نجم سیٹھی سے میر شکیل الرحمن کی گرفتاری تک کا “اوپن سیکرٹ”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں اُن دنوں روزنامہ ”دن“ سے منسلک تھا اور اعلیٰ عدلیہ کی رپورٹنگ کرتا تھا، ایک صُبح لاہور ہائی کورٹ کے نئے بلاک جسے ”نئی بلڈنگ“ کہا جاتا ہے، اس کے ایک فلور کا آخری کمرہ عدالتی وقت 9 بجے سے کہیں پہلے کھچا کھچ بھر چکا تھا تاہم اس روز کمرہ عدالت میں کورٹ رپورٹرز یا وکلاء سے زیادہ اخبار مالکان موجود تھے جو اپنے اپنے اخبار کے ایڈیٹر انچیف تھے، ان میں میر شکیل الرحمن سے لے کر عارف نظامی تک، ماسوائے مرحوم مجید نظامی کے لاہور میں موجود لگ بھگ سبھی اخبار مالکان صُبح صُبح جسٹس فقیر محمد کھوکھر کی عدالت میں پہنچ چکے تھے کہ ایک میگزین ایڈیٹر نجم سیٹھی کی حبس بے جا کی بابت درخواست کی پہلی سماعت ہونا تھی۔

نجم سیٹھی کو ایک یا 2 رات قبل کچھ سادہ پوش ”جوانوں“ نے سیدھا ان کے بیڈروم میں گھس کر اٹھا لیا تھا جس کا حکم براہ راست وزیراعظم نواز شریف نے دیا تھا۔ عدالت ڈپٹی اٹارنی جنرل شیر زمان کا انتظار کر رہی تھی جو پنڈی / اسلام آباد سے ”ہدایات“ (سرکار کا جواب) لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ سماعت ختم کرتے ہی جج صاحب اپنے چیمبر میں چلے گئے تو اگلے ہی لمحے میں ان کے پاس موجود ان سے ڈائریکٹ کیس بارے ”آف دی ریکارڈ“ ان کا نکتہ نظر پوچھ رہا تھا۔ جسٹس فقیر محمد کھوکھر خود بھی پورے معاملے بارے پوری طرح اپ ڈیٹڈ تھے۔ ۔

بہرحال یہ پہلا موقع تھا اور غالباً آخری بھی کہ ملک کے کم و بیش تمام میڈیا مالکان کو APNS یا سی پی این ای کے اجلاس کے علاوہ بھی کہیں ایک جگہ جمع دیکھا گیا ہو، اور وہ بھی اتنی صُبح سویرے۔

اسی ”مرد آہن“ وزیراعظم (لوہا کا بزنس ہونے کی وجہ سے نواز شریف کو اس لقب سے بھی پکارا جاتا تھا) کے گزشتہ دور حکومت میں وزیراعظم ہی کے خصُوصی حکم پر لاہور پولیس کے چیف یعنی ایس ایس پی لاہور رانا مقبول (ان دنوں ”نوُن لیگ“ کے سینیٹر رانا مقبول) ”فرائیڈے ٹائمز“ کے ایڈیٹر اور ”وین گارڈ بکس“ کے مالک نجم سیٹھی ”؍فکس اپ“ کرنے کی ایک کوشش کر چکے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیراعظم نے اپنے چہیتے ایس ایس پی لاہور کو ان کے نزدیک بعض ”ٹیڑھے“ صحافیوں کو ”سیدھا“ کرنے کا خفیہ ٹاسک سونپا تو انہوں نے خفیہ طور پر اپنی سربراہی میں ایک ”تھنڈر سکواڈ“ تشکیل دیا تھا، اور اسی سکواڈ کے پہلے مشن کے تحت رانا مقبول ایک رات خود ریگل چوک میں اپنی گاڑی میں گھات لگا کر بیٹھے تھے، لیٹ نائٹ نجم سیٹھی اپنے دفتر سے نکل کر گھر جانے لگے تو رانا مقبول نے انہیں فوراً ہی جا لیا، اور شاید ان کا گریبان پکڑ کے یا انہیں ایک تھپڑ رسید کرتے ہوئے ”باز آجانے“ کی وارننگ دی تھی۔ ۔

اسی طرح ”مرد آہن“ وزیراعظم کے دوسرے دور حکومت میں غالبا 1992 میں جب وزیراعظم نواز شریف اور صدر غلام اسحاق خان سمیت ”پاور ٹرائیکا“ کے مابین سخت کشیدگی چل رہی تھی، میں روزنامہ ”جنگ“ لاہور میں رپورٹر تھا کہ ایک روز اخبار کے صفحہ اول کے ”اپر ہاف“ پر میرے کولیگ حامد میر کی کہ ایک سنگل کالم خبر شائع ہوئی کہ وزیراعظم کے اہل خانہ کے ملک سے باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اگلے 3 دن میں خود رپورٹنگ کیبن کے سامنے واقع نیوز روم میں چیف نیوز ایڈیٹر مرحوم جواد نظیر کو ٹیلی فون پر بیس بیس منٹ تک اونچی آواز میں چیف ایڈیٹر میر شکیل الرحمن سے بحث کرتے دیکھتا رہا جو یہ کہتے ہوئے اس خبر کی تردید لگانے سے انکار کیا کرتے تھے ”جب میرے رپورٹر کی خبر درست ہے تو میں کیسے تردید لگا دوں؟ “

میر شکیل الرحمن پر خبر کی تردید شائع کروانے کے لئے پرائم منسٹر ہاؤس سے شدید دباؤ تھا، بہرحال میر شکیل الرحمن نے نہ اپنے پروفیشنل چیف نیوز ایڈیٹر کو سیٹ سے ہٹایا اور نہ ہی رپورٹر حامد میر کو نکالا۔ ۔ کچھ ایسا ہی رویہ انگریزی روزنامہ ”ڈان“ کی انتظامیہ کے علاوہ دو دیگر چیف ایڈیٹرز مرحوم مجید نظامی اور ضیاء شاہد کا اپنے کارکنوں کے ساتھ بالعموم رہا ہے کہ اگر وہ خبر کی صداقت بارے مطمئن ہوتے تو پھر رپورٹر پر کبھی کوئی آنچ نہ آتی۔ ۔

جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب ”جنگ“ کے لوکل ایڈیشن کی کاپی تیار ہونے تک کراچی ہیڈآفس میں یہ طے کرلیا گیا تھا کہ میر شکیل الرحمن کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے پیچھے وجہ بننے والے حقائق کچھ اور ہیں اور یہ کہ اب لڑائی لڑنی ہے، لہٰذا میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کی خبر کو ”لیڈ سٹوری“ کے طور پر لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ایک بڑے میڈیا ہاؤس کے مالک سیٹھ کی گرفتاری پر اپنی بھڑاس نکالنے والے بہت سے ”بے چارے“ نادان میڈیا ورکرز ”جشن“ مناتے ہوئے اس بات کا ادراک نہیں کر پائے کہ بظاہر یہ آزادی صحافت پر حملہ نہیں ہے تب بھی اس ”سرکاری“ اقدام کی وجہ آزادی صحافت برقرار رکھنے کی وہ کوشش ہی ہے جو اقتدار و اختیار والوں کو ”ڈان“ اور ”جنگ“ گروپ کے اشتہارات بند کرنے پر مجبور کیے ہوئے ہے۔ وقت آنے پر سب ایک ”اوپن سیکرٹ“ بن جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *