عورت آزادی مارچ 2020 ء اور مردانہ عدم برداشت کا طوفان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک بات کی تو میں قائل ہو گئی ہوں۔ وہ یہ کہ اگر کسی عامیانہ ذہنیت کے مرد یا فیس بُکی / ٹویٹری دانشور کو انگاروں پہ لوٹانا ہو تو اس کے سامنے ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ لگا دیں۔ اس نعرے کی ننھی سی تیلی فریقِ مخالف کی ”شرم و غیرت“ کو آگ لگا د ینے کے لئے کافی ہو گی۔ تب وہ ایک ڈریگن کی مانند زبان سے ایسے شعلے برسائے گا جنہیں بجھانے کے لئے فائر بریگیڈ بھی ناکافی ہو گا۔

”میرا جسم میری مرضی“ کی شدید مخالفت اور یہ نعرہ لگانے والی ہر خاتون کو فاحشہ اور طوائف کا خطاب دے دینا مردانہ عدم برداشت کا افسوسناک اظہار ہے۔ اس نعرے کی سیدھی سادی تشریح یہ ہے کہ عورت کو جسمانی و جنسی معاملات میں رضامندی کے ساتھ ساتھ انکار کا بھی حق ہے۔ البتہ رضامندی صرف قانونی اور جائز رشتے کے لئے ہونی چاہیے۔ ان حقوق سے کوئی ذی عقل اور باشعور شخص انکار نہیں کرے گا۔ اس مفہوم کو سمجھے بغیر صنفِ نازک پر یلغار اور اُسے گالیوں سے نوازنا قطعی نا انصافی ہے۔

کسی خاتون سیاستدان پر یہ الزام کہ وہ غیرملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور اسلامی ملک کی باعزت خواتین کو فحاشی کی طرف راغب کرنا ان کا مقصد ہے، اس الزام کا ثبو ت جس کے پاس ہے، وہ عدالت میں پیش کر دے۔ جب ملزمہ عدالت کے سامنے جواب دہ ہوں گی تو حقائق سامنے آ ہی جائیں گے۔ محض الزام کی کوئی حیثیت نہیں۔ یہ تو کسی بھی ناپسندیدہ شخص پر لگایا جا سکتا ہے۔ عین ممکن ہے کہ غیرملکی ایجنڈے پر عمل کرنے کا الزام مجھ پر لگا دیا جائے کیونکہ میں بھی حقوق ِ نسواں کی زبردست حامی ہوں۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب کوئی عورت مرد کی مرضی کے خلاف اور اپنے حق کے لئے آواز اٹھاتی ہے تو پہلا جوابی وار اس کے کردار پر کیا جاتا ہے۔ اداکارہ ریشم نے جب خلیل الرحمن صاحب کی مخالفت کی تو ”باغیرت اور باحیا“ مردوں سے برداشت نہ ہوا اور لگے ریشم صاحبہ کی کردارکشی کرنے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عورت کے کردار پر (چاہے وہ اچھی ہو یا بری) انگلی اٹھانے والے مرد کا اپنا کردار ایک سوالیہ نشان ہوتا ہے۔

مردوں کو مسئلہ لفظ جسم سے نہیں، مرضی سے ہے۔ عورت کی یہ جرأت کہ وہ اپنی مرضی کرے؟ ہم دیکھتے ہیں کیسے اپنی مرضی کرتی ہے۔ لیکن جناب، تبدیلی آ کر ر ہے گی۔ بلکہ جو ہوا بڑے شہروں سے چلی ہے، وہ چھوٹے شہروں اور دیہات کی عورت تک بھی ضرور پہنچے گی۔ البتہ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ چھوٹے شہروں اور دیہات کی عورت کی نمائندگی ابھی بہت کم ہے جسے بڑھانے کی اشد ضر ورت ہے۔ دور دراز علاقے جہاں الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی رسائی نہیں، ان خواتین نے تو شاید عورت مارچ کا نام بھی نہ سنا ہو۔

”میرا جسم میری مرضی“ کے حوالے سے مردوں کی عدم برداشت، اپنی مرضی عورت پر مسلط کرنا، اپنے جسم پر اپنا حق طلب کرنے والی کو فا حشہ اور طوائف قرار دینا، یہ روئیے جلد یا بدیر بدلیں گے۔ آخر میں چند باتیں واضح کر دوں جو کچھ لوگوں کے لئے مبہم ہیں :۔

”میرا جسم میری مرضی“ =

گھر کے اندر اور باہر جنسی اور جسمانی تحفظ، آبرو کا تحفظ

ازدواجی آبروریزی (Marital rape) اور بار بار اولاد کی پیدائش کے خلاف تحفظ (بالخصوص اگر مرد کے نصیب میں بیٹا نہیں )

مناسب آرام، تفریح، صحت اور خوراک کا حق

صحت کی خرابی اور بیماری کی صورت میں علاج کا حق

ونی، سوارہ، وٹہ سٹہ، جبری شادی، کم سنی کی شادی، بڈھے سے شادی، پسند کی شادی پر قتل، غیرت کے نام پر قتل جیسی قبیح رسوم کے خلاف تحفظ

جبری مشقت کے خلاف تحفظ

شوہر، باپ، بھائی، بیٹے، یا کسی اور مرد کی طرف سے مسلط کردہ جبری عصمت فروشی کے خلاف تحفظ

حتیٰ کہ طوائف کے بھی حقوق ہیں۔ اسے ناپسندیدہ یا بدصورت مرد کے ساتھ زبردستی وقت گزارنے کے خلاف تحفظ ملنا چاہیے۔

”میرا جسم میری مرضی“ کی ان تشریحات پر جسے اختلاف ہے، وہ مہذبانہ انداز میں خوش اخلاقی سے اس کا اظہار کرے۔ مباحثہ اور مکالمہ ہی معاملات کو بہتر بناتا ہے نہ کہ صنفِ نازک کو گا لیاں دینا۔ جتنا زیادہ ہم میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی اہلیت ہو گی، اتنا ہی ذیاد ہ صنفی مسائل کا حل آسان ہو گا۔ تو جناب، اتفاق کرتے ہیں نا آپ مجھ سے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *