سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی دبئی کی 11 سالہ شہزادی سے زبردستی شادی کی کوشش کا انکشاف

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ سال اپریل کے مہینے میں دُبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم کی چھٹی بیوی شہزادی حیا متحدہ عرب امارات سے فرار ہو کر برطانیہ پہنچ گئی تھیں۔ جس کے بعد انہوں نے مبینہ طور پر انکشاف کیا تھا کہ شیخ محمد بن راشد اپنی پہلی بیوی سے پیدا ہونے والی بیٹیوں کے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہیں اور انہوں نے اپنی ایک بیٹی کو قید میں ڈال رکھا ہے۔

اب دبئی کے حکمران شیخ راشد المکنوم کی اہلیہ شہزادی حیا نے برطانوی عدالت کو مزید بتایا ہے کہ دُبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم کی 11 سالہ بیٹی کی زبردستی شادی کرانے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے کہا کہ شیخ راشد المکتوم نے فروری 2019ء میں اپنی بیٹی کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے زبردستی شادی کرانے کے لیے تیاریوں کے حوالے سے بات چیت کی تھی اور یہی میرے دوبئی سے فرار ہو کر برطانیہ آنے کی وجہ بنی تھی۔

تاہم شیخ راشد المکتوم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے کسی بچے کی بھی زبردستی شادی نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی کی زبردستی منگنی کی گئی۔ شہزادی جلیلہ کی محمد بن سلمان کے ساتھ زبردستی کا کوئی منصوبہ بھی نہیں تھا۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شیخ راشد المکتوم نے اپنی 13 بیٹیوں میں سے کسی کی بھی اس عمر میں زبردستی شادی نہیں کی۔ واضح رہے کہ شہزادی حیا نے برطانوی عدالت میں اپنے شوہر سے خلع اور بچوں کی تحویل کے لیے مقدمہ بھی دائر کر رکھا تھا۔

برطانوی عدالت نے دُبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم کو اپنی دو بیٹیوں کے اغوا کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ شہزادی حیا بنت الحسین اُردن کے موجودہ فرمانروا شاہ عبداللہ دوئم کی سوتیلی بہن بھی ہیں۔ شیخ محمد سے شادی کے بعد ان کے ہاں ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ بیٹی کی عمر 12 سال جبکہ بیٹے کی عمر 8 سال ہے۔ شہزادی حیاء نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے خاوند کی جانب سے سگی بیٹیوں کے ساتھ ایسے ظالمانہ سلوک کے بعد اپنے بچوں کے بارے میں بھی بہت زیادہ فکر مند ہو گئی تھیں۔

برطانوی اخبار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ شیخ محمد بن راشد المکتوم نے برطانوی عدالت سے اس مقدمے کی ساری کارروائی اور فیصلہ خفیہ رکھنے کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے ان کی یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے ان کے خلاف سُنایا گیا فیصلہ مشتہر کر دیا۔ برطانیہ کی عائلی عدالت کے جج اینڈریو میکفرلین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ شیخ محمد بن راشد المکتوم پر یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ انہوں نے 2000ء میں اپنے بڑی بیٹی 19 سالہ شمسہ کو جو کیمبرج میں زیر تعلیم تھی، زبردستی دُبئی بلوا کر اس کی نقل و حرکت اور آزادی محدود کر دی تھی۔

اس کے بعد اپنی دوسری بیٹی 35 سالہ لطیفہ کو بھی 2018ء میں بھارت کی جانب فرار ہونے کی کوشش کے بعد دُبئی واپس لا کر تین سال سے قید میں ڈال رکھا ہے۔ جج کے مطابق شیخہ لطیفہ سے ایسا ہی سلوک 2002ء میں بھی کیا گیا تھا۔ شیخہ لطیفہ کو دُبئی سے بھارت فرار ہونے کی کوشش میں مدد فراہم کرنے والی اس کی ایک سہیلی نے دعویٰ کیا کہ دُبئی کے فرمانروا کے کہنے پر بھارتی بحریہ نے شیخہ لطیفہ کی کشتی کو بندرگاہ پر لنگر انداز نہیں ہونے دیا تھا اور انہیں بھارتی فوجیوں کی تحویل میں دوبارہ دُبئی روانہ کر دیا گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *