میں ہوں رابی آفتاب، مجھے کیوں گالیاں پڑیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عورت مارچ آیا اور گزر گیا۔ وہی عورت مارچ جسے بے حیائی کا طوفان گردانا جا رہا تھا، جس کے آنے سے پہلے فوٹو شاپڈ تصویروں کا انبار لگا دیا گیا تھا، فتوے جاری ہوئے دھمکیاں دی گئیں، ٹاک شوز ہوئے ان میں لڑائیاں ہوئیں۔ وہ مارچ جس کے ہونے نہ ہونے کو کافی لوگوں نے زندگی موت کا مسئلہ بنا لیا۔ وہ مارچ جسے رکوانے کے لئے وہ لوگ بھی متحرک ہو گئے جو خود بھی ہر وقت مارچ کرنے کے شوقین ہیں۔

وہی مارچ جس کا سن کر گلی محلوں سڑکوں بازاروں میں کھڑے رہ کر دوسروں کی ماؤں بہنوں کو یاد کرنے والے مرد بھی تلملا اٹھے۔ اور وہ مارچ جس کے گزر جانے کے بعد ہمیں بے حیائی میں اضافہ نظر آئے نہ آئے، بچے بچیوں کے ریپ کیسز اسی طرح دیکھنے کو ملیں گے۔

بات شروع ہوتی ہے ایک ٹاک شو سے۔ جس میں دی گئی ایک گالی کی مذمت کی میں نے۔ میں جو ایک گھریلو عورت ہوں۔ جو ٹویٹر پر اپنی رائے کا اظہار کرتی ہے۔ میں جو ایک عورت ہوں۔ ایک ماں ایک بہن ایک بیٹی ہوں۔ ایک بی وی ہوں، میں نے اپنے ہر رشتے میں مرد کا ایک بہترین روپ دیکھا ہے۔ میں ایک محفوظ گھر، ایک بڑے خاندان کے حصار میں رہتی ہوں۔ ایسا کیا ہوا کہ میں یعنی یہ عورت اپنی عینک اتار کر دنیا کا یہ رخ دیکھنے کو مجبور ہو گئی۔

ایک گالی کی مذمت نے مجھے اتنی گالیاں پڑوائیں۔ جو نہ کبھی سنی تھیں نہ سوچا تھا۔ ایک گالی کی مذمت نے اپنے معاشرے کو میرے سامنے عریاں کر دیا۔ اتنا عریاں جتنا وہ عورت بھی نہیں تھی جو ذہنی مریضہ تھی۔ جس کی چار سال پرانی ویڈیو کو ہر جگہ وائرل کیا گیا۔ کس لیے صرف اپنے گھناؤنے مقصد کی تکمیل کے لیے۔ تب کسی کو عورت کے پردے اور تکریم کا احساس تک نہ ہوا تب کسی کو لفظ جسم سے کراہت محسوس نہ ہوئی۔

وہ مذمت جو میں نے فردوس عاشق اعوان کی بھی کی۔ لیکن تب کسی نے یہ نہیں کہا کہ دوسری عورت کو دی جانے والی گالی جائز تھی۔ کیونکہ ایک تو وہاں تینوں خواتین تھی، اور دوسرا وہ ایک سیاسی لڑائی تھی جس میں آدھے بندے ایک سائیڈ اور باقی آدھے دوسری سائیڈ پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔

تب کسی نے مجھے یہ نہیں کہا آپ عورتوں کے خلاف کیوں لکھ رہی۔ یا آپ صنفی امتیاز سے کام لے رہی۔ لیکن یہ گالی کیونکہ ایک مرد نے ایک عورت کو دی تو اس کی مذمت میرا سب سے بڑا گناہ بن گئی اور افسوس اس بات کا ہے کہ گالیاں بکنے والوں میں خواتین لیڈرز کے سپورٹرز بھی شامل تھے۔ وہ خواتین جو جلسے اور ریلیوں میں ہزاروں مردوں کے سامنے اپنے مخالفین کو للکارتی رہی اور سب مرد حضرات چپ کر کے سنتے رہے۔ مریم نواز کے فین، جمائمہ کے فین، بینظیر کے فین سب ایک لائن میں کھڑے ہو کر گالی کی مذمت اور عورت مارچ کے حق میں بولنے یا لکھنے والی عورتوں پر بدکرداری بے حیائی کے ٹیگ لگانے لگے۔

میں ایک اعتدال پسند سوچ رکھنے والی خاتون ہوں، میں اس جگہ پر نہیں تھی جہاں پر مجھے صرف ایک گالی کی مذمت نے پہنچا دیا۔ ہمارے انتہا پسند رویوں نے اعتدال پسندی کو بری طرح روند ڈالا ہے ایک گروہ وہ بھی نظر آیا جس نے رائے دی کہ مارچ میں لگنے والا نعرہ بدل دیں سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن یہ بھی صرف ایک خام خیالی ہی تھی کیونکہ اعتراض صرف نعرے پر نہیں تھا اور اس بات کا اندازہ اس گروہ کو پڑنے والی گالیوں سے ہو گیا۔

ہر دوسرا بندہ یہ سوال پوچھتا پایا گیا کہ ماروی کے ساتھ ہیں یا خلیل کے ساتھ؟ مجھے اور مجھ جیسی بہت سی خواتین جن کو شاید پچھلے مارچ کے ایک دو بینرز پر اعتراض بھی ہوا ہو، انہیں ایک راستہ چننے پر مجبور کیا گیا اور المیہ یہ اگر کسی عورت نے عورت کے حقوق پر لب کشائی کی توکہا گیا کہ خود گھر سے مار کھاتی ہے، اس لئے ایسا سوچتی ہے۔

یہی عورتیں جب ایک مرد کے نام کے بینرز پکڑ کر نعرے مارتی نظر آئیں تو سب واہ واہ کرنے لگے۔ یعنی عورت، عورت کے حق کے لئے سٹرک پر نکلے تو بے حیا اور مرد کے حق کے لئے نکلے تو حیا دار۔ اس سارے چکر میں ہم نے ایک ایسے شخص کو ہیرو بنا دیا جس کی برداشت کا یہ عالم ہے کہ وہ ایک سوال کا جواب بھی تحمل سے نہیں دے سکتا۔

وہ معاشرہ تباہی سے کیسے بچ سکتا ہے جس کے ہیرو بدزبان اور دھمکیاں دینے والے ہوں۔ اس معاشرے کی اخلاقی اقدار کیا ہوں گی جہاں عورت کے جسم کو گوشت کے ٹکڑے اور مٹھائی سے تشبہیہ دی جائے، اور اس معاشرے کی منافقت کا کیا عالم ہو گا جس میں مارچ کے حق اور گالی کی مذمت پر بولنے لکھنے والی عورت کو رنڈی گشتی کا خطاب دیا جائے۔ خطاب دینے والے بھی لفظ ”جسم“ سے پھر گھِن کھانے کا دعویٰ کرتے نظر آئیں۔

ایسے معاشرے میں اعتدال پسندی کی سوچ پروان چڑھ ہی نہیں سکتی۔ ہمیں ہر صورت میں ایک راستہ چننا ہے۔ اب اگر کوئی ہمارے انتخاب پر بھی اپنی مرضی تھوپنے کی کوشش کرے تو ہاں میری ناقص رائے کے مطابق عورت مارچ ضروری ہے اور اگر آپ کو اپنے گھر کی چار دیواری کی مضبوطی پر یقین ہے تو اپنے گھر کے پاس سے گزرنے والے کسی بھی مارچ سے کوئی خطرہ نہیں ہونا چائیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رابی آفتاب کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *