بے لوث پارسائیں اور مشرقی اقدار کے علمبردار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم سب پہ اقبال عباسی صاحب کا ایک بلاگ نظر سے گزرا عنوان تھا ”کرائے کی عورتیں اور لنڈے کے ارسطو“ بلاگ ادبی اور علمی شائستگی کا بہت ہی حسین امتراج ہے۔ زبان و بیان کی لطافت کا اس سے اعلی مظہر تخلیق کیا جانا ممکن نہیں ہے جو کہ بلاگ کے عنوان سے ہی عیاں ہے۔ بلاگر صاحب نے انتہائی خوبصورتی سے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ مشرقی اقدار کیا ہیں اور کس طرح بیرونی فنڈز کے زور پہ چلنے والے خواتین و حضرات ہماری عظیم اقدار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

پہلی بات کہ خلیل الرحمان قمر صاحب کی شیریں بیانی کو بیرونی فنڈ زدہ میڈیا نے بہت غلط انداز سے پیش ہے۔ خلیل الرحمان قمر بہت ہی فصیح اور شیریں زبان میں مشرقی اقدار کو بیان کر رہے تھے لیکن سوشل میڈیا اور میڈیا پہ پائے جانے والے لنڈے کے ارسطو نے اسے غلط انداز سے پیش کیا۔ کسی بھی مکالمے میں خواہ وہ عورت سے ہو یا مرد سے گالم گلوچ کرنا، دوسرے فریق کو دھمکانا اس کی تذلیل کرنا عین مشرقی اقدار کے مطابق ہہے۔ مخالف کو کرائے پہ خریدی عورت کہنا بالکل اخلاقی قدر ہے۔

اس کی باڈی شیمنگ کرنا بھی اخلاقی بات ہے۔ پھر اسی سے متعلق کوئی دوسرا فرد بات کرے تو اسے گالم گلوچ کرنا جیسا کہ فرخ وڑائچ کے ساتھ ہوا قابل معافی ہے۔ وجہ سادہ سی ہے کہ بلاگر کے مطابق خلیل الرحمان قمر اسلامی و مشرقی اقدار کے علمبردار ہیں اور یہ لنڈے کے ارسطو اور کرائے کی عورت اسی قابل ہیں کہ ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جائے۔

دوسرا اہم نکتہ جس کی جانب توجہ دلوائی گئی ہے وہ ہے عورت مارچ میں پچھلے سال لگایا گیا ایک سلوگن ”میرا جسم میری مرضی“ ہے۔ بلاگر فرماتے ہیں گو کہ کہا گیا ہے کہ یہ نعرہ ونی، پنچایت ریپ، ہراسمٹ کے خلاف لگائے جانے کا دعوی کیا گیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہے۔ نعرہ لگانے والے خود اس کی تشریح نہیں کر سکتے در اصل یہ نعرہ وہی ہے جو وہ اور ان جیسی ذہنت کے حامل لوگ سمجھتے ہیں۔

ساتھ ہی اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے ایک مثال دی جو مختاراں مائی کا کیس تھا۔ جس میں پنچایت نے خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی اجازت دی۔ پنچایت کے فیصلے پہ عمل ہوا۔ یہ بالکل درست تھا کیونکہ ہماری اپنی اقدار ہیں اور اس میں پنچایت یا گاؤں کے بڑوں کا فیصلہ ماننا مودب ہونے اور اچھی عورت ہونے کی علامت ہے لیکن مسئلہ تب ہوا جب کچھ فارن فنڈڈ آرگنائزیشنز نے یہ معاملہ اٹھا دیا۔ اسے جرم قرار دیا گیا۔

گویا زیادتی ہونا کوئی جرم نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف آواز اٹھانا ظلم ہے۔ اور اس سے ملک کا نام خراب ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس عورت کی حیثیت ہی کیا تھی کیا ہوا کہ ایک پورے گاؤں نے فیصلہ کیا کہ چند مرد اس پہ اپنے مثانے کا بوجھ ہلکا کر لیں۔ لیکن نہیں کرائے کی عورتوں نے فیصلہ لر لیا کہ آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے اور اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئیں اور ملک کو بدنام کیا۔

اسی بات کو مزید واضح کرتے ہوئے ایک اور فارن فنڈڈ سر پھر لڑکی ملالہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیا ہوا کہ اسے طالبان نے ایک گولی سر میں مار دی عام سی بات ہے۔ اس کا جسم طالبان کی مرضی۔ لیکن یہاں پھر لنڈے لے ارسطووں کو تکلیف ہو گئی بات میڈیا پہ آوٹ ہوئی اور بدنامی ملک کی۔ میں بلاگر صاحب کا درد سمجھ سکتی ہوں۔ جان اہم تھوڑا ہی ہے عزت اہم ہے عزت بلکہ جھوٹی عزت۔ منافقت میں لتھٹری ہوئی عزت۔

بات یہیں ختم نہیں ہوئی ایک اور کرائے کی عوت شرمین عبید چنائے نے تیزاب گردی پہ ڈاکومنٹری بنا کہ دنیا کو بتا دیا کہ اس خواتین اس ظلم کا شکار ہیں۔ بلاگر فرماتے ہیں دو تین کیسز کے لیے ایسی حرکت کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ عورت کا جسم کسی جنونی کی مرضی۔ سر عرض یہ ہے کہ تیزاب ایک پہ انڈیلا جائے یا کئیوں پہ۔ یہ جرم ہے اور اس بولنا لازم ہے۔ اور ایسے واقعات ایکا دکا نہیں ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں۔ بلاگر کا ماننا یہی ہے کہ ہو گیا سو گیا کیا ضرورت ہے اس پہ بات کرنے کی۔

یہی نہیں وہ بچوں پہ ہونے والے جنسی تشدد کی بھی بات کرتے ہیں کہ انہیں اس پہ ایک پراجیکٹ کے سلسلے میں کچھ میٹریل دیکھنے کا موقع ملا جس پہ ان کا کہنا ہے ایسا کچھ خاص نہیں ہے یہ معاملہ بھی بس پیسے کا ضیاع ہے۔

گویا مشرقی اقدار میں ریپ، قتل، گالم گلوچ، باڈی شیمنگ، دھمکانا، تیزاب گردی سب جائز ہے اس پہ آواز اٹھانے والے لنڈے کے ارسطواور کرائے کی عورتیں ہیں۔ جب کہ پارسائیں عورت مارچ دوہزار بیس کے عورت مارچ پہ ان کرائے کی عورتوں پہ پتھر برسانے نکل آئیں انہیں زخمی کر دیا۔ جبکہ مشرقی اقدار کے علمبردار لنڈے کے لبرل و ارسطو اور کرائے کی عورتوں جیسے الفاظ کو بہت فخر سے اپنے مخالفین کے لیے نہ صرف استعمال کرتے ہیں بلکہ ان پہ فخر بھی کرتے ہیں۔ اگر یہی آپ کی تہذیب و اقدار ہیں تو ایسی تہذیب و اقدار کو میرا سلام۔

”کرائے کی عورتیں اور لنڈے کے ارسطو“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *