بی جی (خاکہ)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نام توان کا انجمن النساء تھا مگر ہم نے ہمیشہ اپنوں اور غیروں کو بی جی کہتے سنا۔ امروہے کے قریب اورنگ آباد سے تعلق تھا۔ بیاہ کر بلند شہر آئی تھیں۔ سنا تھا بی جی کی شادی بارہ برس کی عمر میں ہوگئی تھی۔ اس وقت ان کے شوہر کی عمر بھی پندرہ سال تھی۔ شوہر فوج میں سپاہی تھے۔ بی جی اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھیں اور ان کے ایک بڑے بھائی بھی تھے جن کا وہ اکثر تذکرہ کیا کرتی تھیں۔ یہ بی جی کی صحبت کا اعجاز تھا کہ بچپن میں بہت سے ایسے کاموں کی تربیت کردی کہ جو لوگ پختہ عمر میں بھی نہیں سیکھ پاتے۔

ہماری زندگی کا دائرہ تو بچپن سے بی جی کے گرد گھوم رہا تھا۔ صحن میں چلتے ہوئے ہم بہن بھائی پاؤں گھسیٹ کر چلتے اور فرش پر رگڑ پیدا ہوتی، چپل کی آواز سنتے ہی بی جی کی آواز آتی کہ پاؤں اٹھا کر چلو، یہ کیا گھسٹ گھسٹ کر چل رہے ہو۔ زبان پر بے انتہا عبور تھا، محاورات کا استعمال کثرت سے اور بر محل کیا کرتیں۔ ان سے سنے ہوئے محاورے جب ہم اپنی گفتگو میں استعمال کرتے تو لوگ یہ ضرور پوچھتے کہ یہ لفظ یا محاورہ آپ نے کس سے سیکھا؟ کیا آپ کا تعلق کسی علمی اور ادبی گھرانے سے ہے؟

بی جی سے سنے ہوئے اکثر الفاظ، محاورات، اور کہاوتیں، ہمیں یاد آتی ہیں، جیسے مر گیا مردود نہ فاتحہ نہ دورود، ریت کا موتا پاپ نہ پُن، جورو کا غلام، اٹھاریائی بھاگنا، چارچوٹ کی مارلگنا، کھال ادھیڑ دینا، پھوہڑیائی، دودھ لی گالے کی دو لاتیں ہی بھلی، بہن گھر بھائی کتا ساس گھر جمائی کتا، اٹھائی گیرا، کٹنی، لگائی بجھائی، کن سوئیاں لینا۔

بی جی کو ہم نے ہمیشہ متحرک دیکھا، گلی میں آنے والے سبزی فروشوں، مچھلی والوں اور خوانچے والوں سے روزمرہ کی چیزیں خرید کر سبزی بنا دینا۔ دال چاول چن دینا، کپڑے طے کردینا، بچوں کو نہلانا دھلانا، لڑکیوں کی چوٹی بنانا۔ اس کے علاوہ چھوٹی موٹی کترنوں سے کتر بیونت کرکے چھوٹے بچوں کے کپڑے تیار کرنا، لڑکوں کے کرتے اور لڑکیوں کی فراک اور جمپر بنانا بی جی کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ محلے پڑوس سے لوگ بی جی سے غرارے آڑے پائجامے اور رضائی کی گوٹ کٹوانے آیا کرتے تھے۔ اور وہ مہارت سے کم کپڑے میں بھی جوڑ توڑ کرکے چیز تیار کردیا کرتی تھیں۔

کروشیہ بننے، سوئیٹر بننے، سویاں بٹنے، ازاربن بننے، چُٹیلا بنانے، سلائی اور کڑھائی میں مہارت حاصل تھی۔ اگر کوئی اور بھی اس طرح کے کام کرتا ہوا دِکھتا تو خوش ہوتیں۔ رسالے پڑھنے اور خاص طور پر لڑکیوں کے رسالے پڑھنے پر بہت غصہ ہوا کرتیں۔ بچیوں کے کُرتے، جمپر اورقمیضوں میں کپڑا کم پڑ جاتا تو کچھ نہ کچھ جوڑ توڑ کر کبھی کلیاں ڈال کر، کبھی جالی کی آستینیں لگا کر یا کبھی کسی بیل کے ذریعے اس قمیض کی خوبصورتی میں اضافہ کر دیا کرتیں۔ اس زمانے میں بی جی کے ہاتھ کے سلے، آٹھ کلی، سولہ کلی، بتیس کلیوں کے کرتے، اور پشواز ہمیں آج بھی یاد ہیں۔ خاص طور پر ان کے ہاتھ کے بنے چٹا پٹی کے غرارے، دوپٹے اوربھوپالی کرتے، آج اگر ڈھونڈیں تو انتہائی مہنگی برانڈ میں ملیں گے۔

گوٹا کناری اور بیلوں کے لیے انھوں نے دو تین کسنے بنا رکھے تھے۔ سگھڑ ایسی تھیں کہ پرانے کپڑوں سے بھی گوٹا کناری، بیلیں ادھیڑ کر کسنے میں رکھ لیتیں اور جب پوتیوں، نواسیوں کی شادی بیاہ یا عید تہوار کے کپڑے سیتیں تو وہ بیلیں کام آجاتیں۔ ان کے ہاتھ کے بنے ہوئے کسنے گول گیند کی طرح تھے۔ ان کی ڈوریاں ڈھیلی کر کے وہ گوٹا کناری نکالتیں اور واپس ڈوریاں کس کر کھونٹی سے ٹانگ دیا کرتیں۔

گھر میں ہر بچے کا علیحدہ قرآن مجید موجود تھا۔ اکثر قرآن پاک کے نئے جزدان بناتیں اور اس کو گوٹا کناری لگا کر مزید خوبصورت کردیتیں۔ سردیوں کی آمد سے قبل نئی رضائیوں کے کور تیار کرتیں، پرانی رضائیوں کی روئی دُھنواکر نئے کور میں بھرائی کے لیے روئی والے کے پاس بھجواتیں اور جب روئی دُھن کر، رضائی میں بھر کر آجاتی تو بڑی بہو کے ساتھ مل کر رضائی میں ڈورے ڈالا کرتیں۔ بی جی کو دیکھ دیکھ کر پوتیوں نے بھی رضائی میں ڈورے ڈالنا سیکھ لیے تھے۔

بڑھاپے میں ان کی سرمئی آنکھیں بے انتہا چمکدار محسوس ہوتیں۔ سردیوں میں جب وہ نہا دھو کر بال سکھانے کے لیے دھوپ میں بیٹھتیں تو ان کی گندمی رنگت، سرمئی آنکھیں اور سرمئی بال بچوں کو مبہوت کردیتے۔ بچوں پر ان کا ایک خاص قسم کا رعب تھا۔ ایک آواز لگاتیں اور تمام پوتے پوتیاں ارد گرد جمع ہوجاتے۔ پوتے پوتیوں کو وہ اپنے پروں میں چھپا کر رکھتیں۔ بچے ان کی مسہری پر پائنتی میں پہلو میں لیٹ کر سو جاتے اور تھکی ہاری ان کی بہوؤں کو ہوش بھی نہیں رہتا، رات کے کسی پہر ان بچوں کو اٹھا کر باتھ روم لے جاتیں تاکہ بستر گیلانہ ہو۔

بی جی کوصبح دیر تک سونا سخت ناپسند تھا۔ زیادہ دیر تک سونے والوں کو خوب صلواتیں سننے کو ملتیں ان کا کہنا تھا کہ فجر کے بعد دیر تک شیطان سوتا ہے۔ سردیوں میں بھی ٹھیک فجر کے وقت اٹھ جاتیں۔ نماز کے بعد سات بجے تک انتظار کرتیں کہ بہوئیں اٹھ جائیں تو ناشتہ دیں۔ اگر ذرا سی بھی دیر ہوجاتی تو خود ہی ناشتہ بنا لیتیں۔ بڑھتی ہوئی عمر اور کمزوری کی وجہ سے ایک آدھ دفعہ دیگچی ہاتھ سے چھوٹ گئی تو انھوں نے باورچی خانے جانا چھوڑ دیا تھا۔

گھر میں جب کسی نئے بچے کی آمد کے آثار ہوتے تو بی جی خاموشی سے گھر پر دائی یا ساڑھی والی سسٹر کو بلالیتیں۔ سسٹر کا آنا جانا ایک دو روز قبل شروع ہوجاتا اور وہ بی جی کو بتا جاتیں کہ ولادت میں ابھی اتنا وقت باقی ہے۔ پھر چاہے رات کے چار بجے ہی دائی یا ساڑھی والی سسٹر کی ضرورت پڑتی بی جی فوراً بلوا لیتیں۔ صبح بچوں کو ناشتے کے دوران علم ہوتا کہ گھر میں نیا مہمان آچکا ہے۔ یہ تمام کام انتہائی خاموشی سے انجام پاتے۔ لڑکوں کی پیدائش پر موتی چور کے لڈو اور لڑکیوں کی پیدائش پر جلیبیاں تقسیم کرواتیں۔

سردیوں کے مخصوص کھانے ان ہی کی رہینِ منت تھے۔ سردیوں میں باجرے کی ٹکیاں ضرور بنتیں۔ بھنے چنے، الائچی دانہ اور کشمش وافر مقدار میں منگا کر ملا کررکھتیں۔ سردیوں میں بچوں کو تھوڑی تھوڑی دیر میں بھوک لگتی تو مٹھی بھر ہر بچے کو دیتیں۔ اکثر اوقات وہ کمرے میں نہ ہوتیں تو بچے خاموشی سے ان کے کنستر نما ڈبے سے جس میں ڈھکن اور تالا لگا ہوا تھا چابی سے کھول کر بھنے چنے، الائچی دانہ اور کشمش پار کرلیتے۔ ان کو فوراً ہی خبر ہوجاتی مگر ان جان بن جاتیں۔

سردیوں میں دو تین مرتبہ بیس بیس کلو گاجر کا حلوہ بنتا۔ جس میں تمام میوہ جات کے علاوہ کھویا بھی وافر مقدار میں ڈلتا۔ گھر میں اس زمانے میں فریج نہیں تھا۔ اس لیے اس حلوے کو اونچائی پر ٹنگے ہوئے چھیکے میں کسی جالی کے کپڑے یا چھلنی سے ڈھک کر رکھ دیا جاتا۔ کھانے کے بعد گاجر کا حلوہ گرم کرکے تقریباً تمام لوگوں کو دیا جاتا۔

سنا تھا کہ سخت سے سخت وقت میں خود داری اور عزتِ نفس کا یہ عالم تھا کہ بھوکی سوگئیں مگر پڑوس کو خبر نہ ہونے دی۔ اپنے بچوں، پوتے، پوتیوں کو بھی یہ ہی تربیت دی تھی۔ عزت سے روکھی سوکھی کھا کر دنیا کے سامنے خوش باش نظر آؤ تاکہ لوگ ترس نہ کھائیں۔ بچوں پر بی جی کے رعب کی ایک وجہ ان کی نائیلون کی چپل اور پائپ سے پٹائی بھی تھی۔ اوّل تو کچھ کہتی نہیں تھیں۔ مگر جب غصہ آتا تو پائپ سے ایسی پٹائی لگتی کہ نیل پڑجاتے۔

ان کا کہنا تھا کہ مارو تو پھر ایسا کہ نیل پڑجائیں اور بچے اس نیل کو دیکھ دیکھ کر روئیں اور عبرت پکڑیں۔ اِس طرح نہ صرف پٹنے والا بچہ سدھر جاتا بلکہ دیگر بہن بھائی دوست احباب اور کزن بھی اس غلطی سے توبہ کرلیتے۔ وی سی آر کی آمد کے بعد جب پاکستان میں انڈین فلموں کا دور دورہ تھا اس وقت بھی ہفتے یا پندرہ دن میں بمشکل ان سے ایک فلم دیکھنے کی اجازت ملتی، فلم چلنے کے دوران گھر میں جلے پیر کی بلی کی مانند حرکت کرتی رہتیں۔ اگر فلم ختم ہونے میں دیر ہوجاتی توڈانٹ کر بند کروا دیتیں کہ عصر کا وقت ہورہا ہے یا دونوں وقت مل رہے ہیں اور گھر میں منحوسیت پھیلائی ہوئی ہے۔

بی جی نے قرآن پاک نہیں پڑھا تھا۔ حافظہ اچھا تھا۔ قرآن پاک کی کئی سورتیں زبانی یاد تھی۔ فارسی بھی کسی حد تک جانتی تھی۔ کہانیاں کہنے میں مہارت تھی بچے رات میں کہانی سنانے کی ضد کرتے تو اساطیری، داستانی اور دیومالائی کہانی سناتیں کبھی جدید دور کی سبق آموز عام سی کہانیاں۔ سنا تھا کہ بی جی کے چودہ بچے ہوئے تھے جن میں سے صرف تین حیات رہے ایک جوان بیٹے نورحسن کا عین جوانی میں بخار میں انتقال ہوا تھا اکثر اس بیٹے کا تذکرہ کیا کرتی تھیں۔ جو جو بچے دنیا میں آئے اور آکر واپس چلے گئے ان کا غم ہمیشہ ان کے دل میں رہا مگر اظہار ذرا کم کیا کرتی تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *