تشدد سے امن کا سفر: خوش بخت خان سے انٹرویو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محترمی و مکرمی خوش بخت خان صاحب!

سب سے پہلے میں آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے انٹرنیٹ پر مجھ سے رابطہ قائم کیا اور مجھ پر اتنا اعتماد اور اعتبار کیا کہ اپنی دکھ بھری کہانی مجھے سنائی۔ میں نے جب آپ کو مشورہ دیا کہ آپ اپنا تشدد سے امن کا سفر رقم کریں کیونکہ اس سے بہت سے لوگوں کا بھلا ہوسکتا ہے تو آپ اپنی کہانی لکھنے کے لیے راضی تو ہو گئے لیکن چونکہ آپ ایک لکھاری نہیں ہیں اس لیے آپ کو کچھ مدد کی ضرورت تھی۔ چنانچہ جب میں نے کہا کہ میں آپ کو چند سوال بھیجوں گا تا کہ آپ کو اپنی آپ بیتی لکھنے میں مدد مل سکے تو آپ بہت خوش ہوئے۔ اس لیے چند سوال حاضر ہیں۔ آپ کے جوابات کا شدت سے انتظار رہے گا۔ چونکہ میں آپ کو تشدد سے امن کا سفر کرنے والا ایک خوش قسمت انسان سمجھتا ہوں اس لیے میں نے آپ کا فرضی نام خوش بخت خان رکھا ہے۔ اگر آپ یہ نام پسند نہ آئے تو آپ اپنے لیے کوئی اور فرضی نام چن لیں۔

مخلص۔

ڈاکٹر خالد سہیل

***      ***

1۔ آپ کی پرورش کس قسم کے خاندان میں ہوئی؟ کیا آپ کے خاندان میں محبت پیار اور ہمدردی کا راج تھا یا شدت اور تشدد پسندی کا؟

میرا تعلق ایک اوسط آمدنی والے خاندان سے ہے۔ شروع ہی سے والدین میں ناچاقی کے سبب گھر میں تشدد کا دور دورہ دیکھا۔

2۔ آپ نے کس سکول میں تعلیم حاصل کی؟ کیا آپ کو سب انسانوں سے محبت کا درس دیا گیا یا وہاں آپ کو غصے نفرت تلخی اور تعصب کا سبق پڑھایا گیا؟

تمام تعلیم سرکاری اداروں اور مدرسے میں حاصل کی۔ زندگی کا ایک بڑا عرصہ ایک مدرسے میں گزرا۔ وہاں میں نے نفرت اور انتہا پسندی کا پرچار دیکھا۔ ساتھ ہی ساتھ بچوں کے ساتھ زیادتی کے متعدد واقعات بھی دیکھے، سنے اور خود بھی اس سے نا بچ سکا۔

3۔ پاکستان میں لال مسجد کا جو درد ناک واقعہ پیش آیا اس میں آپ کا کیا مشاہدہ اور تجربہ تھا؟

انتہائی ہولناک اور درد ناک تجربہ تھا۔ لاشیں دیکھیں، زخمی دیکھے۔ میں نے دیکھا کہ کس طرح ریاست پہلے شدت پسند عناصر کی پشت پناہی کرتی ہے اور پھر دوسرے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ان لوگوں کو قربانی کا بکرا بنا دیتی ہے۔

4۔ کیا آپ کا پاکستان کی کسی شدت پسند مذہبی پارٹی یا تحریک سے بھی کوئی تعلق تھا؟

جی بالکل۔ یہ تعلق شر وع تو جہادی علما کی تقاریر سن کر بنا۔ بعد ازیں سپاہِ صحابہ اور جیشِ محمد سے تعلق رہا۔ در اصل میرے مدرسے میں ان جماعتوں کے لیڈران کا آنا جانا رہتا تھا۔ بعد میں تحریکِ طلبا و طالبات لال مسجد میں بھی سرگرم رہا۔

5۔ آپ کتنا عرصہ اس تحریک کے زیر اثر رہے اور کیا کردار ادا کرتے رہے؟

قریب 7 برس کا تعلق رہا ان تنظیموں سے۔ جہادی نظمیں پڑھیں، نفرت انگیز لٹریچر پڑھا اور پھیلایا۔ 6 ماہ کی ٹریننگ میرانشاہ میں جا کر لی۔

6۔ آپ کی سوچ میں کب اور کیسے مثبت تبدیلی آئی؟

آپریشن سا ئلنس نامی لال مسجد میں ہونے والی فوجی کارروائی : جب میں نے مولویوں کا رویہ دیکھا جنہوں نے معصوم بچوں کو ڈھال بنایا اور خود برقع میں فرار ہوتے پکڑے گئے۔ بس پھر دل بد ظن ہونا شروع ہوگیا۔ تجسس شروع ہی سے طبیعت کا خاصا تھا اور کتب بینی کا شوق بھی، اب کے “تہذیبی نرگسیت” جیسی کتب پڑھیں اور مزید پڑھتا چلا گیا۔ قائد اعظم یونیورسٹی نے تو جیسے کایا ہی پلٹ دی۔ وہاں ترقی پسند کے ذریعے اچھی محافل میں جانا ہوا اور مزید لٹریچر پڑھنے کو ملا۔ ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اور ڈاکٹر کامران صاحب کی تحاریر اور ان کے ساتھ ہونے والی نشتوں نے قلب و اذہان پر چھائی نفرت کو رفع کر دیا۔

7۔ اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی میں آپ کس دور میں تعلیم حاصل کر رہے تھے؟

2007 سے 2009 تک

8۔ پروفیسر پرویز ہود بھائی کی شخصیت اور ان کے روشن خیال سوچ نے آپ کو کیسے متاثر کیا؟

پہلی دفعہ یہ پتہ چلا کہ مذہب پر ایک مولوی کے علاوہ بھی کوئی شخص پْر مغز گفتگو کر سکتا ہے۔ ہود بھائی کی باتوں کو غور سے سنا، نوٹس لیے اور پھر ان پر سوچا۔ جیسے جیسے سوچا، فکر کے مزید دریچے وا ہوتے چلے گئے۔ اس بات کا احساس بھی ہوا کہ مذہب پر فقط مولوی کی ہی ٹھیکیداری نہیں، دوسرے شعبوں کے لوگ بھی مذہبی معاملات پر پر مغز گفتگو کر سکتے ہیں۔

9۔ آپ کی سلمان حیدر جیسے روشن خیال ادیبوں سے کیسے ملاقات ہوئی اور آپ نے ان سے کیا سیکھا؟

پہلا پہل تعارف تو فیس بک کے توسط سے ہوا۔ باقاعدہ ملاقات ہمارے ایک مشترکہ دوست کے ساتھ قائدِ اعظم یونیورسٹی میں ہوئی۔ سلمان بھائی کی فیس بک وال کے ساتھ سلسلہ جوڑ لیا۔ عدم تشدد کا فلسفہ سیکھا، اچھے اچھے لوگ انہی کے ریفرنس سے ملے۔ فرقہ واریت کا عفریت کیسے انسانی رگوں میں سرایت کر جاتا ہے، اس کا بھی احساس ہوا۔

میں نے ان سے بشر دوستی اور تکریم ِانسانیت کا سبق سیکھا۔ علاوہ ازیں اپنی بات کو تحریر کے پیرائے میں کیسے ڈھالنا ہے، یہ بھی ان سے سیکھا۔ ان کے اور مزید فیس بکی دوستوں کو بھی ایڈ کیا اور سب سے کچھ نا کچھ سیکھا۔

10۔ آپ نے تعلیم ختم کرنے کے بعد کس قسم کی ملازمت کی؟

پہلے پہل تو ایک سرکاری ملازمت کی۔ پھر ایک این جی او میں کام کیا جہاں پر نوجوانوں میں شدت پسندانہ رجحانات کے تدارک کے لیے پالیسی بنائی جا رہی تھی۔

11۔ کیا آپ نے کسی کو اپنے شدت اور تشدد پسند ماضی کے بارے میں بتایا؟ اگر بتایا تو اس کا کس قسم کا ردِ عمل ہوا؟

جی بتایا۔ پہلی دفعہ اپنی غیر ملکی باس کو بتایا جو نوجوانوں کے ساتھ میرے تعلق پر معترف تھیں۔ میری کہانی سن کر وہ گھبرا گئیں اور یہ سمجھنے لگیں کہ شاید میرا وجود اس پراجیکٹ کے لیے خطرہ ہے۔ سو نتیجتا اگلے ہی روز مجھے جاب سے نکال دیا گیا۔

دوسری دفعہ اپنی سائیکالوجسٹ کو بتایا، انہوں نے تسلی سے مجھے سنا اور میری ہمت کو سراہا۔

12۔ جب آپ نے تشدد کی جگہ امن کے فلسفے کو اپنایا تو آپ کے دوستوں اور رشتہ داروں کا کیا ردِ عمل تھا؟

طرح طرح کے فقرے کسے گئے۔ سب نے طعنے دیے کہ لو مولوی ماڈرن ہوگیا۔ ڈسکو مولوی کہا گیا۔ ہاں کچھ دوستوں کے نزدیک یہ ایک خوشگوار تبدیلی تھی اور انہوں نے بہت ساتھ بھی دیا۔ رشتہ داروں نے تو بالکل ہی قبول نا کیا اور ہر جگہ استھزاٰ کیا۔

13۔ اب آپ کی پاکستانی نوجوانوں کی شدت اور تشدد پسندی کے بارے میں کیا رائے ہے؟

شدت پسندانہ رویے ایک عفریت کی طرح ہماری نوجوان نسل میں سرایت کر چکے ہیں۔ پاکستانی نوجوانوں کا اس میں کچھ قصور نہیں۔ ریاست نے ایک پالیسی کے تحت نوجوانوں میں شدت پسندی کو فروغ دیا اور اب یہ بم پھٹ چکا ہے اور اس کے اثرات سے آنے والی نسل بھی برباد ہو رہی ہے۔

14۔ آپ کے خیال میں پاکستانی حکومت کو تعلیمی نصاب اور نظام میں کیا تبدیلی لانی چاہیے؟

تمام مدرسوں کو سرکاری تحویل میں لینا ہوگا اور فرقہ وارانہ مواد تلف کرنا ہوگا۔ تمام سکولوں کے نصاب میں موجود نفرت آمیز مواد نکالنا ہوگا۔ امن و آشتی والی کہانیاں ڈالنی ہوں گی۔ فنونِ لطیفہ کو تمام تعلیمی نظام میں فروغ دینا ہوگا۔

15۔ آپ کے خیال میں پاکستانی مسجدوں اور مدرسوں کو کیسے بدلنا چاہیے؟

حکومت کو اپنی تحویل میں لینا ہوگا تمام مساجد اور مدارس کو۔ عصری تعلیم کو بھی مدارس کے کورس کا لازمی جز قرار دینا ہوگا۔ جو طلبا و طالبات شدت پسندی کا شکار ہو چکے ہیں ان کو Rehab کے مراکز میں بھیجنا ہوگا۔

16۔ جو نوجوان شدت اور تشدد پسند بن چکے ہیں ان کے ساتھ ہمیں کیسا سلوک کرنا چاہیے؟

ان کے ساتھ ہمدردی کا رویہ برتنا چاہییے۔ حکومت کو Rehab کے مراکز کھولنے چاہییے۔ مجھ جیسے لوگوں کو سامنے آنا ہوگا اور اپنی کہانی کے ذریعے نوجوانوں کو یہ سمجھانا ہوگا وہ ان راہوں کے مسافر ہیں جن کی منزل ذلت کے سوا کچھ نہیں۔

17۔ آپ کے مستقبل کے خواب کیا ہیں؟

میری زندگی کا سب سے اولین مقصد یہی ہے کہ میں کچھ ایسا کر سکوں کہ کسی بچے کو اس ٹراما سے نا گزرنا پڑے جس سے میں اپنے لڑکپن اور اوائلِ جوانی میں گزرا ہوں۔ ایک ایسی زندگی جس میں میرا passion ہی میرا profession ہو۔ ایک ایسی زندگی کہ جس میں اپنے خاندان کو بہتر معیارِ زندگی دے سکوں۔

18۔ آپ امن کا پرچار کس طرح کرنا چاہتے ہیں؟

میں اپنی تحریروں، تحقیق اور گفتگو کے ذریعے امن و آشتی کا پرچار کرنا چاہتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ اپنی باقی حیات میں کچھ ایسا مواد دنیا کو دے سکوں کہ جس سے آنے والی نسلوں کو یہ سمجھ آسکے کہ کیسے نوجوان شدت پسندانہ جال میں پھنستے ہیں اور گھریلو ماحول کیسے اس میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

19۔ آپ کا مجھ سے رابطہ کیسے قائم ہوا؟

’‘ ہم سب ’‘ پر ایک عرصے سے آپ کی تحاریر پڑھ رہا تھا لیکن کبھی رابطہ کرنے کی ہمت نا ہوئی۔ بالآخر فیس بک پر آپ کو ڈھونڈ نکالا اور رابطہ کر لیا۔

20۔ میں امن کے خواب کو شرمندہِ تعبیر کرنے میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟

مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں اور آپ مل کر ان پاکستانی نوجوانوں کے لیے جن کو انتہا پسندی کے عفریت کا سامنا ہے، بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ میں کلئیر نہیں ہوں زیادہ لیکن کم از کم ہم ان نفسیاتی پہلووں پر ضرور لکھ سکتے ہیں جن کا تعلق شدت پسند نوجوانوں سے ہے۔ یہاں سے شروع کر کے ہم مزید راہیں کھوج سکتے ہیں۔ اور نہیں تو خطوط کے اسی سلسلہ کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 342 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *