میں ناکام ہوں؛وجہ تم ہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو زندگی میں کسی بھی مقام پہ کسی بھی وجہ سے ناکام ہوتے ہیں اور اپنی اس ناکامی کو دوسرے کے کھاتے میں نہیں ڈالتے۔ ہم ناکام ہیں تو وجہ کوئی اور ہے۔ کبھی ہم اس کا ذمہ دار والدین کو ٹھہرا دیتے ہیں۔ کبھی معاشرے کو۔ کبھی بہن بھائیوں کو اور کبھی ازدواجی رشتے ایک دوسرے کو الزام دیتے رہ جاتے ہیں۔ ہم بہ حیثیت انسان اپنی غلطیاں تسلیم ہی نہیں کرتے۔ ایک تو تسلیم نہیں کرتے۔ دوجا ہمیں کوئی پنچنگ بیگ چاہیے ہوتا ہے۔ جس کو ہم پنچ کر سکیں کہ تم ہی وہ واحد وجہ ہو۔ جس کی وجہ سے میں ناکام ہوں۔

زندگی سب کو سب کچھ پلیٹ میں رکھ کے نہیں دیتی۔ ہمیں زندگی سے اپنا حصہ خود وصول کرنا ہے۔ کیسے کرنا ہے یہ ہمیں معلوم ہونا چاہیے۔ ہم کوئی نوکری کرتے ہیں۔ تو ہم چاہتے ہیں کہ نوکری ملتے ساتھ ہی بس کسی طرح میری پرموشن ہو جائے۔ باس کی نظر میں کسی طرح جگہ بنا لی جائے۔ جب ہم کام کی بجائے دوسری سرگرمیاں کریں گے تو پھر باس کی باتیں بھی سننی پڑیں گی۔ بدقسمستی سے جب آپ باتیں سن رہے ہوں گے تو اسی وقت باس کسی اور کی تعریف اس کی کارکردگی پہ کر دے۔ تو سمجھیں آپ کو ایک پنچنگ بیگ مل گیا۔ آپ نے اٹھتے بیٹھتے اس بندے کو زلیل کرنا ہے۔ کہ اس کی وجہ سے باس نے آپ کو زلیل کیا ہے۔ جبکہ باس کی نظر آپ کی کاردگی پہ ہے۔

ایسے ہی سماجی معاملات بھی ہیں۔ ساس بہو سے چڑتی ہے کہ بہو نے آ کے بیٹے پہ قبضہ جما لیا۔ بھئی بیٹا کون سا کوئی بے نامی کا خالی پلاٹ پڑا ہوا ہے۔ جس پہ کوئی بھی قبضہ کر لے گا۔ جو لڑکی بیاہ کے آئی ہے اسے اتنا تو وقت دیں کہ وہ آپ کے گھر کے طور طریقے سمجھ لے۔ نہ کہ اپنے بیٹے کے ہر غلط کام پہ بہو کو باتیں سنائیں کہ میرا بیٹا تمہاری وجہ سے بگڑا۔ بیوی خاوند اور خاوند بیوی کو اپنی غلطیوں کا ذمہ دار مت سمجھے۔ ویسے بھی ہمارے معاشرے میں دو انتہاوں کا رویہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ یا تو بہت اونچائی پہ جا کے تکرار ہو گی۔ یا پھر خاموش رہ کے ظلم سہتے جاؤ۔ بیچ میں کچھ نہیں۔

اولاد کاروبار میں نقصان اٹھاتی ہے تو باتیں سنتی ہے۔ رسک اٹھاتی ہے تو باتیں سنتی ہے۔ حتی کہ پڑھائی میں نمبرز نہ لانے پہ بھی اس کی شامت آتی ہے۔ ان سارے رویوں کے پیچھے بنیادی وجہ ہماری اپنی محرومیاں ہوتی ہیں۔ ہم اپنی محرومیوں و ناکامیوں کا بدلہ دوسروں سے لیتے ہیں۔ ہم اپنے لیے خود کوشش نہیں کرتے۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ہمارے لیے جان لڑا دیں۔ جبکہ ہم نہیں جانتے کہ دوسرا کوئی کتنی بھی جان لڑائے۔ تب تک آپ کی مدد نہیں کر سکتا جب تک آپ خود اپنی مدد نہیں کرتے۔

لوگوں کو پنچنگ بیگ بنانا چھوڑ دیں۔ کیونکہ آپ کے رویے دوسرے کو ذہنی دباؤ دیتے ہیں۔ اگلے کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں۔ خود بھی پریشان رہتے ہیں۔ اور دوسروں کو بھی پریشان رکھتے ہیں۔ بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی۔ جس میں چیونٹی سردیوں کے لیے خوراک جمع کرتی ہے۔ تا کہ جب زیادہ سردی پڑے تو اسے کھانے پینے کی تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔ جبکہ دوسری طرف مکڑا تھا جس نے پوری گرمیاں کھیل کود کے گزار دیں۔ اور سردیوں میں بھوکا مرنے لگا۔

تو چیونٹی نے اس کی مدد کی۔ اس کہانی سے سبق یہ ملتا ہے کہ اپنے لیے محنت اور کوشش خود کریں۔ کسی دوسرے کو اپنی غلطیوں کی سزا مت دیں۔ اپنی قوت فیصلہ مضبوط کریں۔ اور زندگی میں کامیابیاں حاصل کریں۔ یاد رکھیں زندگی کی آخری سانس تک مقابلہ کرنا اپنی عادت بنائیں۔ کبھی نہ کبھی کامیاب ہو جائیں گے۔ کیونکہ کوشش کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *