ضیأ الرحمان امجد صاحب کی کتاب: کالج بھی کیا خوب چمن ہے۔ (گیت)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ضیا الرحمان امجد صاحب کی کتاب، ”کالج بھی کیا خوب چمن ہے۔ (گیت) “۔ شاعری کی ایسی کتاب ہے جس کا اولین مقصد تو ایک خاص عمر اور خاص ماحول میں جذباتی کیفیات کی ترجمانی کرنا ہے۔ ثا نیاً، اس کتاب کا وصف یہ ہے کہ یہ کتاب بالغانِ نظر کے لیے نہیں ہے۔ جیسا کہ عنوان میں لفظ ’کالج‘ نمائندہ ہے ایک خاص عمر میں، ایک خاص ماحول، ایک خاص تعلیم کے مرحلے کا۔ ایسا مرحلہ جب بچپن پیچھے رہ جاتا ہے، فعل حال میں ذہن، مستقبل کو سنوارنے، جب کہ دل اپنے لا ابالی پن اور جذباتی کیفیات کی آماجگاہ اور خیالات و جذبات کا اکھاڑہ ہوتا ہے۔ اگرچہ لفظ ’کالج‘ ، بزرگان اور بالغ نظراں کے لیے استعارہ ہو سکتا ہے، ایام رفتہ کی ایک ’ناسٹیلجیہ‘ کیفیت کا۔

کتاب کے عنوان کا دوسرا لفظ، ’چمن‘ ، غمازی کرتا ہے فطرت کے تعمیری مرحلے کے جوبن کا۔ فطرت کا بنیادی خاصہ ہے ارتقا اور حرکتِ پیہم، نیز سکوت و جمود سے تصادم۔ یہ پیہم ارتقا جسے یونانی فلسفی ہیرکلائیٹس نے تشکیلِ کائنات کا بنیادی عنصر قرار دیا اور برگساں نے اسے ’اِلان وِتا ل‘ یا ’سیلِ رواں‘ کہا۔ اور اقبال نے ’نمو‘ اور ’مسلسل صداے کن فیکون‘ کا نام دیا ہے۔ چمن استعارہ ہے اسی ارتقائی و تخلیقی قوت کے مادی اظہار کا۔ میر نے اسی لفظ، ’چمن‘ کو بیشتر اشعار میں عروج و زوال، یاسیت اوردرسِ عبرت کے طور پر استعمال کیا ہے۔

؎ کل چمن میں گل و سمن دیکھا

آج دیکھا تو باغ بن دیکھا

غالب نے مختلف مواقعے پر، مختلف مفاہیم میں لفظ ’چمن‘ کا احاطہ کیا ہے

؎ چمن کا جلوہ باعث ہے مری رنگیں نوائی کا

؎ دیکھ کر تجھ کو، چمن بسکہ نمو کرتا ہے

؎ نسیم صبح سے سنتا ہوں ماجراے چمن

۔ علامہ محمد اقبال نے ’چمن‘ کے استعارے سے مراد وطن اور گھر بھی لیا ہے

؎ جب سے چمن چھٹا ہے، یہ حال ہو گیا ہے

؎ ہے چمن میرا وطن، ہمسایہ بلبل ہوں میں

ضیا الرحمٰن صاحب نے، ’چمن‘ کے استعارے اورترکیبِ استعمال کو، با الخصوص فلسفیانہ مفاہیم و مفکرانہ پس منظروں سے علیحدہ رکھ کر، صرف عام جذباتی کیفیات تک محدود کر کے، اس گیت کو زبان ذ دِعام، اور ہر ’کالیجی ایٹ‘ کی آپ بیتی بنا کر پیش کیا ہے۔

اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ اسے پڑھتے ہوئے یہ محسوس نہیں کرتے کہ آپ اس کا مطالعہ کر رہے ہیں بلکہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ اسے گنگنا رہے ہیں۔ اور ہر شعر اور ہر بند کو گنگناتے ہوئے قاری اس میں اتنا محو ہو جاتا ہے کہ ہر مصرعہ اور لایئن کے متعلق خیال گزرتا ہے کہ:

’میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے‘

اس خصوصیت کی بنا پر یہ کتاب، قاری میں تفکر کی بجاے جذبات کو ابھارتی ہے اور قاری خود کو بجاے قاری کے ’پل دو پل کا شاعر‘ سمجھنے لگتا ہے۔ شاید اسی لیے ضیا الرحمن امجد صاحب نے اسے ’گیت‘ کا نام دیا ہے۔

کتاب کے اشعار میں بیان کردہ کیفیا ت و محسوسات کو اگر موضوعات و عنوانات کے حوالے سے دیکھا جاے تو اس میں وہ تمام کیفیات پائی جاتی ہیں جو کہ کالج کے دورانِ قیام کوئی بھی محسوس کر سکتا ہے۔ اس میں لایبریری اور کتب کی تعریف بھی ہے، بنک مارنے کے بہانوں کے انداز بھی ہیں، محبت کے اقرار و خمار کا تذکرہ بھی ہے، کالج بس اور بے بسی کا رونا بھی ہے، اسکول میں سزاوں کی یاد اور کالج میں آزادی کے احساس کا خمار بھی ہے۔

منطق و ریاضی کی مشکلات نیز کوئل، مینا، بلبلِ جاں کے نغموں کا ساز بھی ہے۔ خوابوں کی راجکماریوں کے وجود کے احساسات، حقیقتوں کا ادراک اور علم و فضل کے حصول کا پیماں بھی ہے۔ پھول، تتلی، پروانے کے ساتھ ساتھ، کالج کے پڑھے لکھے اور ان پڑھ ملنگوں کے علاوہ، پرنسپل کی موجودگی، مھمانان گرامی کے پند و نصائح کی سمع آزمائی؛ جانم، جانو، جانی کا احوال بھی ہے۔ علاوہ ازیں دفتر، کلرکوں کے رویے، نائب قاصد کی موجودگی، فائلوں اور آڈٹ کا بیان بھی نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔ المختصر یہ کتاب ان تمام احساسات کا صحیفہ ہے جس کا نزول سرِ زمیں ِ دل پر ہو سکتا ہے۔ اور دل بے اختیار پکار اُٹھتا ہے کہ: ’کالج بھی کیا خوب چمن ہے‘ ۔

کالج کے طلبا میں اس کتاب کے قبول عام کی بھی یہی وجہ ہے۔ اسلامیہ کالج چنیوٹ کے لائبریرین احمد یار ساجد صاحب کا کہنا ہے کہ جب یہ کتاب ’نیو ارا ئیول ڈسپلے‘ پر رکھی گئی اور پہلی بار کسی طالب علم کو جاری کی گئی توکتاب واپس کرنے والے کے ساتھ ہی، کتاب لینے والاکوئی اور طالب علم بھی ساتھ ہی آیا اور یوں یہ کتاب بغیر الماری میں رکھے، دوبارہ جاری کی جاتی رہی۔ پھر یہ سلسلہ شروع ہو گیا اورکتاب کی واپسی کے ساتھ ہی، ہاتھوں ہاتھ دوبارہ جاری کر دی جاتی۔ طلبا، اس کے اشعار، عام گفتگو میں استعمال کرتے رہے ہیں۔ کسی شاعر کی کامیابی اور عام فہمی کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کتنے لوگ پڑہتے ہیں اور اس کا اثر کب تک قاری کی زبان پر رہتا ہے۔

ڈاکٹر طارق مجید صاحب کے الفاظ میں ”اس کتاب کے کلام میں خیالات و تفکرات کی بجاے، جذبات کے اظہار، کیفیات کے تسلسل، واقعات کے بیان میں، آپ بیتی کے گمان، اور تحریر میں غنایت و گنگناہٹ نے اس کلام کو طلبا میں مقبول کیا ہے۔ نیز کالج سے فارغ التحصیل، فکر معاش میں سر گرداں افراد کے لیے، اس کتاب میں عہد رفتہ کی یادیں، سود و زیاں سے ماورا، صحبت دوستاں کے لمحات کا سکون اور موجودہ پریشانیوں میں ’سُکھ دا ساہ‘ موجود ہے“۔

کتاب کے مصنف جناب ضیأ الرحمان امجد صاحب سے پہلی ملاقات میں کوئی بھی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا ہے، یہ الجھے الجھے، بے ترتیب بالوں والا، ظاہری وضع قطع سے لاپرواہ، کتابوں کی دھول پیشانی پر سجائے ہوے اک سادہ سی شباہت والا شخص، اندر سے اتنا سلجھا سلجھا، خیالات میں اتنا واضح، لفظوں کے چناؤ میں اتنا محتاط اور لوگوں میں روابط میں اتنا مخلص بھی ہو سکتا ہے۔ ضیا صاحب کی یہی شخصیت ان کی کتاب میں بھی عیاں ہے۔

کتاب کا ٹائیٹل اک خوبصورت راہگزر کا عکس ہے جس کے دونو اطرف درختوں کی قطاریں، پتوں سے چھن کر آتی سورج کی کرنیں، پختہ انیٹوں کی رہگزر، روشنی اور سایے کے امتزاج سے پیدا ہونے والے منظر نے کتاب کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ، کالج کے گزرے لمحوں کا عکس تجسیمی صورت میں پیش کیا ہے اور زبان سے با اختیار یہی نکلتا ہے کہ: ”کالج بھی کیا خوب چمن ہے“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *