آپ تجربات سے کیا سیکھتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کہ انسان کا پڑھا لکھا ہونا انتہائی ضروری ہے تا کہ اس میں شعور پیدا ہو اور وہ اچھے برے کی تمیزکرسکے۔ لیکن پڑھے لکھے لوگوں کو بھی جب جہالت کی حدیں پار کرتے دیکھتے ہیں تو یہ کہاوت جھوٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔ پڑھائی آپ کو الف ب تو سکھا سکتی ہے لیکن آپ کو وہ سب نہیں سکھا سکتی جو آپ کو سیکھنا چاہیے۔ ڈگری کاغذ کے چند ٹکرے ہیں آپکی پڑھائی کا اصل ثبوت آپکا اخلاق آپکا رویہ ہے۔ اب انسان کی تربیت ماں باپ سے بڑھ کے کون اچھی کر سکتا ہے اور والدین کبھی نھیں چاھیں گے کہ ان کی اولاد پہ یا ان کی تربیت پہ کوئی انگلی اٹھائے۔ وہ آپکو بہتر سے بہتر تعلیم اور طرز زندگی مہیا کرتے ہیں تا کہ آپ معاشرے کی بہتری میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ لیکن یہ سب ملنے کے بعد بھی کم بخت اولاد ایسے کام کرتی ہے کہ لوگ جھٹ سے اس کے ماں باپ کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ آپ اچھا انسان کیسے بن سکتے ہیں؟ اس کا جواب ابھی نا آپ دے سکتے ہیں نا میں، البتہ آپ کا ”اندر کا انسان“ ضرور دے سکتا ہے۔ کیونکہ وہ حساس ہے لیکن آپ نہیں۔

زندگی میں بہت سی ایسی چیزیں ہو جاتی ہیں جن سے آپ بے شمار تجربات حاصل کرتے ہیں۔ یہ تجربات کبھی اچھے ہوتے ہیں کبھی برے۔ اور عموما یہ سب تجربے ”لوگوں“ سے ہی حاصل کیے جاتے ہیں۔ تلخ تجربوں کی بات کی جائے تو ان تجربوں کے لٗئے عمر کے تقاضے نھیں دیکھے جاتے۔ کئی دفعہ کم عمر لوگ بھی ان تجربوں سے آشنا ہو جاتے ہیں اور کئی لوگ بغیر اس بلا کے ستائے ہوئے خوشی خوشی اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ سب کہتے ہیں ایسے لوگ خوش قسمت ہوتے ہیں لیکن میرے مطابق یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کا صحیح سے شکر ادا نھیں کر پاتے ہوں گے۔

میرے یہ کہنے کے پیچھے یہ وجہ ہے کہ اگر ان کا سانپ سے بھی زیادہ زہریلے انسانوں سے واسطہ کبھی نہ پڑا ہو تو وہ اللہ کے ہاں مدد مانگنے کب جائیں گے؟ وہ بس اللہ کے دیے ہوئے فرائض ہی پورے کرنے جائیں گے۔ اور میں نے تو بچپن سے یہی سنا ہے کہ اللہ اپنے پیارے بندوں کو تکلیفیں دیتا ہے کہ وہ میرے قریب رہے اور مجھ سے مدد مانگے۔ ایسے تو نہیں مشہور ”درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ اطاعت کے لئے کم نہ تھے کرو بیاں“ لیکن جس درد دل کی بات خواجہ میر درد نے کی ہے وہ درد دل آپ کو ڈھونڈھنے پر ملے گا ہر جگہ میسر نہیں۔

یا آپ کو اپنے اندر خود پیدا کرنا پڑے گا۔ آپ زندگی کی تلخ حقیقتوں کو دل سے قبول کر کے ناصرف خود اس سے نبرد آزما ہوں بلکہ دوسروں کو بھی انہیں سمجھنے میں مدد کر سکیں اگر آپ کے مشکل وقت میں کوئی آپکے ساتھ نہیں کھڑا تھا تو آپ کم سے کم مشکل میں گھرے لوگوں کے کام ضرور آئیں۔ جو چیز آپ خود نہیں پا سکے وہ دوسرے کو دے کے دیکھ لیں۔ کیا پتہ آپ کو ادھر ہی سکون مل جائے۔ اور اچھے انسان کی ایک یہ خوبی بھی ہوتی ہے۔

اصل بات پہ اگر غور کریں تو تجربے ہی آپ کو اچھا اور برا، احساس کرنے والا اور ظالم انسان بناتے ہیں۔ کچھ لوگ ان تجربات کی وجہ سے اتنے سخت اور روکھے ہو جاتے ہیں کہ احساسات سے بھری چٹان بھی انہیں ٹکرا جائے تو وہ اس کی شدد اور اونچائی محسوس نہیں کر پاتے۔ اور کئی لوگ ہلکا سا جھٹکا لگنے اور پھول کے مسلے جانے پر بھی رونے لگتے ہیں۔

اگر آپ تلخ تجربات سے گزرے ہیں تو انہی تجربات کے پیش نظر آپ اچھے سے سمجھ سکتے ہیں کہ کیا چیزیں دوسروں کے لئے تکلیف کا باعث بنتی ہیں اور کون سی راحت کا باعث اورآپکو سمجھنے میں آسانی ہو گی کہ آپ دوسروں کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ انسان اور تجربات اچھے ملیں یا برے، آپ ”خود“ پیار اور خوشیاں بانٹیں۔ وہ پھول برسائیں جن کی خوشبو سے نہ صرف آپ بلکے دوسرے بھی محظوظ ہو سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
بینش سعید کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *