سے بیانیے کو تیار کر کے پوری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ نجانے کب اور کیسے کسی سقراط نے یہ محسوس کیا کہ حکومت اور ریاست دو جدا چیزیں ہیں اور یہ کہ حکومت ریاست کے خلاف بھی کام کر سکتی ہے۔ اب یہ ظاہر ہے کہ ایسی صورت حال میں ریاست اور ریاستی مفاد کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت کے علاوہ کسی اور کو اٹھانی پڑے گی اور جو بھی یہ ذمہ داری اٹھائے گا و ہ حکومت کے برابر کے اختیارات کا متقاضی ہو گا کہ ضرورت پڑنے پر حکومت کو نکیل ڈالی جا سکے۔

یہ تصور غلط از خود ایک بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہے اور اس بد اعتمادی کا بر ملا اظہار ہے جو ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر چکا ہے۔ خدارا بس کریں کوئی اس ملک کا دشمن نہیں ہے۔ کوئی غدار نہیں ہے سب اپنی اپنی بساط میں ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور کر رہے ہیں ایک دوسرے پر اعتماد کرنا سیکھیں۔ خوف کی فِضا کو ختم کریں۔ اِسی بد اعتمادی اور خوف نے مشرقی پاکستان ہم سے چھینا لیکن ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھاویسا ہی خوف پھر سے پورے ملک میں سرایت کرتا جا رہا ہے۔ اس کے تدارک کے لئے سب کو ایک ساتھ کام کرنا ہو گا، ایک دوسرے پر اعتماد کے ساتھ۔ کہ بد اعتمادی صِرف تباہی لاتی ہے۔ ترقی نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *