حکمران، عوام اور نیا پاکستان
تبدیلی! ایک ایسا لفظ جسے سننے، پڑھنے یا بیان کرنے سے اپنے اردگرد بدلاؤ کا گماں ہوتا ہے۔ زندگی بھی دراصل بدلاؤ کا نام ہی ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا میں موجود ہر شخص وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خود کو تبدیل کرنے کا خواہاں ہوتا ہے۔ پاکستانی معاشرے میں بھی ظاہری طور اس روایت کو قائم رکھنے کی کو شش کی ہے۔ سال 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کا اقتدار میں آنا بھی اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پاکستانی سیاست پر جمود کے چھائے بال چھٹے اوراقتدار پر ایک ایسے شخص نے حلف اٹھایا جس کا دامن کرپشن کے الزامات سے پاک تھا، ایمانداری اس کے کردار کا خاصا تھی۔
اس اقدام سے احساس ہوا کہ پاکستانی قوم نہ صرف اقتدار کے ایوانوں میں بدلاؤ کی خواہشمند ہے بلکہ اپنی ذاتی زندگیوں میں بھی انقلاب لانے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے۔ معاشرے میں رشوت ستانی، چوری، قتل، ملاوٹ اور بچوں سے جنسی درندگی جیسے واقعات میں واضح کمی آئے گی۔ ہر فرد اپنے حکمران کی طرح ایمانداری کی زندگی بسر کرے گا لیکن انتخابات کے بعد معاشرے میں اجتماعی طور پر جمود کی صورتحال جوں کی توں موجود ہے۔ انتخابات میں پی ٹی آئی کے تھنک ٹینکس کو بھی داد دینی پڑے گی کیونکہ انہوں نے کروڑوں لوگوں کو نئے ڈھنگ سے پرانے خوابوں کو پورا کرنے کا منجن بیچا، جس کے نتیجے میں یہ تبدیلی مردہ ضمیر کے حامل جسموں کے لئے صرف نعروں تک محدود رہی۔
انقلاب کی منتظر قوم نے کرپشن اوردھوکہ دہی کے سابقہ ریکارڈ بھی توڑ دیے ہیں۔ سرکاری دفاتر میں کام کروانے کے لئے دگنی رقم دینی پڑتی ہے کیونکہ مہنگائی کی بڑھتی شرح کے باعث فائل کو آگے پہچانے میں مشکلات کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ حالیہ چند ماہ میں پاکستان بھر میں جرائم کی شرح میں کئی گنا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں روزانہ کی بنیاد پر 150 سے 200 گاڑیاں، 500 سے 600 موٹر سائیکل اور 3 ہزار سے زائد موبائل فونز چھینے جا رہے ہیں۔ 2018 کے مقابلے میں 2019 میں پنجاب میں جرائم کی شرح میں مجموعی طور پر 71 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ صوبائی دارالحکومت میں کرائم کی شرح میں 37 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔
بزنس مین اپنے بچوں کو معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی کے لئے کافی فکرمند ہیں لیکن قوم کے بچوں کو زائد المعیاد اور جعلی اشیاء کی ری پیکیجنگ کرنے کے بعد مارکیٹ میں دوبارہ فروخت کرتے ہیں۔ دودھ میں خشک دودھ، یوریاسمیت کئی مضر صحت کیمیکلز کی ملاوٹ کرنے کے بعد بھی یہ قوم تبدیلی کی خواہشمند ہے۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق سال 2019 میں فوڈ سیفٹی ٹیموں نے 389، 413 فوڈ یونٹس کا معائنہ کیا، غیر معیاری خوراک کی فروخت پر 5,013 کو سیل جبکہ 27، 259 سے زیادہ فوڈپوائنٹس کو جرمانے عائد کیے گئے۔
پنجاب بھر میں 14، 531 دودھ کیریئرز اور 15، 073 دودھ شاپس کا معائنہ کیا اورلیے گئے سیمپلز کے نتائج میں ملاوٹ ظاہر ہونے پرتقریباً 400، 000 لیٹر ملاوٹی دودھ ضائع کیا گیا۔ انقلاب کے لئے اٹھتے ہاتھوں سے کبھی مرچوں میں لکڑی اوراینٹ کے برادے کی ملاوٹ کی جاتی ہے تو کبھی صابن، ٹالکم پاوؤڈر اور مصنوعی رنگوں کے عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ ملاوٹی اشیاء سے تیار خوراک ناصرف کئی موزی امراض کا موجب بنتی ہے بلکہ یہ اوسط عمر میں کمی کا بڑا سبب بھی ہے۔ ہم روزمرہ زندگی میں استعمال کی جانے والی کسی بھی شے میں ملاوٹ نہ ہونے کی تصدیق نہیں کر سکتے۔
ہم اپنے اختیارات کے پیش نظر جس حد ممکن ہو سکے کرپشن میں ملوث نظر آتے ہیں، ایک پھل فروش کی ممکن کوشش ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ گلے سڑے پھلوں کوخریدار کے بیگ میں ڈال سکے، دفاتر میں بیٹھے ملازمین اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے آمدن بڑھانے کے نت نئے طریقے آزما رہے ہوتے ہیں۔ ہر طبقے اور شعبے سے وابستہ شخص کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح دوسروں کی مجبوریوں اور ضرورتوں سے خود کو مستفیدکر سکے۔ معاشرتی برائیوں کی دلدل میں پھنسی قوم کے منہ سے نیک اور ایماندار حکمران کی خواہش اخلاقیات کے بالکل منافی ہے۔
حکومت وقت کی جانب سے عمل اور فکر سے لاشعور معاشرے میں ملاوٹ مافیا کے خلاف ایمرجنسی نافذ کرنے کی گئی ہے، جرائم پر قابو پانے کے لئے پولیس کو مزید متحرک کرنے کی کوششیں کی جار رہی ہیں، جنسی ہراسگی کے بڑھتے واقعات کو کنٹرول کرنے کے لئے قانون سازی کی جار رہی ہے جو کہ انتہائی خوش آئند ہے، لیکن معاشرتی برائیوں میں گھرے معاشرے میں یہ جزوی اصلاحات ناکافی ہیں۔ ہمیں انفرادی سطح پر اپنے رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ نئے پاکستان کے خواہشمند چہروں کو بہت سے معاملات میں پہلے خود کو آئینے میں دیکھنا پڑے گا۔ یہ جاننا ہوگا کہ یہاں فرشتے پیدا نہیں ہور ہے بلکہ عام انسان ہیں جو گردو پیش سے ہی ہیں۔ تبدیلی کا راگ الپانے اور دوسروں کو تبدیل کرنے سے پہلے اپنی عادات اور کردار کا بغور جائزہ لینا ہو گا۔


