ایک سیٹھ کی گرفتاری کو صحافتی آزادی کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں: فردوس عاشق اعوان
وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ نیب حکومتی نہیں بلکہ ایک آزاد ادارہ ہے۔ میر شکیل الرحمان کو مختلف الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔ توقع ہے کہ نیب ٹھوس شواہد بھی پیش کرے گا۔ انہوں نے کہا گزشتہ روز میرشکیل الرحمان کی گرفتاری کو غلط رنگ دے دیا گیا۔ حکومت کسی بھی طور پر صحافت یا صحافتی اداروں سے ٹکراو نہیں چاہتی ہے۔
نجی ٹی وی اے آر وائی کے مطابق فردوس عاشق اعوان نے کہا میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کو حکومت سے نتھی کرنا مناسب نہیں۔ ایک سیٹھ کی گرفتاری کو صحافتی آزادی کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں ہے۔ قانون کے سامنے کوئی مالی ایشوز ہیں اس کو صحافتی آزادی پر حملہ قرار نہیں دینا چاہئے۔ جیو نیوز نے صرف اپنے ادارے کا موقف دیا، حکومت کا موقف پیش نہیں کیا گیا۔ جیو صرف ایک رخ نہ دکھائے۔ اس سے یوں لگتا ہے کہ جیو نے خود ہی حکومت کو پارٹی بنا لیا ہے۔
فردوس نے کہا کہ انہوں نے خود میر ابراہیم سے بات کرنے کی کوشش کی ہے، میرا فرض ہے کہ ان کا موقف سنوں اور وزیراعظم تک پہنچاوں۔ انہوں نے کہا اگر انتقام کی بو آئی تو حکومت اس کے خلاف کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا حکومت نیب کے کسی عمل پر بات نہیں کرنا چاہتی تھی تاہم میڈیا ہاوسز پر بار بار اس پر بات کی جا رہی تھی اس لئے ردعمل دینا پڑا۔ ہر گرفتاری کو حکومت پر ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا عمران خان کی قیادت میں تمام ادارے آزادانہ کام کر رہے ہیں، حکومت نیب کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی۔


