افغانستان: بل رچرڈسن اور زلمے خیل زاد کے سفارتی مشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

17اپریل 1998، کی ایک خنک دار صبح کو افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ائیر پورٹ پر ایک امریکی طیارہ نے لینڈ کیا۔ تقریباًدو دہائیوں کے بعد کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار کا افغانستان کا یہ پہلا دورہ تھا۔ 1996ء میں کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد عالمی برادری نے افغانستان کو تو پوری طرح سے الگ تھلگ کرکے رکھ دیا تھا۔ ائیرپورٹ پر افغانستان میں پاکستانی سفیر عزیر احمد خان اور طالبان کے اعلیٰ راہنما امریکی مہمان کے استقبال کیلئے رن وے پر کھڑے تھے۔

افغانستان میں امن کے حوالے سے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی لکدر براہمی کی ناکامی کے بعد امریکہ نے اپنے سب سے سینئر اور منجھے ہوئے سفارت کار بل رچرڈسن کو طالبان کے ساتھ گفت و شنید کیلئے بھیجا تھا۔ ان کے دورہ کو کامیاب بنانے کیلئے عزیر احمد خان نے خاصا گرائوونڈ ورک کیا ہوا تھا۔ وہ تین بار قندھار میں ملا عمر اور کابل میں طالبان کی سپریم کونسل کے سربراہ ملا ربانی آخوند سے ملے تھے اور ان کو باور کرایا تھا کہ بین الاقوامی تنہائی دور کرنے کا یہ ایک نادر موقعہ ہے۔
تقریباً دو گھنٹے کی ملاقات جو ظہرکی نما ز کے بعد پر تکلف کھانے پر بھی جاری رہی، دونوں فریقین نے ایک معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دی۔ رچرڈسن کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ان کا یہ دورہ اس قدر کامیاب ثابت ہوگا۔ وہ جو امیدیں لیکر آئے تھے اس سے کچھ زیادہ ہی لیکر واپس جا رہے تھے۔ معاہدہ کے مطابق طالبان جنگ بندی پر اور شمالی اتحاد کے لیڈران کے ساتھ براہ راست ملاقات کرنے پر آمادہ ہو گئے تھے۔ خواتین کے حقوق اور ان کی تعلیم کے حوالے سے امریکہ میں جو خدشات تھے، جن کی وجہ سے حقوق نسواں کی انجمنوں نے صدر کلنٹن کا ناطقہ بند کیا ہوا تھا، طالبان نے اپنے اعتراضات ختم کر دئے۔
وہ مخلوط تعلیم پر رضامند تو نہیں ہوئے، مگر خواتین کی اعلیٰ تعلیم کیلئے علیحدہ کالج اور یونیورسٹیاں قائم کرنے پر تیار ہوگئے تھے اور طے ہوا کہ امریکہ یہ ادارے قائم کروانے میں مدد کریگا۔ خواتین کے علاج معالجہ کیلئے غیر ملکی لیڈی ڈاکٹرز کو کام کرنے کی اجازت دی گئی اور اس دوران افغان خواتین کی طبی تعلیم کے انتظامات کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ طالبان نے یقین دلایا کہ پورے ملک میں پوست و افیون کی کاشت بالکل بند کی جائیگی۔ ایک امریکی عہدیدار نے بعد میں بتایا کہ طالبان اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے پر راضی تو نہیں ہوئے، مگر انہوں نے عہد کیا کہ لادن اور عرب جنگجووں کی سرگرمیوں پر قد غن لگائی جائیگی۔
ملا ربانی نے رچرڈسن کو بتایا کہ بن لاد ن کوئی عالم نہیں ہے ۔ وہ کوئی فتویٰ جاری نہیں کرسکتا ہے۔ اسلئے اس کے احکامات کی کوئی پابندی نہیں کریگا۔ طالبان نے یہ بھی تسلیم کیا کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف یا دہشت گردی کے اڈے کے بطور استعمال نہیں ہونے دینگے۔ رچرڈسن اور عزیز احمد خان طالبان کی اس لچک پر پھولے نہیں سما رہے تھے۔ لکدر براہمی جہاں ناکام ہو گئے تھے، رچرڈسن بس چند گھنٹے ہی میں سمیٹ کر لے گئے تھے۔
کابل میں چارگھنٹے کے قیام کے بعد رچرڈسن بدخشان میں احمد شاہ مسعود سے ملنے کیلئے ایر پورٹ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں معلوم ہوا کہ مسعود کسی اور ضروری کام کے سلسلے میں تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ چلے گئے ہیں۔بعد میں معلوم ہوا کہ جس وقت رچرڈسن کابل میں گفت و شنید میںمصروف تھے، اسی وقت بھارتی فضائیہ کا ایک جہاز دوشنبہ سے 130کلومیٹر دور فرخور ملٹری ائیر پورٹ پر اتر رہا تھا۔ اس ائیر پورٹ کو بھارت کی خارجی انٹلیجنس ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ یعنی رانے لیز پر لیا ہوا تھا۔
اس بیس پر ایک بھارتی افسرمسعود سے ملاقات کرنے اور کچھ ساز و سامان شمالی اتحاد کے حوالے کرنے آیا تھا۔ رچرڈسن نے اب بدخشاں کے بجائے اپنے طیارہ کا رخ شبرگان کی طرف کیا، جہاں عبدالرشید دوستم، برہان الدین ربانی اور حزب وحدت کے کمانڈر کریم خلیلی اس کے منتظر تھے۔
مسعود نے آخر اس اعلیٰ امریکی عہدیدار سے ملاقات کرنے کی بجائے تاجکستان میں ایک بھارتی افسر سے ملاقات پر کیوں ترجیج دی، ہنوز ایک راز ہے۔
کلنٹن انتظامیہ میں رچرڈسن کی حیثیت اور پروفائل کے حوالے سے شاید ہی کوئی ان سے ملاقات سے انکار کرسکتا تھا تاآنکہ کوئی اور وجہ نہ ہو۔شبرگان میں رچرڈسن کیلئے تفریحی پروگرام بھی رکھا گیا تھا۔ ایک پر تکلف استقبالیہ کے علاوہ ایک میدان میں بز کشی دیکھنے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔شبر گان میں شمالی اتحاد کے لیڈران نے طالبان کے ساتھ براہ راست انٹرا افغان مذاکرات پر رضامندی ظاہر کی۔ اسی رات اسلام آباد کے ایک عالیشان ہوٹل میں جام لنڈھاتے ہوئے رچرڈسن پاکستان میں مقیم امریکی سفیر کو بتا رہے تھے ، کہ افغانی اب جنگ و جد ل کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جنگ سے بیزاری افغانیوں کی آ نکھوں میں جھلک رہی ہے اور وہ ان کی آنکھوں میں دیکھ کر آئے ہیں۔ شمالی اتحاد کیلئے جو سب سے اہم رعایت رچرڈسن حاصل کر کے لے آئے تھے، وہ یہ تھی کہ طالبان نے کوہ بابا یعنی ہزاراجات میںمحصور آبادیوں کی اقتصادی ناکہ بندی ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ ان علاقوں کے لاکھوں مکین اور امدادی کارکن ایک طرح سے بھکمری کے شکار تھے۔
اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ چند ہفتے قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پائی گئی ڈیل اور 22سال قبل کابل میں رچرڈسن کے معاہدے کے مندرجات میں شاید ہی کوئی فرق ہے۔ مگر اس معاہدہ پر عمل درآمد نہ کرنے اور لیت و لعل کی وجہ سے خطے میں قتل و غارت گری کا ایک ایسا بازار گرم ہوگیا ، کہ چنگیز خاں و ہلاکو خان کی روحیں بھی تڑپ رہی ہونگی۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف پچھلے دس سالوںمیں ہی اس بدقسمت ملک میں ایک لاکھ شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
2001ء کے بعد جنگ میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے 975بلین ڈالر خرچ کئے۔ اس کی بس ایک چوتھائی رقم سے ہی افغانستان کی تعمیر نو ہوسکتی تھی۔ اتحاد کے 4030سپاہی اور افسران مارے گئے۔پڑوسی ملک پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 60ہزار افراد کی جانیں چلی گئیں اور 120بلین ڈالر کی اقتصادیات متاثر ہوگئیں۔ آخر اس قتل و غارت گری کا کون ذمہ دار ہے؟
بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *