کرونا وائرس : ممکنہ مشتبہ 5 ہزار افراد پنجاب میں گُم ہوگئے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنجیدہ سماجی و عوامی حلقوں میں اس امر پر شدید تشویش کا اظہارِ کیا جارہا ہے کہ ایران سے پنجاب لوٹنے والے 5 ہزار شہری کسی قسم کی تھرمل سکریننگ یعنی کرونا وائرس کا ابتدائی تشخیصی چیک اپ کروائے بغیر ہی ”غالب“ ہوگئے ہیں جن کی تلاش کے لئے پنجاب حکومت نے کوئی زحمت ہی نہیں کی۔

امیگریشن حکام کے مطابق 15 جنوری سے اب تک مجموعی طور پر 13 ہزار 836 پاکستانی شہری ایران سے وطن واپس آئے ہیں جن میں سے 2355 سندھ کے رہائشی تھے جبکہ دیگر لگ بھگ 11 ہزار ملک کے دوسرے صوبوں سے تعلق رکھتے تھے۔

ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں میں مجموعی طور پر 8 ہزار پاکستانی ایران سے لوٹے ہیں جن میں سے 5 ہزار صرف صوبہ پنجاب کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔ ۔

سندھ میں 26 فروری کو کرونا وائرس کا جب پہلا کیس رپورٹ ہوا تو وزیر اعلیٰ سندھ اسی وقت حرکت میں آگئے تھے اور انہوں نے صوبائی انتظامیہ کی پوری مشینری متحرک کر دی تھی، صوبہ بھر میں ڈپٹی کمشنرز کو اپنے اپنے ضلع میں ایران سے وطن واپس آنے والے شہریوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر 14 دن کے لئے قرنطینہ یعنی ”طبی قید“ میں رکھنے پر لگا دیا تھا لیکن پنجاب میں ابھی تک ایران سے آنے والے افراد کو ٹریس کرنے تک کے لئے بھی کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔

یہ بھی پتہ چلا ہے کہ تفتان بارڈر کے رستے ایران سے واپس پاکستان میں داخل ہونے والے بہت سے افراد کو بعض حکومتی و دیگر با اثر شخصیات 14 روزہ نگرانی کے لئے کیمپوں میں رکھے جانے سے بچاتے ہوئے اپنے اثر و رسُوخ کے ذریعے سیدھے ان کے گھروں کو لے آئے کیوں کہ وہاں 14 روزہ قرنطینہ کے لئے لگائے گئے خیمہ کیمپس میں نہائت نامناسب بندوبست ہے، یہاں تک کہ 3 ہزار سے زائد افراد کے لئے صرف 4 باتھ روم ہیں۔

واضح رہے کہ ملک میں اب تک جن 19 شہریوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے وہ تمام بیرون ملک سے پاکستان لوٹے تھے جن میں بڑی تعداد ایران سے آنے والوں کی بتائی جاتی ہے جبکہ سندھ میں تمام 15 متاثرین اگرچہ کراچی ایئرپورٹ سے ملک میں داخل ہوئے لیکن ان میں سے ایک کے بھی کرونا سے متاثر ہونے کا پتہ ایئرپورٹ پر نہیں چلا تھا بلکہ بعد میں جب انہیں ڈھونڈ کر ان کا ٹیسٹ کیا گیا تو ان میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *