عورت مارچ، حیا مارچ اور اسلامی تہذیب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

8مارچ کو پوری دنیا میں عورتوں کے عالمی دن کے طور پرمنایا جاتا ہے۔ جس کامقصد عورتوں کے حقوق کو اُجاگر کرانا اور عورتوں کو ان کے حقوق سے روشناس کرانا ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی آمد سے جس طرح دیگر افکار کی تشہیر موئثر طریقے سے ہونے لگی ہے اسی طرح عورتوں کے حقوق کی مہم نے بھی اپنا دائرہ اثر بڑھا لیا ہے۔ پاکستان میں بھی ہر سال یہ دن منایا جاتا ہے اور اس کی سرخیل لبرل ازم اور سیکولرازم کی حامی سیاسی جماعتیں اور این جی اوز ہیں۔

یہ لیکن اس سال اس دن کے حوالے سے نزاع اور مضحکہ خیزی کی جو صورتحال رہی ہے وہ اس سے پہلے دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ بات ایک ٹی وی شو پراس بحث سے بگڑی جب ایک مرد ڈرامہ نویس اور خاتون سماجی کارکن کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلوں سے بات بڑھتی بڑھتی گالم گلوچ تک جاپہنچی۔ مرد ڈرامہ نویس کو اعتراض تھا کہ وہ خاتون نے اس کی گفتگو کے دوران عورت مارچ کا مشہور نعرہ ”میرا جسم میری مرضی“ کی تکرار جاری رکھی۔ ٹھیک ہے یہ اخلاقی طور پر درست نہیں تھا لیکن عمل اتنا بھی قابل تعزیر نہیں تھا کہ موصوف آپے سے باہر ہوگئے اور جو منہ میں آتا گیا کہتے رہے اور خاتون نے بھی جوابی حملے جاری رکھے۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہوگیا۔ ایک جانب ڈرامہ نویس کے حمایتی انھیں مردوں کے حقوق اور معاشر ے میں حیاء کے نفاذ کا رہنما بنانے پر تُل گئے اور دوسری جانب لبرل اور سیکولر نے مردوں کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کردیا۔ جلتی پر تیل ایک طرف ان واہیات نعروں نے ڈالا جو پلے کارڈ پر درج تھے اور دوسری جانب ڈرامہ نویس کے اقوال نے ماحول کو گرم رکھا۔ سیکولر اور لبرل جماعتوں کے مقابلے میں مذہبی جماعتوں نے بھی حیاء مارچ کا انتظام کیا۔ ان پر میرا جسم میری مرضی کے مقابلے میں حجاب میرا وقار جیسے نعرے پلے کارڈ ز پر درج تھے۔

بات اور مرد اور عورت کی تفریق کی ہے یا ظالم اور مظلوم کی، مرد پر عورت کی برتری کی ہے یا حاکم اور محکوم کی ہے۔ انسانی تاریخ مختلف ادوار سے گزری ہے۔ ایک دور ایسا بھی تھا کہ انسانی زندگی کا دارو مدار شکار اور کھیتی باڑی پر تھا اور فطرت مرد کو جسمانی طور پر قوی بنایا ہے لہذا مرد کو برتری حاصل رہی۔ یعنی وہی کارل مارکس والی بات کہ ذارائع پیداوار ہی سماجی حیثیت کا تعین کرتے ہیں۔ ہم میں سے بعض کو قدیم روایات پر اصرار ہے۔

اکثریت آج بھی شکار اور کھیتی باڑی کے دور کی سوچ میں رہتی ہے۔ لیکن آج کی معیشت جسمانی طاقت کی بجائے ذہنی استعداد اور قوت پر مبنی ہے۔ آج کی عورت تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوکر عملی زندگی میں مردوں کے شانہ بشانہ ہے اور کہیں کہیں ان سے بھی بڑھ کر۔ ایسی صورتحال میں نفیساتی مسائل بھی پیدا ہوئے کہ مرد کو اپنی بالا دستی کو ختم کرنا آسان نہیں تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کمی آتی گئی۔ عورت کی مرد کی برابری کی یہ کشمش جدید معاشروں کا مسئلہ ہے۔

ہمارے یہاں اس مرحلے پر کُلی طور پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرہ جاگیرداری اور سرمایہ داری کا بد ترین شکار ہے۔ بڑے شہروں کو ایک طرف رہنے دیجئے۔ دیہی علاقوں کا رخ کیجئے وہاں جاگیر دار کے لیے مرد اور عورت کی کوئی تفریق نہیں اس کے مزراعے مرد اور عورت ایک ہی طرح کے مظلوم ہیں۔ بھٹہ مزدروں پر ظلم مرد و عورت کی تفریق کے بغیر ہوتا ہے۔ آج بھی دیہی علاقوں کا سفر کریں تو سڑک کے ساتھ ساتھ تپتی دوپہروں میں عورتیں اور مرد کھیتوں میں بلا تفریق مزدوری کرتے نظر آئیں گے۔ ہمارے یہاں معاملہ مرد اور عورت کا نہیں ظالم اور مظلوم کی کشمکش کا ہے جسے دنیا کی سیاست، معیشت اور سماج پر قابض ابلیس کے نمائیندوں نے نہایت چالاکی کے ساتھ مرد اور عورت کی جنگ میں تبدیل کردیا ہے۔

معاشرے میں عورت مارچ کی پذیرائی نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کی قیادت سیکولر اور لبرل طبقے کے پاس ہے اور اس میں بھی مراعات یافتہ طبقے کی خواتین کی بالا دستی ہے جنھیں عورتوں کے مسائل سے کم اور اپنی مصروفیت کے سامان کی زیادہ فکر ہے۔ عورت مارچ کی قیادت کرنے والی کتنی خواتین ہوں گی جنہو ں نے کارخانوں، کھیتوں، اینٹوں کے بھٹوں پر جاکر خواتین ملازمین کے مسائل کے لیے عملی قدم اٹھایا ہو؟ مذہبی جماعتوں کے زیر اہتمام ہونے والے حیا ء مارچ میں بھی خواتین کے حوالے سے اخلاقی نعرے تو درج تھے لیکن ان کے عملی مسائل کے حوالے سے کوئی نعرسامنے نہیں آیا۔ اگر مذہبی جماعتوں نے سیکولر طبقات کو عورتوں کے حقوق کی قیادت سے دور کرنا ہے تو انھیں ان مسائل کے حل کے لیے بھی عملی قدم اٹھانے ہوں گے۔

معاشرے کی تہذیب سے متعلق اسلام کیا اساس پیش کرتا ہے۔ اس حوالے سے جناب جاوید احمد غامدی صاحب بتاتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے بعد جو تہذیب دنیا میں پیدا ہوئی اس کی بنیادی قدر عبودیت تھی۔ جس میں مرکزی اہمیت خدا پر ایمان کے ساتھ زندگی کے تمام معاملات کو اس کی تعلیمات سے متعلق کرتا ہے۔ اگرچہ آزادی اس میں ایک بڑی قدر تھی لیکن وہ بندگی سے آزاد نہیں تھی۔ اس سے جو تہذیبی روایت قائم ہوئی اور جس نے ایک ہزار سال مسلمانوں کے اجمتاعی وجود کا احاطہ کیا اس کے تین عناصر تھے :

ایک یہ کہ لوگوں کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ معاشرے میں بدکاری کو عام کریں، مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے علانیہ جنسی تعلقات پیدا کریں، اسی تعلق کی بنا پر اکٹھے رہیں یا جنسی اعضا اور جنسی معاملات دوسروں کے سامنے کھولیں۔

دوئم یہ کہ خلقت کے لحاظ سے تمام انسان، بے شک برابر ہیں، مگر رشتوں میں برابری نہیں ہے۔ چھوٹوں کے لئے بڑے، اولاد کے لیے والدین، شاگردوں کے لیے استاد اور بیوی کے لیے شوہر برتری کے مقام پر ہیں۔ ان کے لیے تادیب اور تنبیہ یعنی نیک و بد سمجھانے کا حق مانا جائے گا اور ان کی عزت اور ان کا احترام ہر حال میں قائم رکھا جائے گا۔

سوئم یہ کہ معاشرہ خیر و شر کے اصول سے بے تعلق نہیں رہے گا۔ انسانی فطرت میں جو چیزیں خیر کی حیثیت سے پہنچانی جاتی ہیں اور جنھیں پوری انسانیت مانتی ہے، ان کی تلقین کی جائے گی اور جن چیزوں کی فطرت شر سمجھتی ہے اور پوری انسانیت جن سے نفرت کرتی ہے ان سے لوگوں کو ہر حال میں روکا جائے گا۔

یہ ہیں انسانیت کا حُسن ان کی روشنی میں عورت مارچ کیجئے، حیا مارچ کیجئے اور اگر توفیق ہو تو استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد کر کے ایک مثالی معاشرے کے قیام کو یقینی بنایئے۔ مگر مغرب کی نقالی میں اپنی دینی اور تہذیبی روایات کو پامال مت کیجئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *