ذیابیطس کی تشخیص اور اس کا علاج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(Diagnosis and Treatment of Diabetes)

(زندگی کی پراسراریت حل کرنے کے لیے مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پراسراریت محسوس کرنے کے لیے ہے۔ آرٹ وین ڈر لیو)

میرے نانا کے ایک دوست اکثر کہا کرتے تھے کہ ”تشخیص مرض کی موت ہے۔ “ یہ کہاوت کچھ بیماریوں پر تو لاگو ہوتی ہے اور کچھ پر نہیں۔ اگر ایک بار ذیابیطس ہو جائے تو پھر وہ ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ کچھ بالکل شروع میں ذیابیطس کو ٹھیک کر سکتے ہیں۔ ریسرچ بتاتی ہے کہ معدے اور آنتوں کی وزن کم کرنے والی سرجری (Bariatric surgery) سے بھی ان افراد میں ذیابیطس ٹھیک ہو جاتی ہے جن کو ذیابیطس کا مرض پانچ سال سے کم عرصے سے لاحق ہو۔

ذیابیطس زیادہ تر علاج شروع کر دینے کے باوجود وقت کے ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے اور شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے دوا بڑھانا یا مزید دوائیں شامل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس میں مریضوں کی کوئی غلطی ہے۔ یہ اس بیماری کا قدرتی سفر ہے۔ مناسب وقت پر ذیابیطس کی تشخیص اور علاج سے خون میں شوگر کی مقدار کو نارمل دائرے میں رکھ کراس بیماری کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔

چونکہ ابتدائی سطح پر ذیابیطس کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں اس لیے اس کے کافی مریض ایسے ہوتے ہیں جن کو اپنی بیماری کے بارے میں معلوم نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ ہر سال کم از کم ایک بار چیک اپ اور خون کے ٹیسٹ کروا لیے جائیں۔

ذیابیطس کی علامات

ذیابیطس کی ابتدائی سطح پر اس کی کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ وقت کے ساتھ جیسے جیسے خون میں گلوکوز کی مقدار میں اضافہ ہوتا ہے تو زیادہ پیاس لگنا، زیادہ پیشاب آنا اور باربار بھوک لگنے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

پہلی قسم کی ذیابیطس کے مریضوں میں تیزی سے وزن کم ہونے سے لے کر ڈی کے اے (DKA) یعنی کہ ذیابیطس کیٹو ایسیڈوسس (Diabetes Ketoacidosis) کے ساتھ ہسپتال میں داخل ہونا شامل ہیں۔ اگر ان مریضوں کا بر وقت مؤثر علاج نہ کیا جائے تو موت تک واقع ہو سکتی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں طبی میدان میں ترقی اور سہولیات کی وجہ سے موت کی شرح صفر اعشاریہ ایک ہے یعنی کہ ایک ہزار ڈی کے اے کے مریضوں میں سے ایک مرجاتا ہے لیکن یہ شرح ترقی پذیر ممالک میں کافی زیادہ ہے جہاں ہسپتال میں داخل ہونے والے ذیابیطس کے سو میں سے پانچ مریض ڈی کے اے سے مرجاتے ہیں۔

ذیابیطس سے نسیں اور پٹھے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ پیروں کے سن ہوجانے سے تکلیف کا احساس جاتا رہتا ہے۔ تکلیف جسم کے مدافعتی نظام کا اہم حصہ ہے اور اس کے موجود نہ ہونے سے زخم ہو جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اگر زخم ہو جائیں تو پھر وہ جسم میں گلوکوز کے زیادہ ہونے کی وجہ سے آسانی سے نہیں بھرتے کیونکہ ایسے ماحول میں خون کے سفید جسیمے جو کہ ہمیں بیماریوں سے بچاتے ہیں درست طریقے سے اپنا کام نہیں کر سکتے۔ ذیابیطس کے مریضوں میں تھکن، دھندلی اور کمزور نظر اور یا داشت کا متاثر ہونا عام شکایات ہیں۔ جیسا کہ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں ذیابیطس سے مریض کی تمام زندگی اور اس کا خاندان متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے ذیابیطس کو کنٹرول کرنا نہایت اہم ہے۔

ذیابیطس کی تشخیص کے طریقے

ذیابیطس کی تشخیص کئی طریقے سے کی جا سکتی ہے۔ یہ ٹیسٹ مندرجہ ذیل ہیں۔

ایک۔ اگر آپ کے خون میں گلوکوز کی مقدار ایک سو چھبیس ملی گرام فی ڈیسی لیٹر ( 126 mg/dl) دو مختلف موقعوں پر پائی جائے جو کہ نہار منہ ناشتے سے پہلے چیک کی گئی ہو تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذیابیطس ہو چکی ہے۔

دو۔ اگر کسی میں ذیابیطس کی علامات موجود ہوں اور ان کے خون میں موجود گلوکوز کی مقدار کسی بھی وقت دو سو ملی گرام فی ڈیسی لیٹر ( 200 mg/dl ) یا اس سے زیادہ ہو تو اس سے بھی ذیابیطس کی تشخیص کی جا سکتی ہے۔

ہیموگلوبن اے ون سی (Hemoglobin A 1 c) ٹیسٹ کا نتیجہ اگر ( 5.6 %) یا اس سے زیادہ ہو تو بھی ذیابیطس موجود ہے۔ اے ون سی ٹیسٹ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خون میں موجود گلوکوز کی پچھلے تین مہینے میں اوسط مقدار کتنی تھی۔ خون کے سرخ جسیمے گلوکوز کو جذب کر لیتے ہیں اور اے ون سی ٹیسٹ سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ذیابیطس کا کنٹرول کس سمت میں جا رہا ہے اور علاج کام کر رہا ہے یا نہیں۔ اے ون سی ٹیسٹ ہر تین مہینے میں ایک مرتبہ ضرور کروانا چاہیے اور ہر مریض کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا اے ون سی لیول کتنا ہے۔

اے ون سی کا ٹارگٹ زیادہ تر بالغ مریضوں میں چھ اعشاریہ پانچ سے سات فیصد ( 6.5۔ 7 %) تک ہوتا ہے۔ چھوٹے بچوں اور بوڑھوں میں یہ ہدف آٹھ فیصد ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چھوٹے بچوں اور بوڑھے افراد میں خون میں گلوکوز کی مقدار نہایت کم ہو جائے تو خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔ اے ون سی کے مطابق خون میں اوسط گلوکوز کے لیول کے لیے ٹیبل دیکھیں۔

چار۔ دو گھنٹے کے گلوکوز کو برداشت کرنے والے ٹیسٹ (Two hour oral glucose tolerance test) سے بھی ذیابیطس کو تشخیص کیا جاتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں مریض کو پچھتر گرام گلوکوز منہ کے ذریعے دے کر ایک اور دو گھنٹے کے بعد ان کے خون میں گلوکوز کا لیول چیک کرتے ہیں۔ یہ ٹیسٹ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (World Health Organization) کا دو گھنٹے کا گلوکوز برداشت کرنے والا ٹیسٹ کہا جاتا ہے۔ دو گھنٹے کے بعد اگر گلوکوز کا لیول دو سو سے زیادہ ہے تو بھی ذیابیطس موجود ہے۔ اس ٹیسٹ کو ذیابیطس کے خطرے میں موجود لوگوں میں ذیابیطس کی تشخیص اور حاملہ خواتین میں ذیابیطس (Gestational Diabetes) کی تشخیص کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

(Pre۔ Diabetes) پری ذیابیطس

پری ذیابیطس مرض کی وہ سطح ہے جس میں ابھی مریض کو ذیابیطس نہیں ہوئی لیکن وہ ذیابیطس میں مبتلا ہو جانے کے خطرے میں ہیں۔ یہ ایک محض بری خبر نہیں بلکہ ایک سنہری موقع ہے جس کا فائدہ اٹھا کر ذیابیطس اور اس کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ مندرجہ ذیل ٹیبل میں وہ ٹیسٹ بیان کیے گئے ہیں جن سے پری ذیابیطس یا ذیابیطس کو تشخیص کر سکتے ہیں۔

پری ذیابیطس / ذیابیطس تشخیص کرنے کے ٹیسٹ

ہیموگلوبن اے۔ ون۔ سی

۔ نارمل < 5.7 %

۔ پری ذیابیطس 5.7۔ 6.4 %

۔ ذیابیطس> 6.5 %

آٹھ گھنٹے خالی پیٹ ہونے کے بعد خون میں شوگر کا ٹیسٹ

نارمل۔ < 100 mg/dl

پری ذیابیطس۔ 100۔ 126 mg/dl

ذیابیطس۔ > 126 mg/dl

دو گھنٹے والا منہ کے ذریعے گلوکوز برداشت کرنے والا ٹیسٹ

نارمل< 140 mg/dl

پری ذیابیطس> 140۔ 200 mg/dl

ذیابیطس> 200 mg/dl

ذیابیطس کا علاج

ٹائپ ون ذیابیطس میں چونکہ انسولین بالکل موجود نہیں ہوتی اس لیے اس کا علاج صرف انسولین سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں گولیوں سے علاج شروع کیا جاتا ہے۔ چونکہ وقت کے ساتھ ساتھ لبلبے کے بیٹا سیل (Pancreatic beta cells) ختم ہوتے جاتے ہیں، ان مریضوں کو بھی انسولین کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر ٹائپ ٹو ذیابیطس کافی دیر سے تشخیص کی گئی ہو تو ان مریضوں کو گولیوں کے ساتھ ہی انسولین بھی شروع کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ ذیابیطس کے ہر مریض کا علاج اس مریض کی انفرادی ضروریات اور صورت حال پر منحصر ہوتا ہے۔ اکثر مریضوں کو میں نے کہتے سنا ہے کہ ان کو نہیں معلوم کہ خون میں شوگر کتنی ہونی چاہیے یعنی کہ علاج کے کیا مقاصد ہیں۔ یہ معلومات مندرجہ ذیل ہیں۔

ذیابیطس کے علاج کے مقاصد[ 1 ]

اے ون سی کو چھ اعشاریہ پانچ سے سات فیصد تک رکھا جائے

نہار منہ خون میں گلوکوز نوے سے ایک سو تیس ملی گرام فی ڈیسی لیٹر کے درمیان ہو

کھانا کھانے کے دو گھنٹے کے بعد خون میں گلوکوز ایک سو اسی ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم ہو

ذیابیطس کی تعلیم

ویسے تو ہر بیمار کو اپنی بیماری کے بارے میں پڑھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ذیابیطس میں یہ بات اور بھی اہم ہے کہ مریض اپنی بیماری کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں۔ ذیابیطس کے مریض اپنے ساتھ چوبیس گھنٹے گزارتے ہیں اور ان کی بیماری کا علاج خود ان سے بڑھ کر اور کوئی نہیں کر سکتا۔ باقاعدہ ورزش اور غذا میں احتیاط ذیابیطس کے علاج کا نہایت اہم حصہ ہیں۔

غذا میں احتیاط

تحقیق سے یہ سامنے آیا ہے کہ سفید چاول کھانے سے ذیابیطس ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سفید چاول اور سفید آٹے کے بجائے بھورے چاول اور مکمل آٹا جس میں سے بھوسی نہیں نکالی گئی ہو استعمال کیے جائیں تو بہتر ہے۔ پورے آٹے میں بھوسی موجود ہوتی ہے جو کہ ذیابیطس کے علاوہ آنتوں کے کینسر کے لیے بھی مفید ہے۔ چینی اور چکنا ئیوں کا کم سے کم استعمال کرنا چاہیے۔

سبز یاں اور پھل گوشت اور زیادہ چکنا ئیوں والے کھانوں سے بہتر ہیں۔ ضرورت سے زیادہ کھانا صحت کے لیے مضر ہے۔ ایک تجربے میں سائنسدانوں نے چوہوں کے دو گروہ بنائے۔ ایک گروپ کو خوب کھلایا پلایا گیا جبکہ دوسرے گروپ کو کم کیلوریوں والی خوراک دی گئی۔ جس گروپ کو کم خوراک ملی وہ زیادہ عرصے تک زندہ رہے۔ اس تجربے سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ضرورت سے زیادہ کھانے سے عمر گھٹتی ہے [ 2 ]۔

ورزش

ہلکی پھلکی چہل قدمی سے لے کر باقاعدہ ورزش کرنے سے انسان کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جسمانی طور پر متحرک ہونے سے خون میں گلوکوز کی مقدار میں کمی واقع ہوتی ہے، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چستی اور توانائی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ ہفتے میں پانچ دن کم از کم تیس منٹ تک چلنا پھرنا چاہیے۔ اگر تین چار دوستوں کے ساتھ مل کر ورزش کا پروگرام شروع کریں تو اس سے ایک دوسرے کو سپورٹ ملتی ہے اور باقاعدگی پیدا ہونے کا زیادہ امکان ہو گا۔

پارک یا جم میں چہل قدمی کرتے ہوئے اگر خواتین دکھائی دیں تو ان کو گھورنے یا ان سے بدتمیزی سے اجتناب برتا جائے تو بہتر ہے تاکہ خواتین بھی اپنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے ایک محفوظ ما حول میں متحرک رہ سکیں۔ اگر مریضوں کو دل کی بیماری یا اور کوئی تکلیف ہے جیسے کہ جوڑوں میں درد کی شکایت تو کوئی بھی ورزش کا پروگرام شروع کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں [ 3 ]۔

ٹیبل 4۔ اے ون سی اور اس کے مطابق اوسط بلڈ گلوکوز

A 1 c

6.0 %

6.5 %

7.0 %

7.5 %

8.0 %

8.5 %

9.0 %

9.5 %

10.0 %

10.5 %

11.0 %

11.5 %

12.0 %

Blood glucose

125 mg/dl

140 mg/dl

154 mg/dl

169 mg/dl

183 mg/dl

197 mg/dl

211 mg/dl

226 mg/dl

240 mg/dl

255 mg/dl

269 mg/dl

283 mg/dl

298 mg/dl

۔ ۔

[ 1 ] American Diabetes Association Standards of care 2011۔ Diabetes Care January 2011، Vol 34 supplement 1، 511۔ 1561

[ 2 ] Weindruch R، The retardation of aging by caloric restriction: studies in rodents and primates۔ Toxicol Pahol۔ 1996 Nov۔ Dec; 24 ( 6 ) ; 742۔ 5۔

[ 3 ] American Diabetes Association: Diabetes and exercise: the risk۔ benefit profile۔ In The Health Professional ’s Guide to Diabetes and Exercise۔ Devlin JT، Ruderman N، Eds۔ Alexandria، VA، American Diabetes Association، 1995، p۔ 3۔ 4۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *