پنجگور میں پڑاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گوریچ کے خطرناک عزائم دیکھ کر ہم نے اپنے آپ کو چادر میں لپیٹ لیا ورنہ یہ گوریچ دشمنی کی آخری حد تک جا سکتا ہے اور ہم یہ خطرہ مول لینا نہیں چاہ رہے تھے۔ نہ جانے اس ہوا کو بلوچستان کی سرزمین بالخصوص پنجگور سے کیسی انسیت آن پڑی ہے کہ یہ اس کا پیچھے نہیں چھوڑتا۔ صبح سویرے گوریچ پر تبصرے اور طنزیہ جملے سامنے آنے لگے۔ منیر نوشیروانی جنہیں ہماری آمد کی اطلاع مل چکی تھی۔ صبح آنکھ کھلتے ہی نگاہ جب موبائل پر پڑی تو ان کا مزاحیہ پیغام ملا کہ ”نون بدار وتی پاداں۔ پنجگورے گوریچ گوں شما وڑے کنت“۔ آواران کا ناتا گو کہ پنجگور سے ناتوان ہو چکا ہے۔ مگر گوریچ اس ناتوان رشتے کو مضبوطی میں بدلنے کے لیے گوریچ ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے۔

منیر نوشیروانی سے پہلی ملاقات 2007 کو آواران میں اس وقت ہوئی تھی جب وہ این سی ایچ ڈی میں جاب کرنے آواران آئے تھے۔ پنجگور سے ایک اور ساتھی ظہیر احمد تھے۔ بعد میں لاپتہ کر دیے گئے جو تاحال لاپتہ ہیں۔ ایک اور دوست آزاد خان نوشیروانی تھے۔ بڑے ہی محبی انسان تھے۔ ایک ٹریفک حادثے میں جان گنوا بیٹھے۔ کبھی کبھار گئے دنوں کو ٹٹولتا ہوں تو تکلیف کا ایک سمندر امڈ آتا ہے۔ ان صفحات کو فورا بند کرتا ہوں۔ منیر نوشیروانی سے 13 سالہ جڑت کبھی بھی ٹوٹنے نہ پایا۔ سو ہماری آمد ان کے لیے خوشیوں کا پیام لے آیا۔ خدابادان میں واقع ان کے مہمان خانہ حاضری دی تو ہم پنجگور بازار کی طرف نکل آئے۔

خدابادان سے نکلتے ہوئے آگے رخشان ندی آتا ہے۔ کئی سالوں کی خشک سالی کے بعد ہم نے اسے تر پایا۔ خشک سالی نے کجھوروں کے باغات کو اجاڑ کر رکھ دیا تھا۔ خشک کاریزات نے ایک بار پھر سے سانس لینا شروع کیا تھا۔ کجھور کے درختوں نے ایک بار پھر سے کھلکھلانا شروع کیا تھا۔ زندگی کا عکس دوبارہ ظاہر ہونا شروع ہوا تھا۔ مگر کجھور کے وہ باغات جو کسی زمانے میں اپنے مکینوں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہوا کرتے تھے۔ اب ایک لاتعلقی ان کے گرد سراپا احتجاج تھا۔ سوچتا رہا کہ پنجگور کی حقیقی پہچان جو کسی زمانے میں کجھور کے درختوں کی وجہ سے ہوا کرتا تھا اب اگر یہ درخت ہی نہ رہے تو پنجگور اپنا حقیقی عکس کہاں سے ڈھونڈ کر لائے۔

پنجگور جوشعبہ تعلیم میں مکران کا ٹاپ ضلع ہوا کرتا تھا اب اس کا تعلیمی میدان انگڑائی لیتا ہوا نظر آرہا ہے۔ حالات ایسے پیدا کیے گئے کہ پنجگور کے پرائیوٹ تعلیمی اداروں کو مجبوراً خاموشی کا دامن تھامنا پڑا۔ ادارے انتہا پسندوں کی زد میں آگئے۔ سربراہاں کو دھمکیاں دی گئیں۔ ادارے یکے بعد دیگرے بند ہوتے چلے گئے۔ جس کا خمیازہ پنجگور کو بھگتنا پڑا۔ اس پر اہل پنجگور کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ البتہ اس صورتحال میں مدارس محفوظ رہے۔ بلوچستان میں اگر مدارس کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے تو وہ ہے پنجگور۔ جنہیں فنڈنگ عرب ممالک سے ہوتی ہے۔ آپ کو ہر گلی اور کونے میں مسجد اور مدارس ضرور ملیں گے۔ اور ناموں کے ساتھ لفظ حاجی کا سابقہ۔

مدارس اور مساجد کے ساتھ ساتھ پنجگور میں بیٹھک کلچر اب بھی نمایاں ہے۔ کوئی ایسا گھر نہیں جہاں مہمان خانہ موجود نہیں۔ ہماری معلومات میں اضافہ کرنے کے لیے ایک دوست نے بتا دیا کہ گھر کی تعمیرات کے دوران اس کی ابتدا مہمان خانہ سے کیا جاتا ہے۔ مہمان خانہ کے ساتھ ساتھ مہمان نوازی کی روایت اب بھی یہاں موجود ہے۔ ایک اور چیز جو ہمیں نمایاں نظر آئی وہ تھی دیواروں پر بنے جھنڈے اور سیاسی نعرے۔ کوئی ایسا دیوار نہیں تھا جو ان جھنڈوں اور نعروں سے آزاد تھا۔ پنجگور کی شاہراہوں پر جس چیز کی بہتات بہت زیادہ ہے وہ ہے سڑکوں پر بنے چوک۔ ہمیں بتایا گیا کہ چوک اسد بلوچ کی تخلیقات ہیں۔

راہ چلتے ہماری نگاہوں کے سامنے ایک بورڈ کا گزر ہوا۔ بورڈ پر ”یونیورسٹی آف تربت، پنجگور کیمپس“ لکھا ہوا نظر آیا۔ نگاہیں جس چیز کی متلاشی تھی۔ یہ بورڈ اس کی نوید سنا رہا تھا۔ ”کیمپس ہے کہاں؟ “۔ میرا سوال منیر نوشیروانی سے تھا۔ جواب ملا ڈگری کالج کی باؤنڈری کے اندر۔

باؤنڈری وال کے اندر واقع اس خستہ حال بلڈنگ کو اسداللہ بلوچ کے سابقہ دور میں بیوٹمز کیمپس کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ مگر بیوٹمز اپنا کیمپس قائم نہ کر سکا۔ اب تربت یونیورسٹی کا سب کیمپس اس کی جگہ لے چکا تھا۔ ہم نے وہاں کھڑے شخص سے کیمپس کے منتظم کا پوچھا تو ہمیں بتایا گیا کہ عطا مہر ہیں۔ تو زبان پر بے اختیار جملہ آیا۔ ”ارے یہ تو اپنا عطا مہر ہیں“۔ عطا مہر کاچناؤ بطور فوکل پرسن کیا گیا ہے۔ کراچی یونیورسٹی شعبہ سوشل سائنسز میں گولڈ میڈلسٹ ہیں۔

تعلق ان کا پنجگور سے ہے یونیورسٹی سے فراغت پاتے ہی زمین سے جڑت اسے اپنے آبائی ضلع لے آئی۔ داخلہ مہم کے حوالے سے کافی متحرک دکھائی دیتے ہیں دوران گفتگو انہوں نے بتایا کہ داخلہ تعداد 200 سے زائد ہو چکی ہے۔ کیمپس کا آغاز چار شعبہ جات انگلش لٹریچر، باٹنی، ایجوکیشن اور کمپیوٹر سائنس سے کیا جا رہا ہے۔ اساتذہ کے انتخاب کا سلسلہ جاری ہے جلد ہی کلاسز کا اجرا کیا جائے گا۔ ایک خوش آئند بات یہ بھی سامنے آئی کہ تربت یونیورسٹی کو پنجگور میں اپنا سب کیمپس قائم کرنے کے لیے نہ صرف موجودہ ایم پی اے اسد بلوچ کی کوششوں سے بلڈنگ مفت دستیاب آیا ہے بلکہ اسٹاف کے لیے تین سال کی تنخواہوں کا یکمشت اجرا کرکے انہوں نے تعلیم دوستی کا ثبوت دے دیا ہے۔ گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ پرنسپل ڈگری کالج پنجگور پروفیسر جاوید بلوچ نے لیکچرر مشتاق گچکی کے ہمراہ ہمیں جوائن کیا۔ گفتگو کا سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا۔ وقت اجازت لینے کا آیا تو عطا مہر نے ہمیں بونستان لائبریری دورے کی دعوت دی۔ جسے ہم نے بخوشی قبول کیا۔

اگلا ہدف عزت اکیڈمی تھا۔ کسی زمانے میں جب ریڈیو کا دور دورہ تھا۔ ریڈیو پاکستان کوئٹہ کے بلوچی پروگراموں کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا۔ تو پنجگور سے روزانہ کی بنیاد پر خط و کتابت کے ذریعے جس شخصیت کا نام بہت زیادہ سنائی دیتا تھا وہ تھا عنایت اللہ قومی۔ عنایت اللہ قومی کا پنجگور ادب کے میدان میں گو کہ وقت کی رفتار سے آگے بڑھ نہیں پا رہا۔ لیکن نوجوان اپنی تعین کوششوں میں مصروف عمل ہیں۔ اکیڈمی کے اندر داخل ہونے پر جس شخص کو ہم نے اکیڈمی کے احاطے کے اندر پایا وہ تھے عبدالودود بلوچ۔

عبدالودود ہمیں صدر کی غیر موجودگی میں اس کے دفتر لے کر گئے۔ مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوا۔ ہمیں بتایا گیا کہ موجودہ کابینہ ادب کی فراوانی اور کتابوں کی اشاعت کے حوالے سے کافی متحرک ہے اب تک اکیڈمی کی 13 مطبوعات سامنے آئی ہیں۔ نوجوان ادیب اور شاعروں پر مشتمل کابینہ اکیڈمی کو جدید طرز پر چلانے کا خواہشمند ہے۔ اکیڈمی کے صدر سعید عزیز اللہ ہیں۔ دیگر اراکین میں صابر سید، اقبال زہیر شامل ہیں۔ جنہوں نے بعد میں ہمیں جوائن کیا۔ اکیڈمی کے اندر ایک اور کمرہ لائبریری کے لیے مختص ہے۔ بازار کے اندر واقع اکیڈمی علمی اور ادبی گفتگو اور مطالعے کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔

ہمیں اس دوران بتایا گیا کہ وہ موجودہ سال پنجگور میں دو روزہ ادبی میلہ کرنے جا رہے ہیں۔ آواران تعلیمی و ادبی میلے کا تجربہ ہم نے ان کے ساتھ کھل کر شیئر کیا۔ پروگرام کو مزید کس طرح بہتر کیا جا سکتا ہے اس حوالے سے تجاویز بھی ارسال کیے۔ خداحافظ کہنے کے وقت آیا تو ہمیں اکیڈمی کی جانب سے ان کی شائع شدہ مطبوعات کا تحفہ عنایت کیا گیا۔ اور ہم نے اس امید پہ ان تحائف کو قبول کیا کہ مطالعہ کرکے ان کا حق ادا کریں گے۔

سہ پہر کو ہم نے بونستان پبلک لائبریری کا رخ کیا۔ بونستان ہائی سکول کی چاردیواری کے اندر واقع یہ لائبریری یہاں کے مکینوں کو دو وقت کا مطالعہ فراہم کرتا ہے۔ سکول ٹائم اور سیکنڈ ٹائم۔ یہ لائبریری پنجگور میں تعلیمی نظام کی بحالی کے لیے ہوا کا ایک جھونکا ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ اس کے منتظمین اسے مستقل بنیادوں پر چلا سکیں۔ ڈاکٹر نبیل بلوچ، عطا مہر اور دیگر ساتھی لائبریری کو فعال رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔

اور کمیونٹی نے ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے اس کے چلانے کی ذمہ داری اپنے سر لی ہے۔ لائبریری کے اندر نہ صرف مطالعے کا رجحان پایا جاتا ہے بلکہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کے لیے اس میں ماہانہ اسٹڈی سرکلز، گروپ ڈسکشن، اوپن مائیک سیشنز کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ مگر ہم نے بچیوں کے لیے اسپیس نہیں پایا۔ سوال کیا تو جواب آیا کہ بچیوں کے لیے آنے والے وقتوں میں گرلز ہائی سکول میں مطالعے کا ماحول پیدا کرنے کے لیے کوشش کریں گے۔

خدابادان میں واقع بوائز ہائی سکول جانا ہوا تو سکول کے احاطے کے اندر ایک کمرہ سکول لائبریری کے لیے مختص پایا۔ جسے سکول انتظامیہ نے حاجی نورالحق کے نام سے منسوب کیا تھا۔ حاجی نورالحق کون؟ تو ہمیں بتایا گیا کہ سیکرٹری خزانہ۔ یہ علاقہ صوبائی سطح پر اہم پوزیشنوں پر فائز بیورو کریٹس کا علاقہ کہلاتا ہے۔ علاقہ ان کی دید کو ترستا ہے۔ ماضی میں اہلِ علاقہ نے زمین کو اپنا کر اسے وقت دیا اس میں تعلیم کا بیج بو دیا۔ اب کا پنجگور ہمیں خالی نظر آیا جو آنے والے وقتوں میں بنجر زمین بن سکتا ہے۔ جسے زرخیز کرنے کے لیے موجودہ نسل کو میدان میں آنا ہوگا۔

اگلے روز ہم یعنی میں اور بشیر ساجدی سرزمینِ کیچ کی یاترا کے لیے پنجگور کو الوداع کہہ گئے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *