مولانا عبیداللہ سندھی رح، سوانح و افکار
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔
کیا مبارک دن ہے آج؟ آج کا دن بھی خود اپنے آپ پر رشک کرے گا کہ آج ہی کے دن 10 مارچ 1872 کو چراغِ اسلام، شمس العلوم، ابوالحکمت، مجسمہ وجدان، نمونہ عمل، حکیم الہند امامِ انقلاب حضرت مولانا عبیداللہ سندھی ؒ کی مبارک ہستی رحمتِ خداوندی بن کر لاکھوں رحمتیں سموئے ہوئے اس دنیا ظلمت میں تشریف لائی۔ آپ نے جب آنکھ کھولی تو خود کو غلامی کے ہزاروں زنجیروں میں جکڑا ہوا پایا۔ عقیدے میں غلامی، سیاست میں غلامی، معاشرت میں غلامی، تعلیم و علمیت میں غلامی، تہذیب و ثقافت میں غلامی غرض جہاں دیکھا وہاں ان انقلابی نظروں کو غلامی کے سوا کچھ نظر نہیں آیا۔
سکھ گھرانے میں جنم ہوا جب دیکھا کہ فطرت ایسی نہیں ہوسکتی۔ انسان چند رسومات کا غلام اور عقل سلیم رکھتے ہوئے وساوس کے گھیراؤ میں بندھا ہوا نہیں ہوسکتا۔ نئے راستوں کی تلاش کے ماہر اور ان پر چلنے کا حوصلہ اور طاقت رکھتے تھے اور سلمان فارسی کی اقتداء میں سچ کی تلاش شروع کی۔ قدرت نے انہیں ”تحفت الہند“ جیسے تحفے سے نوازا جس کی بدولت روح اسلام کی حقانیت دل میں منور ہوئی، اور محض چودہ برس کی عمر میں عقیدے کی غلامی سے نجات پائی اور بوٹا سنگھ سے عبیداللہ بن گئے۔
ماں کا پیار، بہنوں کی شفقت اور گھر بار کے سکھ چین کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ دیا۔ کچھ مدت کے لئے ادھر ادھر رہنے کے بعد تحصیل علم کی غرض سے سندھ روانہ ہوئے اور جنیدِ وقت حضرت صدیق ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس کے بعد دیوبند چلے گئے اور اللّٰہ نے حضرت شیخ الہند جیسے استاد کی صحبت سے نوازا۔ وہاں سے فراغت کے بعد واپس سندھ تشریف لے گئے اور ایک مدرسے کا قیام عمل میں لایا۔ چند سال سندھ میں رہنے کے بعد شیخ الہند ؒ کے حکم پر ایک بار پھر دیوبند حاضر ہوئے اور وہاں نوجوانوں میں ”اسرار دین“ اور ”انقلابی“ تعلیم کا شوق و جذبہ پیدا کرنے کی طرف متوجہ ہوئے اور جمعیت انصار قایم کی۔ اس کے بعد دہلی میں نظارة المعارف قرآنیہ قائم کیا اور دیوبند سے دہلی منتقل ہوگئے۔
پہلی جنگ عظیم کے دورانیے کو شیخ الہندؒ نے غنیمت جانا اور ہندوستان کو آزاد کرانے کی تراکیب سوچنے لگے۔ جس کے لئے خود مکہ جانے کا ارادہ کیا اور مولانا عبیداللہ سندھیؒ کو افغانستان ہجرت کرنے کا حکم دیا۔ امام سندھی سات سال تک کابل میں رہے اس کے بعد روس پھر ترکی اور آخر کار مکہ مکرمہ چلے گئے۔ آپ کے ہندوستان چھوڑنے کے فوراً بعد ہی انگریز نے غیر معینہ مدت کے لئے آپ کو جلاوطن رہنے کی سزا دی۔
ان مختلف اسفار نے امام سندھیؒ کو مختلف حقائق سے روشناس کرایا۔ افغانستان میں آپ نے دیکھا کہ پان اسلامزم محض خام خیالی ہے۔ اور کوئی ملک بھی اپنے وطن کے علاوہ دیگر مسلمان دنیا کی مفادات کی طرف نہیں دیکھتا۔ بلکہ ہندوستان اور ہندوستانیوں کو دیگر ممالک میں حقیر دیکھا جاتا ہے اس وجہ سے کہ وہ غلام ہیں۔
آپ جب روس گئے تو زار روس کے مذہب کی غلط استعمال، من گھڑت تشریحات، اور حصول و دوام اقتدار کے لئے غریب عوام پر ظلم کی انتہاء کے اثرات کو دیکھا۔ جس کی وجہ ساتھ لوگ مذہب سے بددل ہو چکے تھے اور انھوں نے کیمونزم کو راہ نجات جانا۔
غرض مولانا سندھیؒ نے وہاں ان جانوروں کی سی زندگی سے بچنے کے لئے مسلمانوں کے لئے دن رات سوچا اور دین کی اصل تعبیر کو نئے رنگ میں سمجھ گئے تھے۔ ترکی گئے تو وہاں ان کی افکار کو اور تقویت ملی اور وہی آپ نے اپنا سیاسی منشور بھی شائع کیا اورہندوستان بھیج دیا۔ اس کے بعد جب آپ حجاز تشریف لے گئے تو مقامِ مقدس میں اپنی تمام بیتی زند گی، نشیب و فراز، اسفار اور مسلمانوں کی حالت زار کی علاج کا بہ نظر عمیق جائزہ لیا اور مختلف تحریرات میں انہیں قلمبند کردیا۔
اس کے بعد جب وہ اپنی تمام زندگی کا محاصل اور اپنے افکار و نظریات، جوکہ حقائق پر مبنی اور تمام تر خوش فہمیوں سے پاک تھے، کو قوم کے سامنے رکھنے کے لئے بے تاب تھے تو خدا نے ان کے وطن واپسی کا راستہ کھول دیا اور وہ واپس وطن تشریف لے آئے۔
امام انقلاب جب وطن واپس لوٹے تو ان میں اور خوابوں میں رہنے والی قوم کی سوچ و فکر میں اتنی لمبی خلیج پیدا ہو گئی تھا کہ جسے عبور کرنے کے لئے صدیاں درکار تھی۔ لہٰذا جب انھوں نے اپنے افکار قوم کے سامنے رکھے تو اس سے قوم خوفزدہ و پریشاں حال ہوگئی کیونکہ ان حقائق میں اور ان کے اپنے فرسودہ خیالات میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ قوم ان کو سمجھنے سے قاصر رہی
انگریز کے خواہاں اور سرمایہ پرست مولویوں نے ان کی اور قوم کے درمیان دیوار کھڑی کردی۔ دوسری جانب برطانوی سامراجیت ان کو ناکام بنانے کے لئے یک بارگی عمل میں آئی۔
وہ دن رات ایک کرکے قوم کے سامنے اپنے خیالات بیان کرنے کے لئے ملک کے ایک سے دوسرے کونے تک گئے اور شہر شہر میں جہاں موقع ملا ہر ایک کو سمجھایا۔ اس دوران نہ انھوں نے اپنی بڑھتی ہوئی علالت کا خیال رکھا اور نہ ہی اپنی عمر کو دیکھا۔
قوم کی بے شعوری دیکھ کر انھوں نے ایک دفعہ فرمایا کہ ”اللّٰہ جس قوم پر عذاب کا فیصلہ فرما دیتاہے تو اس قوم کا سیاسی شعور سلب کرلیتا ہے“
ایک اور موقع پر فرمایا کہ ”دنیا کی تمام الجھنیں ختم ہو سکتی ہے اگر جاہل خاموش رہے اور عالم سچ بولنے لگے“ ”
وہ جب پیدا ہوئے تو بوٹا سنگھ تھے، گھر چھوڑا تو عبیداللہ تھے، سندھ گئے تو عبیداللہ سندھی بن گئے اور جب چوبیس سال جلاوطن رہ کر وطن واپس لوٹے تو ”امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی“ بن چکے تھے۔ وہ جہاں کہیں بھی گئے غلامی کی زنجیروں کو توڑا اور حقائق کو خود اپنے ساتھ اپنے نام کی طرح زم کیا۔
انقلاب کا یہ جیتاجاگتا مجسمہ 22 اگست 1944 کو اس بے رونق اور عقل و شعور سے عاری قوم کو خیرباد کہتے ہوئے پروانہ قضاء پر لبیک کہا اور اپنی بے قرار زندگی کو ترک کرکے، مسلمانوں کو غلط فیصلوں کی سزا دیتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے قرار کی نیند سو گئے۔
تب سے لے کر اب تک ایسے بہت کم ذہن ”آٹے میں نمک“ کے مصداق پیدا ہوئے، جو آج کی حالت اور علم و فن کی فراوانی کے باوجود، امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھی ؒ کے افکار کو سمجھ سکے ہوں۔ لیکن آہستہ آہستہ علم و شعور کی روشنی میں ہر نئے روز ان کی اس قافلہ انقلاب میں آج ایک صدی بعد مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اور لوگ خام خیالی و فرسودہ مذہبی خیالات سے تنگ آ کر نئی راہ کی تلاش میں ہیں۔ جو غلطی پچھلی نسل کر چکی وہ غلطی یہ نسل دورانا نہیں چاہتی۔ امامِ انقلاب کے افکار و نظریات کل سے آج کہی زیادہ بہتر انداز میں زندہ و جاویداں ہے، دیری اب صرف انھیں اپنانے میں ہے۔


