ہماری زبانیں ہماری پہچان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زبان احساس کا ایک فطری اظہار ہے اس سے محبت بھی بانٹی جا سکتی ہے اور نفرت بھی۔ اور مادری زبان تو ایک بچے کا اولین اظہار ہے اس لئے یہ انتہائی اہم ہے۔ عظیم عالمی رہنما نیلسن منڈیلا نے مادری زبان کے لئے کہا تھا کہ، اگر آپ کسی آدمی سے ایسی زبان میں بات کرتے ہیں جسے وہ سمجھتا ہے تو بات اس کی سر تک جاتی ہے اگر آپ اس کی زبان میں کرتے ہیں تو یہ بات اس کی دل تک پہنچتی ہے۔

21 فروری 1952 کو ڈھاکہ یونیورسٹی خون سے لت پت جسموں اور سسکتی ہوئی صداؤں کی گواہ ہے۔ اس دن طلباء کی ایک ایسی آواز بلند ہوئی جو ڈھاکہ یونیورسٹی کی چاردیواری سے چیخ بن کر دنیا بھر میں پھیل گئی اور ایک ایسی تاریخ رقم کرائی گئی جس نے مادری زبانوں کو ایک الگ شناخت دے دی۔

اس واقع نے عالمی سطح پر لوگوں کی سوچ پہ ایک گہرا اثر چھوڑا کہ مادری زبان بولنا اور اس کے تحفظ کے لئے آواز اٹھانا ہر قوم کا بینادی حق ہے۔ اس لئے مادری زبان کی اپنی ایک عزت اور اہمیت ہے۔ چنانچہ عالمی سطح پر اس واقع کی شدید مذمت کی گئی اور یونیسکو کی جانب سے اس واقعے کے بعد 21 فروری کومادری زبانوں کا عالمی دن قراردے کر طلباء کی قربانی کو سراہا گیا۔ دنیا بھر میں لگ بھگ تین ہزارسے زائد مادری زبانیں بولی جاتی ہے اور کئی ممالک ایسے بھی ہیں جنہوں نے صرف مادری زبان کو اپنی خارجی اور داخلی زبان بنا رکھا ہے۔

یونیسکو کی تحقیق کے مطابق پاکستان بھر میں 72 مادری زبانیں بولی جاتی ہیں پر ہم اس ملک کے باشعور باشندے سواء چند زبانوں کے علاوہ باقی بولیوں سے ناواقف تھے۔ اور نا آشنا ہی رہتے لیکن یہ کاوش انڈس کلچرل فورم کی جانب سے کی گئی کہ جس کی وجہ سے اس ملک کے اندر مختلف زبانوں کی گوشہ نشینی ترک کروا کے اس ملک کی درالحکومت اسلام آباد میں بولیوں کو اکٹھا کیا۔

انڈس کلچرل فورم پچھلے چار سال سے مادری زبانوں کا ادبی میلا منعقد کروارہا ہے۔ اس سال انڈس کلچرل فورم نے پانچواں مادری زبانوں کا ادبی میلا پاکستان نشنل کاؤنسل آف آرٹ میں منعقد کیا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی بیس سے زائد زبانوں کی نمائندگی رہی اور پچاس سے زائد مختلف مادری زبانوں میں لکھی گئی کتابوں کی رونمائی کی گئی۔ بیس کے قریب ادبی اور فنون لطیفہ پر مبنی سیشن، تھیٹرڈرامہ اور موسیقی کے پروگرام کا انعقاد کرایا گیا تھا۔

اس میلے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے شرکاء کی شمولت پورے پاکستان کے مختلف زبانوں سے اور مختلف علاقوں سے تھی خاص طور پر ملک کے چھوٹے شہروں سے تھی۔ ان میں کئی ایسے افراد بھی شامل تھے جن کی آمد اسلام آباد میں پہلی بارہوئی تھی۔ ان لوگوں کا تعلق ادبی حلقوں سے ہے پران باصلاحیت لوگوں کو اپنی صلاحتوں کو منوانے کا موقعہ کسی بڑے پلیٹ فام پر فراہم نہیں کیا گیا۔ کیوں کہ ہمارے ادبی پلیٹ فام بھی ہماری تعلیم اور صحت کی طرح ایک خاص طبقاتی نظام کا حصا بن گئے ہیں جہاں پر چند زبانون کے علاوہ باقی زبانوں کی انٹری ممنوع ہے۔

زبان کا تعلق فقط بولنے اور رابطہ کاری سے نہیں ہے۔ یہ وسیع تر ثقافتی ورثہ ہے جو کہ سماج کی جسم میں قلب کا کردار ادا کرتی آئی ہے۔ ایک فرد کا زبان سے تعلق اس کی ماں کے کوکھ سے لے کر ماں کی گود تک کا سفر ہے۔ یہ تعلق صرف جذباتی نہیں فطری بھی ہے۔ زبان قوموں کے صدیوں پرانی تہذیب، وتمدن اور تشخص کو زندہ رکھنے کا بنیادی ذریعہ ہے۔ اس ادبی میلے کے ایک سیشن میں نظامت کے فرائز انجام دی رہی تھی اس سیشن کا عنوان زبانوں کے لئے اکیسویں صدی کے چیلنچ اور ادیبوں کا کاردار۔

اس موضوں پر بہت لمبا مباحثہ ہوا۔ ریاست کی ستر سالہ تاریخ میں مادری زبانوں کی ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا ہے وہ ایک بڑا المیہ ہے ایک طرف سے حکومت کی جانب سے ایک طویل خاموشی کا مظاہرا کیا گیا ہے زبانوں کا تعلق ریاست سے زیادہ لوگوں سے ہے اور ریاست کا تعلق لوگوں سے ہوتا ہے اس لئے لازم ہے کہ ریاست مادری زبانوں کو آئینی تحفظ فراہم کرے۔ اس جدید دور میں آگے جاکر مادری زبانوں کو ایک بڑا چلینچ درپیش ہوگا اور وہ ہے ٹیکنالجی کے ساتھ منسلک نہ ہونا ہوگا۔

اس میں ہمارے ادیبوں کے ساتھ حکومت کو ایک کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا۔ زبان بولنے، پڑھنے اور لکھنے سے بچائی جائی گی۔ اس لئے ریاست اور صوبائی حکومتوں کو سنجیدگی سے حکمت عملی بنانا پڑے گی۔ مادری زبانوں کی ترقی اور فروغ کے لئے ادارے تشکیل دینے پڑیں گے۔ مادری زبانوں کا نصاب ٹیکنالوجی سے منسلک کرنا پڑے گا۔ اب دنیا بدل چکی ہے اس جدید دور میں زبانوں کو سائینس سے منسلک کرنے کی ضرورت ہے۔ زبان کی ترقی اور پزیرائی سائینسی ظرزِ عمل پر ہونا چاہے تاکہ اس جدید دور میں زبان اپنا وجود بچا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *