جسم سے قبضہ چھڑادو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خلیل الرمان قمر اور اس کی سوچ کے حامیوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں عورت کو جو حقوق حاصل ہیں وہ عین اسلامی قانون اور مشرقی روایات کے مطابق ہیں۔ خواتین کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جس کی ہمارا معاشرہ اجازت دیتا ہے۔ مثلاَ، اسکول، کالج، یونیورسٹی میں پڑھنا، اپنی مرضی سے شادی کرنا، بلا خوف و خطر اور جنسی ہراسمینٹ کے نوکری کرنا اور صحیح سلامت گھر لوٹ کے آنا، نا ان کا قتل ہوتا ہے نا انفرادی یا اجتماعی زیادتی۔

ان کو سسرال میں کوئی تکلیف نہیں، ان پہ کہیں بہی جسمانی تشدد نہیں ہوتا۔ نہ ان کو کوئی اغوا کرتا ہے، نہ زبردستی مسلمان۔ بہت مزے کی زندگی گزار رہی ہیں۔ یہ جو چند خواتین عورتوں کے حقوق کے نعرے تلے مارچ وغیرہ کرتی ہیں، دراصل مغرب کی ایجنڈا پہ کام کر رہی ہیں اور ملک میں فحاشی پہیلانا چاھتی ہیں۔ ”میرا جسم میری مرضی“ کا نعرہ اسی ایجنڈا کی غمازی کرتا ہے۔

در اصل خلیل الرحمان جیسے لوگوں کے ذہنوں میں گندگی بھری ہوئی ہے۔ ان کو لفظ جسم سنتے ہی فحاشی کا تصور ذہن میں آتا ہے۔

یہ لوگ شاید روزانہ اخبار نہیں پڑہتے یا ٹی وی نہیں دیکھتے جھاں عورتوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کی داستانیں رپورٹ ہوتی ہیں۔

دراصل صدیوں سے عورت کے جسم، بلکِہ پورے وجود پہ سماج کے مختلف مردوں کا قبضہ رہتا چلا آ رہا ہے۔ اب وہ اپنے جسم سے یہ ناجائز قبضہ چہڑانا چاہتی ہے۔ اس لئے اس نعرے کا مطلب اپنے جسم کو ناجائز استعمال کرنا ہرگز نہیں، بلکہ جاہل مردوں اور با اثر لوگوں کے ہاتہوں عورت کا جو مسلسل جسمانی اور جنسی استحصال ہو رہا ہے اس کو روکنا ہے تاکہ وہ سماج میں اپنی مرضی سے زندگی گزار سکے۔

خلیل الرحمان جیسے لوگوں نے عورتوں اور معصوم بچیوں کو پاکستان میں عمومی اور پسماندہ علاقوں میں جو خصوصی حقوق دے رکھے ہیں اور جن کی بغلیاں ٹی وی پہ آکر بجاتے ہیں ان کی جھلک کچھ اس طرح سے ہے۔ آپ لوگ گوگل سے اس کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

بیٹی کو۔
پڑھانا ہے؟ والدین کی مرضی۔
اسکول اور دفتر سے گھر لوٹ کے آئے؟ غنڈے اور اوباش کی مرضی۔
پسند کی شادی کرے؟ چچا ماموں اور قریبی رشتیداروں کی مرضی۔
پڑھی لکھی اور قابل نوکری کرے؟ والدین/شوھر یا سسرال کی مرضی۔

ووٹ کاسٹ کرے؟ جاہل مرد یا فتویٰ باز مولوی کی مرضی۔
حکومت کرے؟ فتویٰ باز ملاں کی مرضی۔
ونى /وٹہ سٹہ؟ جرگے کی مرضی۔
اجتماعی ریپ؟ پنچایت کی مرضی۔
بازار میں بے لباس گھمانا؟ پنچایت کی مرضی۔

کاری (کارو کاری کی رسم) ہو؟ خاندان کے کسی بھی مرد کی مرضی۔
معصوم بچی کی 80 سالہ بوڑھے سے شادی؟ سردار کی مرضی۔
اغوا ہو؟ وڈیرے کی مرضی۔
زبردستی مسلمان ہو؟ پِیر کی مرضی۔

زندہ دفن؟ سماج کی مرضی۔
حق بخشوانا (قرآن سے شادی؟ مالدار کی مرضی۔
دینی تعلیم کے دوران بے آبرو کرنا؟ ”حافظ صاحب“ کی مرضی۔

سپلائی کرنا، مجرے کرنا، فحاشی کے اڈے چلانا؟ جاگیرداروں، سرمایہ داروں اورسیاستدانوں کی مرضی۔
ریپ کرنا، سینہ چاک کرنا، ٹھپے لگانا، قتل کرنا یا زندہ جلانا؟ دہشتگردوں کی مرضی۔ وغیرہ وغیرہ

بظاہر یہ ہیں وہ چند حقوق جو خلیل الرحمان جیسی سوچ نے دیے ہوئے ہیں۔ اے عورت تو بڑی ناشکری ہے، تمہارے ان گنت کام تو تمھارے پوچھے بغیر ہو رہے ہیں۔ تم کس کس احسان کا انکار کرے گی؟ اور تیرے کیا حقوق باقی ہیں؟

ہاں ایک کام تو اپنی مرضی سے کرتی رہتی ہے وہ ہے، تو چاہے تو بیٹا پیدا کر یا بیٹی پیدا کر۔ لیکن اگر تو نے بیٹی پیدا کی تو یہ بھی تیرا قصور ہوگا کیونکہ تو  نے اپنی مرضی چلائی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سلیم کنبھر کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *