تئیس مارچ اور حب الوطنی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں دوبئی میں ہی تھی تو وہاں سے دوستوں کو میسج کر رہی تھی کہ مجھے 23 مارچ کی پریڈ دیکھنی ہے اور بچوں کو دکھانی ہے۔ پاسز کا پتا کریں۔ احباب کہہ رہے تھے دیر ہو گئی اب نہیں مل سکتے۔ میں چاہتی تھی میرے بچے وہ سب دیکھیں محسوس کریں جس کی ان کی زندگی میں کمی ہے۔ اس بات کی تفصیلات سے پہلے مجھے اس کا پس منظر بتانے دیں۔

ساری اسکولنگ، کالج یونیورسٹی ملی نغمے اور ترانے سنتے اور گاتے گزری۔ 23 مارچ، چودہ اگست، چھ اور سات ستمبر اور پی ٹی وی کی نشریات۔ وہ روایات تھیں زندگی کی جو وطن کے ساتھ چھوٹ گئیں۔ پردیس گئے تو دن رات صبح شام سالہا سال پردیس کے ہو گئے۔ نہ چودہ اگست کا پتا چلتا نہ 23 مارچ کا۔ ٹی وی دیکھنے کا وقت نہ ہوتا تھا، کیا دن آیا اور کیا گزر گیا کچھ خبر نہ ملتی تھی۔ ایسے ہی پردیس پنے میں بچے پیدا ہوئے اور بغیر ملی نغمے سنے بغیر پاک سرزمین گائے پلتے چلے گئے۔

پھر وہ وقت آیا کہ وہ عیشی بلادی (اماراتی نیشنل ترانہ) گانے لگے ”ہو اے ای کے جھنڈے مانگنے لگے، ان کے نیشنل دنیا پر قومی لباس کی فرمائشیں آنے لگیں تو دل ترسنے لگا ان دنوں کو جب سبز اور سفید کپڑے پہنے جاتے تھے، کھڑے ہو کر پاک سرزمین سنا جاتا تھا، اور سارا دن جنگی اور ملی ترانوں سے گھر کی فضا گونجتی رہتی تھی۔ ہمارے اور ہمارے بچوں کے بیچ کوئی لنک بہت بری طرح سے مسنگ تھا۔ نہ باتوں سے بتا پاتے تھے کہ ہمارا اصل کیا ہے نہ بچوں سے شکایت کر پاتے تھے کہ آخر وہ جانتے بھی کیسے۔ ان کو سمجھانا بھی مشکل تھا کہ جس دیس میں رہتے ہیں کیوں وہ ان کا گھر نہیں۔ کیوں مہنگے ترین اسکول میں مہنگے ترین بستوں کے ساتھ بھی ان کا درجہ ہمیشہ دوجا ہے۔

کئی طرح کے مشکل مراحل سے گزر کر جب پاکستان لوٹے تو بچوں کو ہر وہ چیز دکھانے کی کوشش کی جو ان کی زندگی سے مسنگ تھی۔ پہاڑ، دریا، برفیلی وادیاں، سرسبز گھاٹیاں۔ تو تئیس مارچ کی پریڈ بھی ان میں شامل تھی جو بچوں کی تربیت سے غیر حاضر تھی۔ وہ محب الوطنی، وہ جوش ولولہ، وہ قربانی کا جذبہ، وہ گواہ رہنا، ایہہ پتر ہٹاں تے، سوہنی دھرتی، راہ حق کے شہیدو، وہ پلٹ کر جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا جو بہت سے پاکستانیوں کی نظر میں قابل اعتراض ہے ہماری نظر میں بے انتہا اہم تھا۔

بات یہ ہے کہ چیزیں ہاتھ میں ہوں، انسان پاس بیٹھے ہوں، زمین قدموں تلے ہو تو کسی کی قدر نہیں ہوتی۔ چیزیں گم جائیں، لوگ کھو جائیں اور کسی اور کی زمین پر کھڑا ہونا پڑے تو انساں اپنی اوقات میں لوٹ آتا ہے۔ تو یہی وہ وجہ تھی کہ بچوں کو تئیس مارچ کی پریڈ دکھانا تھی، ان کو بتانا تھا کہ یہ جو خاکی وردیوں والے یہ زمین کے محافظ ہیں، یہ نیلی قمیضوں والے ہواؤں کے والی اور یہ سفید وردیاں پانی کے رکھوالے ہیں۔ یہ جو اچھلتے کودتے آتے ہیں یہ سب سے بڑھ کر شیر دل ہیں، یہ ہماری باہمت خواتین کی فوج ہیں، یہ توپیں ہماری یہ طیارے ہمارے! شاید کہ ہمارے بچوں کے دماغوں میں بھی کچھ گہرے تاثر جنم لے سکیں کوئی یاد ہی بن کر ہمارا ورثہ ان تک منتقل ہو سکے۔ گرچہ یہ حاضری ممکن نہ ہو سکی!

مگر یہ ہوا کہ چلتے پھرتے، کبھی سڑک پر آتے جاتے، کبھی کمرے کی کھڑکی سے تئیس مارچ کی ریہرسل کرتے طیارے ہم دیکھ سکتے تھے، ہم دیکھتے رہے۔ کبھی سڑک کے عین بیچ رکنا پڑا، کبھی گھنٹہ بھر کھڑکی میں کھڑے ہونا پڑا تا کہ جس قدر دکھائی دے سکے دیکھ اور دکھا لیا جائے۔ بچوں کو کچھ بتایا، کچھ سمجھایا کچھ دکھایا۔

کھڑکی میں کھڑے طیارے دیکھتے بچے چھوڑ کر ذرا کام سے نکلی۔ واپس لوٹی تو ایف 16 کے کریش کی خبر دہلیز پر منتظر ملی۔ وہ طیارا جو ابھی ہم اپنے کمرے کی کھڑکی سے چند سیکنڈ کی مہلت میں ڈھیر سا دیکھ لینے کے متمنی تھے۔ جن کو آتے جاتے ہم کئی سالوں کی ترسی نگاہوں سے جی بھر کر دیکھ اور دکھا لینا چاہتے تھے۔

آگے کی کہانی تو آپ سب کے سامنے ہے۔ آپ سب نے دیکھا ساتھ ہم نے بھی دیکھا۔ پچھلے آٹھ ماہ سے دارالحکومت میں چلتے پھرتے سوچتی تھی ایسا کب تک چلے گا۔ ہر کوئی لٹیرا، ہر کوئی بد دیانت، ہر کوئی جھوٹا۔ اب جانا کہ یہ ملک اتنے لٹیروں، بددیانت اور جھوٹے لوگوں کے ساتھ زندہ کیسے ہے۔ کچھ لوگ ہزاروں کے حصے کی قیمت چکاتے ہیں اور پھر بہت سے بیٹھ کر مزید کچھ عرصہ محو تماشا ہونے کی مہلت پاتے ہیں۔

میں پردیسی ہوں اور لبرل بھی، میں عورتوں کے حقوق کی داعی بھی، میں پاکستان میں تعلیم شعور، ایمانت دیانت کی کمی سے بھی واقف، میں اپنے لوگوں کی ہڈ حرام، کاہل طبیعت سے آگاہ، مگر میں نے اپنے بچوں کے سامنے اس شہادت کی ساری تفصیل رکھ دی اور کہا۔ ایک دن مجھے یہ فخر دینا!

جس کشتی کو ہزاروں ڈبونے والے ہوں اس کو پار لگانے میں ہاتھ بڑھانا پڑے گا۔ ونگ کمانڈر نعمان کا یہ قرض ہمارے کندھوں پر ہے اب یہ جیسی بھی زمین ہو جیسے بھی لوگ اس کو محفوظ رکھنا پڑے گا ورنہ قیامت کے روز ان شہیدوں کے ہاتھ ہمارے گریبانوں پر ہوں گے۔ جنہوں نے اپنی اولادوں کو اللہ کے نام پر چھوڑ دیا ہمیں ان کے سامنے جوابدہ ہونا پڑھے گا۔ مسنگ مین فارمیشن میں جو آج ہمارے لئے مسنگ ہیں ان کی جگہ خود کو اور اپنی اولادوں کو کرنا پڑے گا۔

حب الوطنی بیشک پرانا نعرہ ہے، جھپٹنا پلٹنا متنازعہ ہو گیا، شہادت پر سوال اٹھ گئے، مگر زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب اپنے وطن کے سوا کوئی آسرا نہیں ہوتا! آپ جیسا مرضی گوروں کی، عربوں کی، زمیں پر اکڑ کر چل لیں اس وقت آپ کی اوقات دو کوری کی ہو جاتی ہے جب آپ کے سامنے کوئی عرب، انگریز یا امریکی آ جاتا ہے۔ اپنی زمین کو گالی نکالنے سے پہلے سوچ لیں کہ جب دوسروں کی زمیں اگلے گی تو دو گز زمیں بھی اسی زمیں سے مانگنی پڑے گی جسے گالی دیتے ساری عمر گزار دی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *