شریک جرم ہی ہوگا جو اَب خاموش رہا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا ملک گیر سے مقفل کیے سیاسی و سماجی فیگرز کے موقف اس بازیگری سے کوئی پلٹ سکتا ہے؟ کیا بنیادی حقوق سے شناس لوگ باگ کی خامشی اَب سپھل عمل ہے؟ کیا ڈر و ہیبت سے بڑھ کر، تواتر سے تہدید آمیز روایات سے اَب کے تلخیاں ختم ہوجائیں گی؟ کیا ریاستی حرکنات وسکنات اَب یہی رہیں گے؟ کیا سوشل کنڑیکٹ کی اَب اس طرح قدر افزائی ہوگی؟ کیا اَب ہر تنقیدی دماغ اوجھل حقائق طشت ازبام کرنے سے گریزاں رہے گا؟ کیا ہمارے اکثر سیاسی زعما کے انسان دوست فلسفوں کو اَب ہم اس گاہے بگاہے بندشوں سے فوت ہونے دیں گے؟

کیا یہ زنجیر وں میں لپٹے مردان کو اَب کے میکے واپس نہیں ہونے دیں گے؟ کیا ابوجہل کے ہاں اَب کے موسیٰ نہیں آئے گا؟ کیا اَب کے یہ معاشرہ ستم پر برقرار رہے گا؟ کیا اَب کے سب حکمراں جابر و سنگدل ہوں گے؟ کیا اَب کے بچے، بوڑھے، جوان، مرد اور عورت کی اقدار کا لحاظ کیے بغیر جبر روا رکھیں گا؟ کیا اَب کے ارباب بست و کشاد جو چاہیں گا وہی ہوگا؟ کیا اَب کے تمام سماجی، معاشی، سیاسی معاملات میں عوام کی اُمنگوں اور ترجیحات کی بجائے محکمے کے چند افراد کے من و منشا پر فیصلے منحصر ہوں گے؟ کیا بس اَب ہر قسم کی پالیسی اور سٹریٹجی اِن ہی کی ایما پر بنے گی اور ختم ہوگی؟

اکیسوی صدی ہے، جبری پالیساں یکسر مسترد ہوچکی ہیں۔ بڑی طاقتیں بھی دیش کے میکینزم تالیف کرتے وقت مختلف افکار والے باسیوں کے نظریات کے وقَر کرتے ہوئے شکیبائی سے کام لیتے ہے۔ لیکن پاکستان میں یہ سب کچھ Anti۔ clockwise کے مانند چل بچل ہے۔ ووٹ کی وقعت تو 72 سالوں میں پرگھٹ ہوئی، سویلین لائیبرٹی کے محدود فیلڈ کو اور محدود تر کیا جا رہا ہے۔ اُٹھتے بانگوں کو حریفوں کے بیانات سے منسلک کرتے ہیں۔ بے باک زبانوں کو گھونٹا جا رہا ہے۔ مبرہن بیانات کو خلاف دستور و مذہب کے رَوش میں پیش کرتے ہیں۔ معقول آراء کو سرکاری طور نامعقول قرار دیتے ہیں۔ کالے قوانین کو سول سیفٹی کا نام دیتے ہیں، جہاں ضرورت ہو تو پھرتی یا اَرڈیننس والے اسلوب اپناتے ہوئے اپنے اغراض پورا کر لیتے ہیں لیکن لاقانونیت کے اِس پنڈولم میں کب تک جھولتے رہیں گے؟

موہن داس گاندھی نے ینگ اینڈیا (Young India) میں تین آرٹیکل لکھے تھیں جس میں ”عوامی مطالبہ آزادی“ پر زور دیاگیا، اس پر مارچ 1922 میں گاندھی کے خلاف سیکشن 124۔ A کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ 18 مارچ کو اس کا ٹرائل اَحمدآباد میں شروع ہوا۔ یہ دفعات ماضی میں بالخصوص برصغیر ہند کے سیاسی قائدین جس میں ہمارے اکابرین بھی شامل تھے کے خلاف استعمال ہوئی۔ پشتون فرنٹیرز (Frontier and Tribal Regions) جہاں پر برصغیر ہند کے قوانین ایکسر لاگو نہیں ہوتے وہاں ایف سی آر نامی جبری حربے اپنائے، جنوبی پشتون خوا (بلوچستان میں پشتون علاقہ) کو سامراجی لکیروں سے تقسیم کرتے رہے تاکہ مزاحمتی تحریکیں مدھم کرسکیں لیکن المیہ یہ ہے کہ آج بھی ہمارے تعزیراتی نظام کا حصہ ہے، اس کا استعمال آج پہلے سے خطرناک طریقے سے ہورہا ہے۔

پاکستانی اِدارے پشتون تحفظ مومنٹ کے فاونڈر منظور احمد پشتین ودیگر پشتون نوجوانوں کے خلاف آج بھی اِنہی دفعات کا اطلاق کرتے ہیں جس سے ماضی میں دامن جھاڑ رہے تھے۔ برٹش جابرانہ سسٹم کے وقت انہی قوانین کے تحت، تنقیدی رائے والے کو دیش دروہی سمجھا اور باغی کہا۔ آج اُنہی قوانین کے تحت مقدمہ قائم ہوتا ہے اور پرانے حربے کے تسلسل سے استعمال جارہی ہے۔ آزادی کے بعد برٹش راج کے قوانین کا اطلاق آازدی ہی پر سوالیہ نشان ہے۔ برٹش راج کے ڈھال چال حرکات وسکنات اور دور اَز قیاس نقوش آج بھی پاکستان کے ذ یلی محکمے اپنا رہے ہیں حالانکہ یہ برٹش زنگِ کدورت سے تو چپیدگی لینا ضروری تھی مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔

سیڈیشن جیسے ظالمانہ قانون کا خاتمہ کرنے میں کوئی حکومت دلچسپی بھی نہیں لے رہی ہے اس کی حکومت کے ساتھ ساتھ مخصوص کوارٹرز جو انہیں وتیروں کے ذریعہ عوام مخالف پالیسویں کی تاک جھانک کرتے رہتے ہیں جس سے ان اقتدار اور ساکھ برقرار رہتی ہیں۔ الغرض، قدر افگن نہ بنیں بلکہ سارے انسانی اور آئینی مطالبات مان کے آئینی حدود میں رہ کر کام کریں۔ غلط ملط دفعات لگانے سے ہماری چیخیں اور تحریکیں دیرپا ہوں گے اور پسپائی ریاستی اہلکاروں ہی کے مقدر میں ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply