کرونے، اب جنگ ہوگی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونے آخر تم ایک بزدل دشمن کی طرح ہمارے ملک میں گھس آئے ہو۔ تمہیں لاکھ سمجھایا، پرے پرے۔ لیکن تم بھی نزلہ، زکام کے وائرس کی طرح انتہائی گھٹیا وائرس نکلے۔ اپنی مستی میں تم بھول گئے کے تم ایک ایسی قوم کو للکار نے جارہے ہو جس کے لئے ہمیشہ سے شمشیر و سناں اوّل اور طاؤس و رباب آخر رہا ہے۔ کرونے، آج سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے۔ اب تم دنیا میں ہمارے دوسرے بڑے دشمن ہو، پہلا ابھی بھی بھارت ہی ہے۔

اس سے پہلے کہ ہم اپنی جنگ کے معیار طے کریں، تمہارے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ہم اپنے دشمنوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ جیسے تم چوروں کی طرح ہمارے ملک میں گھسے ہو اسی طرح 1965 میں ہمارے ازلی دشمن بھارت نے بھی ہم پر حملہ کیا تھا۔ ہم نے اس کو ایسا مزا چکھایا کہ اگلے چھ سال اس کے منہ سے لفظ تک نہ نکلا۔ وہ اپنی ہنسی بھول گیا اور ہم ابھی تک اُس جیت کی خوشی میں سرمست ہیں۔ شکر کرو نور جہاں وفات پا چکی ہیں نہیں تو تمہیں بتاتیں کہ یہ بیٹے دکانوں پر نہیں بکتے اور تم جتنا مرضی ہمارے وطن کی ہواؤں میں زہر گھولو، یہ راہِ حق کے مسافر اور وفا کی تصویریں ہمیں شہ تمہیں سربکف ملیں گیں۔

کرونے ہمارا ہمیشہ سے یہ اصولی مؤقف رہا ہے کہ دشمن چاہے کتنا بھی ہمارا نقصان کیوں نہ کرے ہمیں مسائل جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کرنے چاہئیں۔ امریکہ جیسا ملک بھی ہماری دور اندیشی مان کر ہماری بات پر ایمان لا چکا ہے کہ لڑائی کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہماری کوششوں سے وہ اور اس کا ازلی دشمن طالبان ایک میز پر بیٹھ گئے۔ تم سے جنگ کا اعلان اس لئے کیا ہے کہ تمہارا منہ ہی نہیں ہے تو تم سے لین دین کیسے ہو۔ ایک خلئے پر مشتمل تم ایک حقیر شے ہو جس کے بارے میں ابھی تک سائینس یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ جاندار ہے یا بے جان ہے۔ کہاں ہم جو پہاڑوں کا سینہ چیر دیں، دریاؤں میں گھوڑے دوڑا دیں اور ہم وہ طوفان جس سے دریاؤں کے دل دہل جائیں اور کہاں تم کہ بیس سیکنڈ صابن سے ہاتھ دھونے سے مر جاتے ہو۔

تمہیں کیا لگتا ہے ہم تم سے ڈر جائیں گے؟ ہم وہ ہیں جو ہر سال ٹرین کے حادثے میں مرتے ہیں لیکن پھاٹک نہیں لگاتے، تمہارے خوف سے ماسک پہن لیں گے؟ ہم شام کو دفتر سے اکٹھے نکلتے ہیں اور صبح آکر دوبارہ ایسے گلے ملتے ہیں جیسے صدیوں بعد ملے ہوں۔ تم ہمیں اس سے روک لو گے؟ ہم میں اکثر وہ ہیں جو چھینکیں تو محلہ سنتا ہے، تم ہم سے یہ آزادی چھین لو گے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہم نے تو آزادی حاصل ہی اس لئے کی تھی کہ جہاں دل چاہے گند گی پھینک سکیں، جیسے مرضی کھانسیں، جب مرضی ڈکاریں اور سارا زور لگا کر اگلے کے منہ پر چھینکیں۔ کوئی مائی کا لعل ایسا نہیں ہے جو ہم سے ہماری آزادی چھین سکے۔ تم تو نہ ہی لعل ہو اور نہ ہی کوئی تمہاری ماں ہے، بلکہ تم تو لاکھوں سال چمگادڑوں میں ذلیل ہو کر ہمارے بھائیوں کی چمگادڑ خوری کی وجہ سے انسانوں میں آئے ہو، اس لئے تم نے ہمارا مقابلہ کیا کرنا۔

تم سے کوئی گلہ نہیں، دکھ تو یہ ہے کہ ہمارے چینی بھائیوں کو کھانے پینے کا اتنا شوق ہے کہ انہیں جو ملے وہ کھا جاتے ہیں۔ کتے، بلی، مگر مچھ، سانپ اور لال بیگ ایک طرف بھلا سردیوں میں چمگادڑ کھانے کی کیا ضرورت تھی۔ تم شکر کرو کسی چینی نے صحیح وقت پر کسی کوریا کے باشندے سے گلے مل لیا اور تم چین سے بھاگ کر کوریا میں گھس گئے، نہیں تو یقین جانو ہمارے دوست چینیوں نے تمہیں بھی کھا جانا تھا۔ تمہاری قسمت میں ہمارے ہاتھوں عبرت ناک شکست اور ہزیمت لکھی ہوئی تھی اس لئے چین میں ختم ہونے کے بجائے پاکستان پہنچنے تک تم زندہ رہے۔

یاد رکھو، تم پہلے کرونے نہیں جس سے ہم پاکستانیوں کو واسطہ پڑا ہے۔ عرصہ دراز سے طرح طرح کے کرونے ہمارے سماج اور ہماری معشیت سے چمٹے ہوئے ہیں۔ بھتہ خوروں، بدعنوان عناصر، آٹا اور چینی کے چوروں جیسے کرونوں سے ہم پاکستانی روز لہو لہان ہوتے ہیں لیکن ہمت نہیں ہارتے۔ ہر طرف سے کرونوں میں گھرے ہونے کے باوجود ہم شوق سے کرکٹ دیکھتے ہیں، لطیفے سنتے اور سناتے ہیں، گنگناتے ہیں، دوستوں کی محفل میں قہقہے لگاتے ہیں، کھاتے ہیں، دھمال ڈالتے ہیں اور خوشیاں مناتے ہیں۔ اس لئے جان لو کہ جب ہم یہاں کے مقامی سخت جان کرونوں سے جوان مردی سے مقابلہ کر رہے ہیں تو تمہارے جیسے چینی کرونے کے ساتھ۔ اللّہ مالک ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *