جھاڑو اٹھا لیں، اس سے پہلے کہ آپ اٹھ جائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ حجام کی دکان پر بیٹھے ہیں۔ ٹی وی چل رہا ہے۔ اچانک آپ کی مخالف پارٹی کا سیاستدان ایک ٹاک شو میں آپ کے پسندیدہ لیڈر کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔ حجامت بنواتے ہوئے آپ کے منہ میں ایک جملہ آتا ہے جو تہذیب سے عاری ہوتا ہے۔ مگر پیچھے بیٹھے معزز اہل محلہ میں اپنی عزت کے خیال سے آپ خاموش ہو جاتے ہیں۔ بلکہ اگر محلے کا کوئی جذباتی نوجوان اخلاق سے گری بات کر دے تو اپنی شائستگی کا بھرم رکھنے کو آپ اسے ایک مرتبہ گھورتے بھی ہیں۔

اسی طرح سر بازار چلتے ہوئے آپ دیکھتے ہیں کہ گزشتہ کئی روز کی طرح آج بھی محلے کا سبزی فروش اور مرغی خانے والا مسئلہ حاضر ناظر یا نور، بشر پر، یا رفع یدین کے موضوع پر گرما گرم مناظرہ کر رہے ہیں۔ آپ کا علم جوش مارتا ہے کہ اپنے ہم مسلک پھیری والے کی حمایت میں دو چار دلائل دے کر ہمیشہ کے لیے یہ معاملہ ختم کر دیا جائے۔ ظاہر ہے دونوں نیم خواندہ مناظرین کا مبلغ علم آپ کے پاسنگ بھی نہیں۔ آپ نے اپنے مسلک کے مولانا صاحب کے علاوہ بھی بہت سی کتابیں پڑھ رکھی ہیں۔

چاہیں تو ہر موضوع پر ان دونوں کی بحث کا جواب دے سکتے ہیں۔ مگر آپ دو وجوہات کی بنا پر ایسا نہیں کرتے۔ اول تو آپ ان دونوں صاحبان میں سے کسی ایک کو ناراض کرنا بھی افورڈ نہیں کر سکتے۔ دوسرا آپ اپنا معیار نہیں گرانا چاہتے۔ آپ کو معلوم ہے کہ محلے میں لوگ آپ کے بچوں تک کی عزت آپ کے خاندانی وقار اور آپ کی شخصیت کی بنا پر کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ صاحب ایک بڑے عہدے پر فائز اعلی تعلیم یافتہ شخص ہیں۔ ان کا لیول نہیں ہے کہ یہ ہر آتے جاتے پھڈے میں ٹانگ اڑائیں۔

اسی طرح آپ کے نوجوان بیٹے کے دوستوں کی آپ کے گھر افطار پارٹی ہے۔ افطاری کے بعد آپ حسب روایت سب کو نماز پڑھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ کچھ لوگ آپ کے ساتھ مسجد چل پڑتے ہیں۔ کچھ آپ کو کہتے ہیں، ”انکل، آپ چلیں۔ ہم آتے ہیں“۔ آپ مسکرا کر نکل لیتے ہیں۔ بجائے بحث و تمحیص میں پڑے۔ کہ ہر گروپ میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ خود آپ بھی نوجوانی میں کئی سال تک ایسے ہی کرتے رہے ہوں گے۔

آپ اپنی فیملی کے ساتھ دارالحکومت کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ڈنر کرنے گئے ہیں۔ ساتھ والی میز پر کچھ مفکرین خدا کے وجود اور عدم وجود پر دلائل دے رہے ہیں۔ کچھ جملے ایسے ہوتے ہیں جو آپ کے کانوں کو ناگوار گزرتے ہیں۔ آپ کے کان کی لوئیں غصے سے تمتما رہی ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ اٹھ کر ان میں سے ایک یا زائد کو گریبان سے پکڑ کر نکال باہر کریں۔ مگر آپ دو وجوہات کی بنا پر ایسا نہیں کرتے۔ ایک تو نقص امن کا خدشہ ہے۔

دوسرا ساتھ والی میز پر موجود صاحبان میں سے ایک تو آپ کے یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ دو لوگ گریڈ اکیس کے وفاقی سیکرٹری ہیں۔ ایک صاحب ملک کے مشہور دانشور ہیں۔ ایک خاتون سیاستدان ہیں۔ اور ایک مشہور اداکارہ۔ ایک صاحبہ ترنگ میں آ کر ملکی اداروں کے بارے میں اپنی بے باک رائے سگار کے دھوئیں میں اڑا دیتی ہیں۔ آپ چاہتے ہیں اٹھ کر اپنا کردار ادا کریں۔ مگر آپ کو معلوم ہے کہ آپ کا نظریہ (جس جانب بھی آپ کا جھکاؤ ہے ) حق پر ہونے کے باوجود آپ کو کسی نے گھاس نہیں ڈالنی۔ آپ سر نہوڑائے برداشت کرتے ہیں۔ کھانے کا بل دے کر (ظاہر ہے پورا کھانا کھانے کے بعد ہی) خاموشی سے فیملی کے ساتھ گھر کی راہ لیتے ہیں۔

آئے روز شہر کے پریس کلب کے اندر اور باہر کبھی رکشے والوں کا احتجاج ہوتا ہے۔ تو کبھی اساتذہ پریس کانفرنس کرتے ہیں۔ کہیں ڈاکٹرز سڑک پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔ تو کہیں مولانا حضرات ریلی نکال رہے ہیں۔ عورتوں کا مارچ ہو یا مردوں کا دسمبر۔ آپ سال کے بارہ مہینے ان میں سے کسی تماشے کا حصہ نہیں بنتے۔ سوائے اس وقت جب آپ کا کوئی ذاتی یا آپ کے ہم پیشہ گروہ کا مفاد وابستہ ہو۔ کیوں کہ آپ اپنی فکری اور جسمانی صلاحیتوں کو بلا وجہ کسی کی حمایت یا مخالفت میں ضائع نہیں کرنا چاہتے۔

آپ اپنا ڈرائینگ روم انتہائی خاص دوست احباب کے لیے کھولتے ہیں۔ ہر آنے جانے والے کو بٹھا کر اس کے ساتھ گفتگو اور بحث مباحثے میں نہیں الجھتے۔ اسی طرح پارک میں، سڑک پر، یا کسی اور کے ڈراینگ روم میں ہونے والی تمام سرگرمیوں میں حصہ لینا اپنا حق نہیں سمجھتے۔ آپ کو اپنی آزادی کی حد معلوم ہے۔ وہاں تک، جہاں سے دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے۔

لیکن۔ ذرا ٹھہرئیے

سوشل میڈیا پر آپ کو کیا ہو جاتا ہے۔ کیا یہ آپ ہی ہیں جو اپنی ساری شخصیت بھول کر ہر کسی سے سوشلائز کرنے چل دیتے ہیں؟

یہ آپ کی واٹس ایپ پر جو 50 قسم کے گروپ ہیں۔ ان میں سے ہر ایک میں آپ کا سیاسی، مذہبی، مسلکی، معاشرتی معاملات پر رائے دینا کیا اتنا ہی ضروری ہے؟ کیا ہر اڑتا تیر آپ کی بغل کے لیے ہے؟ علم سیکھتے سیکھتے، آپ نے درجنوں مشہور ناموں کو فالو کر لیا۔ کچھ آپ کی فرینڈ لسٹ میں بھی شامل ہو گئے۔ مگر ذرا دیکھیے تو صاحب! فیس بک پر آپ کی ٹائم لائن دانشور حضرات کا اکھاڑہ بن چکی ہے۔ فکری پراگندگی سے آپ کی طبیعت میں چڑچڑا پن پیدا ہو چکا ہے۔

امریکہ میں بیٹھا ہوا شخص جمعرات کو سیاست یا مذہب یا قوم کے بارے میں ایک تلخ پوسٹ کر کے مزے سے اپنا ویک اینڈ منا رہا ہے۔ اور آپ اتوار تک اس کا تیا پانچہ کرنے میں اپنا کلیجہ جلا رہے ہیں۔ اتوار کو بیوی بچوں کے ساتھ کوئی اچھی سی پکنک منانے یا مووی دیکھنے کی بجائے آپ فیک اکاؤنٹ پر نسوانی ہاتھ کی ڈی پی کے ساتھ موجود ”صاحب“ کی اداؤں پر ریجھ رہے ہیں۔ گھر میں موجود بیمار اماں کے پاؤں دابنے کی بجائے وال ٹو وال تاکا جھانکی کر کے چھینکنے والیوں کو صحت کی دعائیں دے رہے ہیں۔

حد تو یہ ہے کہ ہزاروں روپے خرچ کر کے سیر پر چلے ہی گئے ہیں تو قدرتی نظاروں کی بجائے دوسروں یا ”دوسریوں“ کی لائیو ویڈیوز پر کمنٹ کر رہے ہیں۔ ہر سیاسی، معاشرتی یا فرقہ وارانہ موضوع پر ہر ایرے غیرے سے الجھتے چلے جا رہے ہیں۔ چاہے وہ کوئی پان والا ہے یا عالم دین، موٹر مکینک ہے یا سائنس کا پروفیسر۔ آپ کا ہر پھڈے میں ٹانگ اڑانا لازمی ہے۔ یہاں تک کہ جو چیزیں رئیل لائف میں آپ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے وہ ورچوئل لائف میں آپ کی شخصیت کا لازمہ بن چکی ہیں۔

چڑچڑا پن، مرعوبیت، احساس کم تری، یا دوسری انتہا پر تکبر، جنون اور رعونت آپ کے مزاج کا حصہ بن چکے ہیں۔ خیالات میں کوئی ترتیب باقی نہیں رہی۔ طبیعت میں انتشار رہنے لگ گیا ہے۔ اپنے علاوہ ہر شخص آپ کو پاگل دِکھتا ہے۔ اگر ان علامات میں سے کوئی یا اکثر آپ میں پائی جا رہی ہیں تو مان لیجیے کہ اگر اب تک شکار نہیں ہوئے تو جلد آپ بلڈ پریشر یا دل کے مریض بننے والے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ آپ اپنی فکری تطہیر کریں۔

اپنے سوشل میڈیا کا جائزہ لیں۔ جھاڑو اٹھائیں اور اپنی والز پر موجود نا قابل برداشت عناصر کو ان فرینڈ یا بلاک کرتے جائیں۔ جن کی دوستی یا رشتہ داری اُن کے مخالفانہ نظریات کے باوجود عزیز ہو، انہیں صرف ان فالو کیا جا سکتا ہے۔ بعض دوستوں کی مخالفت کسی وقتی ایشو پر ہوتی ہے۔ ان کو 30 دنوں کے لیے سنوز کیا جا سکتا ہے۔ جن گروپوں میں محض نظریاتی بحث ہوتی ہے ان سے نکل آئیے۔ آپ کے نکلنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یقین مانیے آپ سے بڑے کج بحث آپ کے موقف کی حمایت کے لیے موجود رہیں گے۔
اپنی وال کی صفائی کر کے تو دیکھیے، زندگی پھر سے خوب صورت دکھائی دے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *