امان اللہ خان اور راوی کا آفتاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امان اللہ خان صاحب کو عرصہ ہوا آفتاب اقبال کے ساتھ کام کرتے ہوئے اور جب بھی آفتاب اقبال صاحب فلاسفی پیش کرتے تھے تو امان صاحب برا مان جاتے تھے اور خوب کلاس لیتے تھے۔ پورے کا پورے ماحول بدل دیتے تھے۔ آخری ایام میں جب شو میں آتے تھے تو آفتاب اقبال کی ہر بات پر وہ کلاس لینے لگتے تھے۔ لیکن آفتاب صاحب انجوائے کررہے ہوتے تھے۔ آفتاب اقبال امان خاں کو ہیرا کہتے تھے اور کامیڈی کا بے تاج بادشاہ کا خطاب دیتے تھے اور ساتھ ہی فرماتے تھے کہ اس ہیرے کو تراشا نہیں گیا جتنی چمک اس کی ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی اور خبرناک ؛خبردار؛ اور خبرزار میں آفتاب نے ہیرے کا کچھ حصہ تراشا تھا کچھ حصہ سہیل صاحب نے تراشا تھا جس کی دمک اب ہمیشہ رہے گی۔ میں کچھ باتیں جو ہمارے علاقے راوی کے بارے میں خاں صاحب فرماتے تھے اور سماں باندھ دیتے تھے۔

جب کبھی بہت اوا زار ہوجاتے تو آفتاب سے فرماتے ”جا پتر راوی نا کوئی آوی نا کوئی جاوی“۔ ( راوی علاقہ مختلف برائیوں کی وجہ سے مشہور ہے تو اس طرف جاؤ جہاں نا کوئی آئے نا جائے )

خبرزار شو میں امان اللہ خان سبزی فروش ہیں تو آفتاب صاحب کہتے ہیں کہ آلو وائٹ رکھے ہوئے ہیں تو خاں صاحب کہتے ”اللہ جاندا اے ؛ اے اپنے پنڈ راوی دے کنارے نا وائٹ نا سفید کہندا بلکہ چٹے کہندا اے ایتھے آکے سیانا بن جاندا اے“ ( آفتاب اپنے گاؤں میں آلو کو چٹا کہتا ہے اور یہاں شو میں سیانا بن جاتا ہے )

سبزی فروش اسسٹنٹ کو کہتا کہ جاؤ اگلے محلے میں یہاں پر بیٹھتا ہوں آفتاب غصے میں کہتا تم کیوں یہاں بیٹھو گے؟ جاؤ!

خاں صاحب دوسروں کی طرف اشارہ کرکے کہتے ”اے ایتھے دیگاں پکاندے پئے نے“

”اے چھوٹا جا سی میریاں اکھاں دے سامنے وڈا ہویا پڑھیا لکھیا ویلا بیٹھا رہندا اے ؛ کوئی کم لبھ۔ ویلا بیٹھا لڈو تاش کھیلی جاندا اے“

آفتاب کہتا میں لڈو نہیں کھیلتا۔

خاں صاحب کہتے ”تے تاش؛ بڑا بھئی مفت بر بچہ سی۔ پیسے کوئی لاندا جت اے جاندا سی۔ “ (یہ یہاں پر دیگیں پکارہے ہیں یہ چھوٹا سا تھا جب دیکھا آنکھوں سامنے بڑا ہوا پڑھا لکھا ہے کام نہیں کرتا لڈو اور تاش کھیلتا ہے اور مفت بر ہے )

ہنی البیلا خاں صاحب کو کہتا ”ایناں دی سونے دی دکان سی آفتاب صاحب نال متھا لا لا کے روڑیاں ویچن تے آگیا اے“۔ (ان کی سونے کی دکان تھی آفتاب صاحب سے لڑائی کی وجہ سے ریوڑیاں بیچتے ہیں )

خبرناک شو میں آفتاب صاحب اردو کا ٹکڑا لگا کر خاں صاحب کو ڈانٹتا ہے جو کہ اندھے پیر بنے ہوئے ہیں تو خاں صاحب کہتے ہیں ”ایمان نال جے تینوں ظفر اقبال صاحب نا پڑھاندے بغیر بریکاں آلی سائیکل بجھانی سی تو؛ کسے دے وچ وج گئی تے کہنا سی او بھاؤ آ تو انا ایں ؛ دسدا نہیں ہایا سائیکل آؤندا پیا اے“ ( میں ایمان سے کہتا ہوں کہ اگر ظفر اقبال صاحب ان کو نا پڑھاتے تو یہ سائیکل سواری ہی گاؤں میں کرتے اور لڑائیاں لے رہے ہوتے )

آفتاب اقبال صاحب کہتے تم تو بے شرم ہو خاں صاحب کہتے ”تم تو بے شرم ہو ؛ تو پڑھیا لکھیا ناں نا ہوندا تو کیرم بورڈ کرائے تے دینے سے؛ حالانکہ کیرم بورڈ کرائے تے کوئی نہیں دیندا اینے دینے سی“ (تم پڑھے لکھے نا ہوتے تو کیرم بورڈ کرائے پر دینے تھے حالانکہ وہ کوئی بھی نہیں دیتا)

خاں صاحب کہتے

”ایویں دے بندے ایویں چڑدے رہندے کہ مجھے خواب ٹھیک نہیں آئے یار کی ہوگیا فر آ جان گے چنگے خواب“ (اس جیسے بندے ہر بات پر غصہ کرتے رہتے ہیں کہ مجھے خواب ٹھیک نہیں آتے )

” دربار تے جا کے بابے نال متھا لا لیندا اے کہ میری کوئی وی دعا قبول نہیں ہوئی میں دروازہ بند کردینا اے؛ سفیدی نہیں ہون دینی؛ ٹائم پیس اتار لینا اے دیکھدا کون لاندا اے“ ( مزار پر جاکر بابا جی سے لڑائی کرتے ہیں کہ میری دعا قبول نہیں ہوتی؛ میں سفیدی نہیں ہونے دوں گا مزار میں ؛ گھڑی اتار کرکہتے کہ یہ نہیں لگانے دوں گا)

آفتاب صاحب کہتے تمہیں ہمارے شو میں بلاتا کون ہے؟

خاں صاحب ”پنجھا ( 50 ) سال عمر ہوگئی اس دی، اجے تک بچیاں آلی حرکتاں؟ تمہیں ہمارے شو میں بلاتا کون ہے؟ نکلو ہمارے گھر سے ؛ تم اگر شو میں آئے تو میں تم پر پانی پھینک دوں گا ” ( پچاس سال عمر ہونے کے باوجود ابھی تک بچوں والی حرکت ہے کہ شو میں بلاتا کون ہے؟ نکلو ہمارے گھر سے ؛ میں تم پر پانی پھینک دوں گا)

خاں صاحب کہتے کہ آفتاب صاحب کو مخاطب کرکے کہ یہ بات کرے گا کہ دیکھنا اگر ہم اس طرح بے حس رہے تو گرم پانی ہم سے چھن جائیں گے ”تو اوتھے بیٹھ کے نہانا ماما“ ( تم نے وہاں بیٹھ کر نہانا ہے )

اور یہ کرپشن ہمارے آڑے آجائے گی ”جیہڑا صدر اے او بے فکر ہو کے ستا اے اینہوں ایویں فکر پئی اے“ (صدر بے فکر ہوکر سورہا ہے اور اسے فکر پڑی ہوئی ہے )

آفتاب اقبال صاحب خاں صاحب کو بھٹو صاحب سے بھی تشبیہ دیتے تھے کہ وہ غریبوں کا درد رکھتے تھے اور ان کی مدد کرنے کا بڑا شوق رکھتے تھے۔ بقول آفتاب مجھے یہ سعادت نصیب ہوئی کہ میں نے ایسے انسان کے ساتھ کام کیا تھا اور ایک اننگ کھیلی تھی۔

امان صاحب نے دنیا کو خوش کرنے کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت بھی کی اور غریب کا درد رکھتے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *