ماضی کا ورثہ، مستقبل کا تجربہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مغرب کے مقابلے میں مشرقی معاشرے (خاندانی نظام) کو بہتر قرار دیا جاتا ہے۔ اس کی جو بھی وجوہات ہوں، اس پرلا حاصل بحث کے بجائے ہم بخوبی آگاہ ہیں کہ مشرقی روایات اب مغرب اقدار میں پیوست ہوتی جار ہی ہیں، تاہم یہاں یہ کہنا مقصود نہیں کہ مغربی روایات، معاشرے میں کسی اخلاقی دائرے کی قیدسے آزاد ہیں۔ مشرق و مغرب میں خاندانی نظام ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے، اس سے ہٹ کر جو آزادیاں کسی ریاست کی جانب سے دی جاتی ہیں، اُن کا سینکڑوں برسوں سے بندھی روایات سے اتفاق یا اختلاف ایک اہم درجہ رکھتی ہے، ثقافت کا تعلق قوم سے جڑا ہے اور قوم سے مُراد کسی ملک کی عوام نہیں بلکہ وہ قبیلے یا خاندان ہیں، جن کی بنیادیں سینکڑوں یاہزاروں برس پہلے رکھی گئیں اور جو خاندان ان ثقافتی اقدار سے جڑے رہے، وہ تبدیلی زمانہ کے ساتھ رہن سہن میں تبدیلی تو لاتے رہے لیکن ثقافتی اثرات زائل ہونے میں کافی وقت درکار ہوتا ہے۔

عموماً یہ دیکھا گیا ہے، ثقافتی اقدار اُس وقت تبدیلی کی جانب بڑھتی ہے جب کوئی خاندان معاشرے میں کسی دوسری ثقافت سے وابستہ خاندان سے رشتہ جوڑ لیتا اور نئی نسل میں تبدیلی کا عمل غیر محسوس انداز میں شروع ہوجاتا ہے۔ ثقافت یا کلچر کی کوئی جامع تعریف تو نہیں کی جا سکتی، لیکن اکتسابی عمل میں عادات، افعال، طرز عمل، خیالات، رسوم و اقدار ایک اہم حیثیت رکھتے ہیں، ثقافت میں خاندان یا منظم قبیلہ و پھر معاشرے میں خاندان کے اُس فرد کو بانی سمجھا جاتا ہے جو اُس خاندان، کے سربراہ کے بعد قبیلے اور پھر قوم بنانے کا باعث بنتا ہے۔

جدیدیت کے اس دور میں کسی ملک کی عوام کو قوم کا درجہ دینا، مملکت کے شہری کہلانے کا سبب تو کہلایا جاسکتا ہے، لیکن من حیث القوم کسی بھی ملک کے عوام کو ”قوم“ قرار دینا اضافی بحث ہے، کیونکہ ہر قوم (لسانی اکائی) کی الگ ثقافت، پہچان ہوتی ہے۔ کئی روایات و رواج دوسری قوم سے مختلف ہوتے ہیں، لیکن یہ ضرور ہے کہ ایک ثقافت، دوسری قوم کی ثقافت سے متاثر ضرور ہوسکتی ہے۔

ماہرین سماجیات نے ثقافت کی مختلف تعریفیں کی ہیں۔ گسٹوف کلائم ثقافت کی تعریف کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ”رسوم و روایات، امن و جنگ کے زمانے میں انفرادی اور اجتماعی رویے دوسروں سے اکتساب کیے ہوئے طریقہ ہائے کار، سائنس، مذہب اور فنون کا وہ مجموعہ ثقافت کہلاتا ہے جو نہ صرف ماضی کا ورثہ ہے بلکہ مستقبل کے لیے تجربہ بھی ہے“۔ ای۔ بی۔ ٹیلر ثقافت کی تعریف اس طرح کرتا ہے :۔ ”ثقافت سے مراد وہ علم، فن، اخلاقیات، قانون، رسوم و رواج، عادات، خصلتیں اور صلاحیتوں کا مجموعہ ہے جو کوئی اس حیثیت سے حاصل کر سکتا ہے کہ وہ معاشرہ کا ایک رکن ہے ’۔ اسی طرح ثقافت کی تعریف میں رابرٹ ایڈفلیڈر رقمطراز ہے کہ“ ثقافت انسانی گروہ کے علوم اور خود ساختہ فنون کا ایک ایسا متوازن نظام ہے جو باقاعدگی سے کسی معاشرہ میں جاری و ساری ہے ”۔ یہاں جو اَمر قابل غور ہے، وہ“ تہذیب ”ہے۔

دنیا کے کسی بھی حصے میں جب بات ”تہذیب“ کی آتی ہے تو اسلام سے وابستہ تمام ثقافتی اکائیوں میں قدر مشترک نمایاں ہے۔ اسلام کے ماننے والے، اللہ تعالی، قرآن پاک، ملائکہ، انبیا و رسول، خاتم النبی ﷺ اور یوم آخرت پر یکساں ایمان رکھتے ہیں، عبادات میں صلٰو ۃ، صوم، زکٰوۃ، حج اور جہاد پر دین اسلام کے پیروکاروں کا یکساں ایمان ہے۔ اسلام تمام ثقافتی اکائیوں کو ایک الہامی نظام کے تحت جوڑتا ہے اور لسانی و قومی اکائیوں کو ایک لڑی ’امت واحدہ‘ میں پُرو دیتا ہے، جس میں ایک مسلمان کی تکلیف کو دوسرا مسلمان محسوس اور اِس درد کو اپنا درد سمجھتا ہے۔

امت واحدہ کے تصور کے تحت دنیا کے کسی بھی حصے میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم پر وہ سراپا احتجاج بن جاتا ہے۔ اُس وقت اِس کے نزدیک اس کی ثقافت، خاندان، قوم صرف مسلم بن جاتی ہے، تمام اکائیاں ایک چراغ کی طرح یکساں روشنی پھیلاتی ہیں، اسی طرح جب کسی دوسری تہذیب کے پیروکاروں کی جانب سے اسلامی تہذیب سے جڑی ثقافتی اکائیوں کو مورد ِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے تو اس کے نزدیک وہ کسی ملک کا شہری نہیں بلکہ صرف ”مسلمان“ ہوتا ہے۔

اسلام فوبیا کے شکار اسلام کے نام لیوا ؤں کو یکساں مورد ِ الزام ٹھہراتے ہیں، اسی طرح جب مسلم امہ کی جانب سے، کسی بھی مملکت سے مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھے جانے پر احتجاج بلند ہوتا ہے تو اُس کے نزدیک دیگر ثقافتی اکائیوں کے مختلف طبقات کے نظریات ہوتے ہیں۔ بھارت و مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف مودی سرکاری اور ہندو توا کے پیروکاروں کی جانب سے مسلمانوں پر ظلم و ستم و امتیازی سلوک پر پاکستان یا کوئی دوسرا ملک احتجاج کرتا ہے تو ان کا واضح موقف کسی مذہب کے خلاف نہیں، بلکہ ایسے طبقے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا ہے جو نا انصافی و بربریت کا مظاہرہ کررہا ہے۔ جب کوئی طبقہ، کسی نا انصافی پر حقوق کی بات کرتا ہے تو وہ مخصوص دائرے تک محدود رہتا ہے۔ معاشرتی ناہمواریاں و طبقاتی تقسیم ہر ملک و قوم کا مسئلہ ہے۔ اجتماعیت کے محور میں رہ کر کئی فروعی مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے، تاہم چھوٹے گروہوں میں بٹ کر اجتماعیت کے دھارے سے نکلنے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

ایک مسلم امہ ہونے کے ناتے دنیا کے کسی بھی مملکت میں مسلمانوں کے خلاف غیر منصفانہ رویوں و اعمال پر احتجاج کا حق جس طرح مسلم اکثیریتی ممالک کے فرض ہے، اسی طرح غیر مسلم کیمونٹی کے مفادات کا خیال رکھنا، بھی مسلم اکثریتی مملکت کی ذمے داری میں شامل ہے۔ ذمے دار ملک تمام ثقافتی و مذہبی اکائیوں کے مساوی حقوق کا ضامن ہے۔ پاکستانی قوم کا تصور، ایک مملکت کے شہری ہونے کے ناتے پاکستانی معاشرہ بنانے کے ضوابط پر عمل پیرا ہونا ہے۔

کیا ہم نے پاکستانی قوم کے لئے ایسا معاشرہ ترتیب دیا ہے جہاں لسانیت، قوم پرستی اور فرقہ وارنہ تعصبات کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہو، تو اسے سمجھنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنا گھر دیکھنا ہوگا کہ کیا ہم نے اپنے اہل کو وہ حقوق دیے ہیں، جو اُن کا حق ہے، صفی اصناف و نسلی امتیاز سے بالاتر ہوکر پاکستانی معاشرے کے احیا کے لئے ہم کس موڑ پر ہیں، اس کا فیصلہ ہر فرد، ہر لسانی اکائی و قوم کو خو دکرنا ہوگا اس کے لئے انہیں اجتماعیت کی ضرورت ہے۔ ماضی کے ورثے کو مستقبل کے لئے بطور تجربہ اختیار کیے جانا، باشعور معا شرے کی تخلیق کے لئے ناگزیر ہے۔ اب یہ ارباب اختیار پر منحصر ہے کہ وہ ماضی کی کس ورثے سے جدیدیت کے اس دور میں جڑا رہنا چاہتے ہیں یا پھر معاشرتی ناہمورایو ں کی خامیوں سے اجتناب برت کر اجتہاد کا راستہ اپناتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *