بادارہ! دغہ جنگ دی دوطن آخری جنگ شی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان انتیس فروری کو قطری دا الحکومت دوحہ میں ہونے والا امن معاہدہ نہ صرف زخم خوردہ افغانوں کے لئے امید کی ایک کرن تھی بلکہ افغانوں کے لاکھوں کے دیگربہی خواہ بھی اس معاہدے کو نیک شگون سمجھ بیٹھے تھے۔ گو کہ بزباں حال سبھی کی زبانوں پراُستاد درویش درانی کے اس شعر کاوِرد تھا،

چی بیا نہ تورہ پورتہ شی نہ سَر پہ وینو رنگ شی

بادارہ! دغہ جنگ دی د وطن آخری جنگ شی

۔ ”اس دعاکے ساتھ کہ پھر نہ کوئی تلوار اٹھ جائے اور نہ کسی کا سَر خون آلود ہوجائے، اے میرے مولا! اس جنگ کو میرے وطن کی الوداعی جنگ ثابت کردے“۔

لیکن بدقسمتی سے متوقع امن کے حوالے سے مایوسیوں کے بادل اس وقت پھر منڈلانے لگے جب بات طالبان قیدیوں کی رہائی کی چھڑگئی۔ افغان صدر اشرف غنی نے ان قیدیوں کی رہائی کے معاملے کو افغان حکومت سے نتھی کرتے ہوئے واضح طور پر پیغام دیا کہ مذاکرات سے پہلے قیدیوں کی رہائی قطعاًممکن نہیں ہوسکتی۔ دوسری جانب طالبان نے تشددمیں کمی کے ہفتے کے اختتام پرپھر سے تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے بے شمار سیکورٹی چیک پوسٹوں پر حملے کرکے درجنوں سیکورٹی اہلکاروں کو شہید کردیئے۔

اگلے روز امریکہ کی مداخلت کی باری آئی اور ہلمند کے ضلع زرمت میں طالبان جنگجووں کو نشانہ بناکر اسے دفاعی کارروائی قرار دے دیا۔ میرے خیال میں دوحہ ڈیل کے فوراً بعد تینوں اطراف سے غلطیاں ہوئیں جس نے بین الافغان مذاکرات کے انعقاد پر سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے۔ مثلاًافغان حکومت کی غلطی یہ تھی کہ اس نے دوحہ معاہدے کے عین اس پیراگراف کو ماننے سے انکار کردیا جو بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور طالبان میں لچک پیدا کرنے کا ایک بہتروسیلہ ثابت ہوسکتاتھا۔

مذکورہ معاہدے میں قیدیوں کی رہائی کامعاملہ افغان حکومت سے بہت پہلے شیئر کیا گیا تھا۔ بعض اطلاعات کے مطابق دوحہ معاہدے کی روسے یہاں تک بات طے پائی تھی کہ طالبان کے لگ بھگ دس ہزار قیدیوں کو تین مرحلوں میں رہا کیے جائیں گے جس کے بدلے میں افغان حکومت کے ایک ہزار قیدی بھی رہاہونگے۔ پہلے مرحلے میں بین الافغان مذاکرات سے قبل طالبان کے کم و بیش پانچ ہزار قیدی رہا ہوں گے اور جب مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگا تو دوسرے اور تیسرے مرحلے میں باقی ماندہ قیدی بھی آزاد کرائے جائیں گے۔

اب جب یہ معاملہ اس حدتک طے پایاتھا تو پھر عین انٹرا افغان مذاکرات سے چندروزپہلے قیدیوں کی رہائی سے انکار کرنا محض اس عمل کو ڈی ریل کرواناہے۔ افغان حکومت کے اس انکار کے فوراً بعدطالبان سے محض غلطی نہیں بلکہ فاش غلطی یہ سرزد ہوئی کہ انہوں نے ایک مرتبہ پھر درجنوں افغان سیکورٹی اہلکاروں کو صرف اس لیے موت کے گھاٹ اتارا تاکہ قیدیوں کی رہائی کے بارے میں حکومت کو دباؤ میں لایاجاسکے۔ طالبان کے ان تازہ حملوں میں صوبہ پکتیا سے تعلق رکھنے والا ایک ایسا بندہ بھی شہید ہواتھاجو اپنے خاندان کاواحد کفیل تھا۔

اس حوالے سے گزشتہ روز وائس آف امریکہ کی ایک ڈاکیومینٹری سوشل میڈیا پھر نظرسے گزری تو دل فگار اورآنکھوں سے بے اختیار آنسوچل پڑے۔ اس ویڈیومیں مقتول کی بے بس بیوہ جس کَرب والم سے پھوٹ پھوٹ کر رو تی دکھائی دیتی ہیں، میرا یقین ہے کہ اس مظلوم خاتوں اور ان کے بے سہارابچوں کی آہوں نے عرش پر بھی کپکپی طاری کی ہوگی۔ اس پر مستزاد یہ کہ پرتشددکارروائیاں شروع کرنے کے ساتھ ساتھ طالبان نے بین الافغان مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کی دھمکی بھی دے ڈالی۔

مذاکرات کے اس عمل پھر مزید سوالات کھڑاکرتے ہوئے امریکہ انکل سام نے طالبان جنگجووں کو ایک ایسے موقع پر میزائل حملہ کیا جب دوحہ معاہدے کی سیاہی تک خشک نہیں ہوپائی تھی۔ اپنے مضامیں میں ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں اور اب مکررعرض ہے کہ افغان مسئلے کے حل کی کنجی حقیقت میں انہی کے پاس ہے جوافغانستان کو اپناگھر اور اپنا ٹھکانہ سمجھتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ افغانستان افغان حکومت کوچلانے اور ماننے والوں کا بھی گھر اور اس حکومت کو گرانے والے طالبان کا بھی۔

اب جب امن کی کنجیاں گھروالوں ہی کے پاس موجود ہیں تو پھر امریکہ اور ہمسایہ ملکوں سے امن اور خوشحالی کی بھیک مانگنا کب تک مانگا جائے گا؟ طرفہ تماشاتو یہ ہے کہ طالبان نے دنیا کی جابرترین سامراجی فورسز پر حملے نہ کرنے کا فیصلہ کرلیاہے لیکن اپنے گھر کے کلمہ گو مسلمانوں کاخانہ برباد کرنے پر تُلے ہوئے۔ اچھی بات ہے کہ امریکہ کے ساتھ وہ مذکورہ ڈیل کی پاسداری کررہے ہیں لیکن ان میں کم ازکم اتنی جُرات اور بردباری بھی ہونی چاہیے تاکہ اس نازک مرحلے کے موقع پر افغانوں کی لاشیں گرانے سے بھی گریزکیاجائے۔

سردست امن کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ قیدیوں کی رہائی کا معاملہ ہے اور جب تک یہ معاملہ طے نہیں ہوتاتب تک بین الافغان مذاکرات کا آغاز بھی ناممکن ہوں گے۔ لہٰذاضروری ہے کہ دونوں فریق افہام وتفہیم سے کام لیں اور چالیس سال سے اس شورش زدہ ملک میں امن کے قیام کا یہ سنہری موقع کھونے سے گریز کریں۔ وما علینا الالبلاغ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *