ہم جھگڑا پسند کرنے والا ہجوم ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم دوسروں کے موقف کو ہمدردی سے دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا اس موقف کی بنیاد پر اس سے لڑنا ہے یا اس کے ساتھ مل کر لڑنا ہے۔

فرض کریں کہ سڑک پر ایک مرد اور عورت بحث کر رہے ہیں۔ عورت بات کاٹ کاٹ کر مرد کو زچ کر دیتی ہے اور مرد اشتعال میں آ کر اس سے گالم گلوچ شروع کر دیتا ہے تو وہاں موجود تمام خواتین و حضرات اس عورت کی حمایت میں لڑنے مرنے کو تیار ہوں گے اور بعید نہیں کہ عورت سے بدتمیزی کرنے پر مرد کا ملیدہ بنا دیا جائے۔ ہماری روایت یہی ہے کہ مجمع عورت کو کمزور سمجھ کر مرد کے مقابلے میں اس کا ساتھ دیتا ہے۔

اگر یہی منظر ٹی وی پر دکھائی دے، عورت کا نام ماروی سرمد ہو اور مرد کا خلیل الرحمان قمر تو اکثریت قمر پرست دکھائی دے گی۔ اب یہاں ہم نے یہ نہیں دیکھنا کہ عورت خواہ کیسی ہی بدزبان اور بدتمیز ہو، مجمعے نے روایت کی بنیاد پر اس کا ساتھ دینا ہے۔ اس کی بجائے یہ دیکھا جاتا ہے کہ عورت کیونکہ ماروی سرمد ہے، وہ بندیا لگاتی ہے، مولویوں سے لڑتی ہے، تو اس سے دگنا بدتمیز اور بدزبان مرد بھی اس سے بات کرے تو مرد کا ساتھ دینا ہماری قومی غیرت کا تقاضا ہے۔

بات ہو رہی ہو تو ہم یہ نہیں دیکھتے کہ کیا کہہ رہا ہے، یہ دیکھتے ہیں کون کہہ رہا ہے۔ اس کے بعد موقف کی بجائے شخصیت کے ساتھ کھڑے ہو کر لڑنے مرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک شخص کی ساری باتیں غلط ہوں یا ہر بات درست ہو؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ ایک گمراہ ترین شخص بھی دس باتوں میں سے دو باتیں درست کہہ رہا ہو اور ایک ہدایت یافتہ ترین شخص بھی دس میں سے دو باتیں غلط کر رہا ہو؟ متوازن ذہن والا شخص سیاہ اور سفید کے درمیان سرمئی کے شیڈز دیکھ سکتا ہے، جبکہ بند ذہن ہمیشہ سیاہ یا سفید پر اٹک جاتا ہے اور یہ تسلیم کرنے سے انکاری ہوتا ہے کہ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان بہت سے ایسے حصے ہیں جہاں یہ دونوں رنگ آپس میں مل رہے ہوتے ہیں۔

ہم جھگڑا پسند کرتے ہیں۔ ہماری رائے میں سب سے بڑی دلیل مولا بخش ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص دلیل سے بات کر رہا ہو اور مخاطب کو لاجواب کر دے، تو اس کے حامی اسے تعریفاً یہ نہیں کہتے کہ ”بخدا آپ نے تو منطقی انداز میں اپنا مقدمہ پیش کر کے مقابل کو لاجواب کر دیا ہے“، بلکہ عموماً کچھ یوں کہتے ہیں کہ ”کیا جوتا مارا ہے، منہ توڑ جواب دیا ہے، بہترین چمانٹ رسید کی ہے، ذلیل کر کے رکھ دیا ہے“۔ ہم دلیل، ثبوت اور انصاف پسند نہیں کرتے بلکہ سوچے سمجھے جانے بوجھے بغیر ہجوم کی صورت میں موب جسٹس کو ترجیح دیتے ہیں۔

سیاست کے معاملے میں بھی ہمارا یہی رویہ ہے۔ ہم اس لیڈر کو پسند کرتے ہیں جو مخالف پر برسنے میں لاجواب ہو، اسے لفٹ نہیں کراتے جو مخالف لیڈر کی بجائے عوامی مسائل اور پالیسی پر بات کرے۔ لیڈر ہماری اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ عموماً ان کی گفتار اور کردار میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ ہم طیب ایردوان کے ڈیووس میں اسرائیلی وزیراعظم کو کھری کھری سنانے اور واک آؤٹ کرنے پر خوشی سے نہال ہو کر انہیں عالم اسلام کا سچا ہیرو قرار دے دیتے ہیں، یہ نہیں دیکھتے کہ وہ اسرائیل سے معاشی اور دفاعی تعاون بڑھا رہے ہیں۔

صحافت میں بھی یہی حال ہے۔ جو صحافی جھگڑالو اور بدزبان ہو، وہ ہمیں سچا اور حق پرست دکھائی دیتا ہے۔ جو متوازن انداز میں جذباتی ہوئے بغیر بات کرے وہ ہمیں لفافہ پکڑتا یا بزدل دکھائی دیتا ہے۔ کسی لیڈر کی کسی اچھی بات کی حمایت کرنے پر وہ صائب الرائے اور حق سچ کا ساتھ دینے والا دکھائی دیتا ہے اور اگلے دن اس کی کسی خامی کی نشاندہی کرنے پر وہ لوٹا قرار پاتا ہے۔

اور سوشل میڈیا پر بھی یہی رویہ موجود ہے۔ ہمارا بھی تمہارا بھی۔ ہم کسی کا سٹیٹس پڑھنے کے بعد یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ سیاہ ہے یا سفید، اور اس کی حمایت میں لڑائی شروع کرنی ہے یا اس کے خلاف۔ ہم مخالف کے الفاظ کو ہمدردی سے نہیں دیکھتے کہ وہ کس مسئلے کی نشاندہی کر رہا ہے، ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس کے الفاظ کا منفی ترین لغوی مطلب کیا ہے اور لڑ پڑتے ہیں۔ یہی عمومی رویہ ہے، ہمارا بھی تمہارا بھی۔ اگر کچھ دیر کے لئے اپنا موقف ایک طرف رکھتے ہوئے دوسرے کے ذہن سے بات کو سوچنے کی کوشش کریں تو لڑائی جھگڑے کی بجائے افہام و تفہیم کی صورت نکل آئے گی جو شعور اور ترقی کا راستہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1249 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *