عورت مارچ اور چسکا بازی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت سے مسائل کمیونیکیشن گیپ کے بھی ہیں۔ عورت مارچ کے پوسٹرز پر لکھے نعروں، مطالبات اور سوالات کے معاملے میں یہی ہو رہا ہے۔ شہری و دیہی سماج کے تضادات بھی ان مغالطوں کا سبب ہیں۔ جدید ڈیجیٹل گیجٹس سے ربط اور انٹرنیٹ ایکسپوژر کا فرق بھی ایک عنصر ہے۔

بعض پوسٹرز پر ماضی کے کسی واقعے یاسانحے کی جانب اشارہ کرتا کوئی طنزیہ سوال درج تھا۔ کچھ پر ایسے مزاحیہ جملے بھی تھے جو عموماً مردوں کی محفلوں میں چلتے رہتے ہیں۔ یعنی ’اڈلٹ جوکس‘ قسم کی باتیں۔ جلوت میں پارسائی کی اداکاری کرنے والوں کو جھٹکا لگا کہ یہ باتیں توہم آپس کرتے تھے یہ برسرعام کیسے ہونے لگیں۔

زیادہ ترپوسٹرز ایسے تھے جن میں اس مارچ کا بنیادی تھیم عیاں تھا۔ سیاسی طور پر متحرک نوجوان طلبہ کی موجودگی نے اسے سوسائٹی کے حقیقی مسائل پر مرکوز رکھا۔ لاہور عورت مارچ کے پندرہ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈزکو دیکھ لینا چاہیے، اس میں بہت حد تک مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔

یہاں ایک ہجوم ایسا بھی ہے جو صرف چسکے کی تلاش میں رہتا ہے۔ کل اس مارچ میں بھی کچھ چسکا فروش بھی متحرک دکھائی دیے۔ وہ کسی ایسی ویڈیو کی تلاش میں تھے جو وائرل ہونے کا پورا مسالہ فراہم کر دے۔ ایک دو کو تو مل بھی گئیں۔ ان کی واہ واہ ہو رہی ہے اور صلحائے قوم اس وقت ان ویڈیوز کے ردعمل میں ماتم کناں ہیں کہ قوم کس قدر اخلاقی انحطاط کا شکار ہے۔

چسکا فروشوں کو پتا ہے کہ ہجوم کو کیا کچھ دیکھنا پسند ہے اور کس حرکت سے ویڈیو پر زیادہ ویوز اور لائیکس آتے ہیں۔ وہ ’شکار‘ کو خوب جانتے ہیں۔ تو بھئی یہ لائیکس اور ویوز میں غرق ہوتا ایک سطحی سماج ہے۔ یہ کسی ایک ویڈیو کلپ، کسی ایک پوسٹر کے پیچھے لگ کر پورے تناظر کو نظرانداز کر دینے کا معاملہ ہے۔ اور یہ اس عہد کا بڑا سانحہ ہے۔

دنیا بھر میں عوامی احتجاجوں میں نظم وضبط کا سوال سامنے رہتا ہے۔ پاکستان جیسے ملکوں میں تو بہت شدت سے اس سوال کو ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔ لاہور کے ماضی کے عورت مارچز کی نسبت یہ کافی منظم تھا۔ اسلام آباد میں انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے تصادم ہوا۔ دونوں ریلیوں کو الگ الگ مقام پر رکھنا چاہیے تھا، یوں متوازی چلانا اور بیچ میں قناتوں کی دیوار سے کام چلانا جگاڑ قسم کی حرکت تھی۔ کیا انتظامیہ اپنے ہجوم کی نفسیات سے واقف نہیں، یہ رسی تڑانے میں کتنا وقت لیتے ہیں؟

بڑا تناظر یہ ہے کہ کل خواتین کا عالمی دن تھا۔ اس دن کی مناسبت سے پوری دنیا میں مختلف ہیئتوں میں خواتین نے مظاہرے، ریلیاں اور مارچ کیے۔ دنیا کے بہت سارے ممالک میں خواتین کو ملتے جلتے مسائل کا سامنا ہے، لیکن کچھ مسائل الگ پس منظر کی وجہ سے مختلف سماجوں کے ساتھ خاص ہیں۔ ان کی جھلک وہاں کے مقامی مظاہروں میں پوسٹرز پر درج جملوں، نعروں، مزاحمتی نغموں، تھیٹر پرفارمنسز وغیرہ میں دکھائی دیتی ہے۔

کچھ اطراف کے مناظر بھی ہوتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ روایت کی پوجا کرنے والے ان مناظر میں سازشیں تلاش کرنے میں اس قدر محو ہو جاتے ہیں کہ بڑے تناظر کو بھول جاتے ہیں۔ یہ چسکا فروشی اور چسکے بازی چلتی رہے گی۔ یہ بھی تو ایک مارکیٹ ہے۔ کچھ بھی ہو ہمیں پورے تناظر کو سامنے رکھنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *