میرا جسم، میری مرضی: گولڑہ شریف کے تین بھائی اور ایک بہن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت مارچ سے چہار سو گونجتے متنازعہ نعرے “میرا جسم، میری مرضی” کے بعد ہم پہ ایک شکریہ واجب ہو گیا ہے!

اور یہ شکریہ ادا کرنا ہے گولڑہ شریف راولپنڈی کے رہائشی ان باریش بھائیوں کا جنہوں نے ثابت کر دیا کہ اس نعرے کی صداقت اور اصلیت کیا ہے اورہمارے معاشرے کی مجموعی حمیت و غیرت کہاں کھڑی ہے؟

خبر پچھلے برس کی ہے لیکن جب بھی پڑھیں جسم و روح کو ریزہ ریزہ کرتی ہے۔ دل تھام کے سنیے؛ تین سگے بھائی، عمریں تئیس سے تیس سال کے درمیان اپنی چودہ سالہ معصوم بہن کے جسم کو کئی برس تک اپنی ہوس کا نشانہ بناتے رہے۔ یہ بھی جان لیجئے ان تین میں سے ایک بھائی دینی مدرسے کا استاد تھا۔ چوتھا بھائی جو ٹانگوں سے معذور تھا اس کار خیر میں حصہ نہ بٹا سکا۔

پانچ بھائیوں اور چار بہنوں پہ مشتمل اس خاندان نے اس درندگی سے کیسے پہلوتہی برتی؟ ننھی معصوم بہن کو اس ظلم پہ کیسے خاموش کروایا گیا ؟ یہ تو علم نہیں لیکن خبر شنید ہے کہ مذہب اور مقدس کتابوں کا حوالہ اس معصوم کی زبان بندی کے لئے استعمال ہوا۔ نہ معلوم یہ حوالہ ہابیل وقابیل کے درمیان پائی جانے والی چپقلش کے بارے میں تھا یا کچھ اور؟

عورت کے جسم پہ کس کا حق ہے اور کس کی اجارہ داری، غاصب یہ بات نہیں سمجھنا چاہتا، چاہے لہو کی ڈوری میں ہی بندھا کیوں نہ ہو۔ شاید اس واقعےکی تفصیل جاننے کے بعد کچھ مرد و زن سمجھ جائیں جو اس نعرے کو فحش ثابت کرنے کے لئے زبان کی دو دھاری تلوار استعمال کر کے کشتوں کے پشتے لگانےمیں مصروف ہیں۔

ہمارا دل اس معصوم بچی کا وڈیو کلپ دیکھ کے خون کے آنسو رو اٹھا اور مانو ہر رشتے پہ سے ایمان سا اٹھ گیا۔ وہی ہوا نا کہ عورت صرف جسم کا نام ٹھہرا۔ مذہب، معاشرہ، اخلاق سب گڈمڈ ہو گئے۔

انسان جب کسی مذہب کے بنا جنگلوں میں بسیرا کیا کرتا تھا تب بھی انسانیت و حرمت کے بنیادی اصول کی پاسداری ہوا کرتی تھی۔ ایک ہی ماں باپ کے گھر جنم لینے والوں کے درمیان جنسی تعلق قائم ہونا انسانیت سے گرا ہوا فعل ہے، حضرت انسان کو اس کا ادراک تب بھی تھا۔

اس حرمت کی بے حرمتی کا ذکر تاریخ میں Incest کے نام سے فرعونوں کےزمانے سے ملتا ہے جب بادشاہت کو محفوظ کرنے کے لئے بہن بھائیوں کی شادی کی جاتی تھی۔ مشہور فرعون طوطن خامن اس سلسلے کا ایسا فرد ہے جس کے ماں باپ بھی بہن بھائی تھے اور اس نے خود بھی بہن سے ہی شادی کی۔ مصر کی مشہور عالم کلیوپیٹرا کی شادی اپنے چھوٹے بھائی سے ہوئی اور ان دونوں کے ماں باپ بھی بہن بھائی تھے۔

الہامی کتابوں نے اصول واضح کر دئیے کہ خونی رشتوں میں اختلاط کی انسانیت میں کوئی گنجائش نہیں۔ لیکن آج کے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نظریہ ضرورت خونی رشتوں اور اخلاقیات کی کیسے دھجیاں اڑاتا ہے، اس کی جھلک ہم تک اکثرو بیشتر پہنچتی رہتی ہے۔

کیا اس چودہ سالہ معصوم یتیم بچی کی بے کسی اور اذیت کا اندازہ کوئی ذی شعورلگا سکتا ہے جب کسی ظالم لمحے میں اپنے باپ جیسے بھائی نے اس کا ہاتھ پکڑا ہو گا، اسے بے لباس کیا ہو گا،اپنے بھاری ہاتھ کو اس کے منہ پہ جما کے اس کی چیخوں کا گلا گھونٹا ہو گا۔ وہ معصوم جو ابھی اس تعلق کی کھٹنائیوں کو صحیح سے جانتی بھی نہیں، اس کو کس اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہو گا۔ کیا وہ تکلیف کےان لمحات میں سوچتی ہو گی کہ میں کس دنیا کی باسی ہوں؟ کیا اس جگہ کو جنگل کہتے ہیں؟ لیکن سنا ہے کہ جنگلوں کا بھی کوئی قانون ہوا کرتا ہے۔

اگلی صبح اسی بھائی نے اسے کس نظر سے دیکھا ہو گا؟ دن کی روشنی میں لاڈلی چھوٹی بہن کے لاڈ اٹھانے والا رات کو اس کے جسم کو ایک اجنبی عورت سمجھ کے کھیلنے والا اپنے آپ کو کیا کہہ کے مطمئن ہوتا ہو گا۔

جیسے کوڑھ کی بیماری ایک سے دوسرے کو لگ کے جسموں کو پیپ کے پھوڑےمیں بدل دیا کرتی ہے، اس ذہنی دیوالیہ پن کے جراثیم نے باقی دو بھائیوں کو بھی جکڑا ہو گا۔ مفت کے مال نے، چاہے اپنے گھر کا ہی ہو، انہیں ویسے ہی وحشی اور بدمست کیا ہو گا۔ رات کی تاریکی میں جانوروں کا کھیل کھیلنے والے دن کی روشنی میں مذہب کا لبادہ اوڑھ کے کس طرح اپنے آپ کو بری الذمہ کرتےہوں گے، بہن کی مشترکہ ملکیت کے بارے میں کیسے ایک دوسرے سے نظریں ملاتے ہوں گے، بخدا ہم سمجھنے سے قاصر ہیں۔

کئی برس یہ شرمناک کھیل کھیلنے کے بعد اب ان بھائیوں کے پاس تو شاید چلوبھر پانی کے برابر بھی شرم موجود نہیں کہ معافی کی طلبگار ہیں۔ نہ جانے کیسےابھی تک زندہ رہنے کی تڑپ باقی ہے، شاید ڈھٹائی اپنے اعلی درجے پہ ہے۔  سفوکلیز کے کھیل ایڈی پس میں مردانی کردار نے غلطی سے اپنی ہی ماں سے شادی کر لی تھی تو مارے شرمندگی کے اپنی آنکھیں نوچ ڈالی تھیں۔  ہمارے پاس انتون چیخوف کا قلم نہیں ہے۔ اس نے تین بہنوں کے نام سے ایک تمثیل لکھی تھی۔ ہمیں چیخوف کا قلم نصیب ہوتا تو ہم نے “تین بھائی” کے عنوان سے گراوٹ کی یہ حکایت لکھی ہوتی۔

ہمارا خیال ہے کہ ان تینوں کو باقی ماندہ عمر کاٹنے کے لئے چڑیا گھر کے پنجرے الاٹ کر دینے چاہییں۔ خلق خدا کم ازکم یہ تو جان لے کہ جسم اور مرضی کو خاطرمیں نہ لانے والے کس طرح کے ہوا کرتے ہیں۔  اور شاید اس وسیلے سے ہم درمیان کچھ لوگ “میرا جسم ، میری مرضی کا مفہوم بھی جان لیں۔

اور اگر آپ کو اس خبر کی صداقت کے بارے میں کوئی شک و شبہ ہے تو ذیل کے اخباری لنک ملاحظہ فرمائیں۔

https://dailytimes.com.pk/371000/three-brothers-suspected-of-raping-their-sister-have-been-sent-on-judicial-remand/

https://www.incpak.com/national/islamabad/golra-rape-case/

https://www.incpak.com/national/islamabad/golra-rape-case/

https://www.thenews.com.pk/print/451411-civil-judge-orders-production-of-3-brothers-in-rape-case

https://www.pakistantoday.com.pk/2019/03/29/police-arrest-three-brothers-for-raping-sister/

https://www.pakistantoday.com.pk/2019/03/29/police-arrest-three-brothers-for-raping-sister/

https://www.dawn.com/news/1472457

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *