حکومت نئے صوبوں کی بے وقت راگنی سے اجتناب کرے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت میں سے پونے دو سال گزار چکی ہے مگر عوامی فلاح کا کوئی ایک کام اب تک مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ یہ درست ہے کہ ہمارے ہاں وسائل محدود ہیں جبکہ مسائل بے پناہ۔ لیکن پھر بھی حکومت اگر خلوص نیت اور درست سمت میں سفر کرتی تو عوام کی محرومیاں ختم نہ بھی ہوتیں کم از کم امکان ضرور پیدا ہو سکتا تھا۔ سنجیدگی سے مگر کام کرنے کے بجائے آئے روز کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے جس سے ٹاک شوز اور کالمز میں نئی بحث چھڑ جاتی ہے اور حقیقی مسائل فراموش ہو جاتے ہیں۔

ایسے وقت میں جب ملکی معیشیت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے اور کورونا وائرس کی تباہ کاریوں سے عالمی کاروبار پر چھائی کساد بازاری سے معیشیت میں بہتری کے امکانات مزید محدود ہو رہے ہیں چند روز پہلے حکومتی ترجمانوں نے اس بیان سے کہ حکومت مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی ضمانت منسوخ کرنے اور اس حوالے سے برطانوی حکومت کو خط لکھنے جا رہی ہے، لا حاصل بحث چھیڑ دی تھی۔ اس حوالے سے دیے گئے تمام بیان اور حکومتی سرگرمیاں اس لیے بالکل فضول ہیں کیونکہ میاں نواز شریف کی پوری میڈیکل ہسٹری پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور پنجاب حکومت ہی کے قائم کردہ میڈیکل بورڈز کی زبانی صبح شام بلا ناغہ عوام کے گوش گزار کی جاتی تھی۔

لہذا اب اگر حکمراں اتحاد سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص ان کی بیماری یا میڈیکل رپورٹس پر شک و شبہے کا اظہار کرتا ہے تو یہ ان کی خود اپنے خلاف چارج شیٹ ہے۔ اس تمام بیان بازی کا مقصد اگر ن لیگ کو گندا کرنا اور یہ تاثر دینا ہے کہ شریف برادران کی روانگی کسی ڈھیل کا نتیجہ تھی، تو اس کا مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ اس گیم میں حکومت بھی پوری طرح شامل تھی۔ اب تک بری پرفارمنس سے متعلق ہر سوال سے احتساب کا ڈھنڈورا پیٹ کر جان چھڑا لی جاتی تھی لیکن نواز شریف کی بیماری سے متعلق حکومتی خدشات کو valid سمجھا جائے تو ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کی احتساب کے میدان میں کارکردگی بھی صفر رہی ہے۔

یہ غلغلہ ابھی تھما نہیں تھا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے ہمراہ کھڑے ہو کر جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کا اعلان کر کے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جنوبی پنجاب میں پسماندگی اور غربت محظ فسانہ نہیں حقیقت ہے اور یہ بھی درست ہے کہ وسطی پنجاب کی جانب وسائل کا رخ رہنے کے سبب ماضی میں یہ علاقہ نظر انداز رہا لہذا وہاں کے لوگوں کا علیحدہ صوبے کا مطالبہ درست ہے۔ سوال لیکن یہ ہے کہ آخر اس وقت جب پی ٹی آئی حکومت کو دو سال مکمل کرنے والی ہے، اچانک اسے جنوبی پنجاب کا مروڑ کیوں دوبارہ اٹھا ہے۔

آج سے دو سال قبل نو اپریل، 2018 کو رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے خسرو بختیار نے سابق نگران وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کی موجودگی میں جنوبی پنجاب متحدہ محاذ بنانے کا اعلان کیا تھا، مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ن لیگ کو توڑنے اور پی ٹی آئی کو اقتدار دلانے کی کوششوں کو تقویت مل جائے اسی لیے بعدازاں خسرو بختیار نے جنوبی پنجاب محاذ کو پی ٹی آئی میں ضم کردیا تھا۔ جب انتخابات ہو گئے، سیاسی منظرنامے کی حسب منشاء صورت گری ہو گئی یعنی پی ٹی آئی کو اقتدار مل گیا تو اس کے بعد جنوبی پنجاب کا دوبارہ کسی نے بھول کر نام تک نہیں لیا۔

تحریک انصاف کی نیت پر شک اس لیے بھی ہے کیونکہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے اختلافات خود اس کی اپنی صفوں میں موجود ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ جہانگیر ترین لودھراں کو نئے صوبے کا دارالحکومت بنانے کی کوشش میں ہیں اور شاہ محمود قریشی کی خواہش ملتان کی ہے۔ مزیدبرآں یہ اختلافات بھی موجود ہیں کہ جنوبی پنجاب کے نام سے ایک ہی صوبہ بنایا جائے یا بہاولپور کو اس سے الگ رکھا جائے کیونکہ بہاولپور سے تعلق رکھنے والے سیاستدان یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ اگر ”ہمارے نصیب میں جوتے کھانا ہی لکھا ہے تو ہمارے لیے تخت لاہور کی غلامی ہی بہتر ہے“۔

اس مقصد کے لیے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن دونوں اپنے اپنے بل قومی اسمبلی میں پیش کر چکی ہیں۔ ن لیگ کے بل میں ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن پر مشتمل جنوبی پنجاب صوبہ جبکہ بہاولپور ڈویژن کو الگ بہاولپور صوبہ بنانے کے علاوہ ہزارہ صوبے کے قیام کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے بل میں ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے 11 اضلاع پر مشتمل جنوبی پنجاب کے نام سے ایک ہی صوبہ بنانے کا کہا گیا ہے۔

اسی طرح پیپلز پارٹی چند ماہ قبل اپنے ہی پرانے بل کو ترامیم کے بعد دوبارہ سینیٹ میں جمع کروا چکی ہے جس میں ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے علاوہ سرگودھا ڈویژن کے سرائیکی اکثریت والے اضلاع بھکر اور میانوالی کی بھی شمولیت کا مطالبہ ہے۔ نئے صوبے کے قیام کا مطالبہ غلط نہیں لیکن تقسیم سیاسی مطالبات پر نہیں بلکہ انتظامی لحاظ سے مبنی بر انصاف اور رائے عامہ کو مدنظر رکھ کر ہونی چاہیے ورنہ مزید محرومیاں جنم لے سکتی ہیں۔ جیسا کہ ہزارہ اور شہری سندھ کے عوام کا بھی یہی مطالبہ ہے، جنوبی پنجاب کا مطالبہ پورا ہونے کے بعد لازما وہاں سے بھی آوازیں اٹھیں گی اور بات نہ بنی تو لا محالہ وہاں بھی شکایات پیدا ہوں گی لہذا اچھی طرح سوچ سمجھ لینا چاہیے کہ بات کہاں تک جا سکتی ہے۔

میرا ذاتی خیال ہے کہ ریفرنڈم کے ذریعے عوامی رائے جاننا ضروری ہے ورنہ اس طرح کے بڑے فیصلوں پر بات کا اختیار لسانی عصبیت کے حامل سیاستدانوں کو سونپ دینے کا نتجہ کیا نکلے گا، کراچی میں ہوئی قتل و غارت کی صورت ہم دیکھ ہی چکے ہیں۔ آئین و قانون کے لحاظ سے بھی نئے صوبے کا قیام اتنی آسان بات نہیں بلکہ یہ پیچیدہ عمل ہوگا۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 239 کی شق نمبر چار کے مطابق پاکستان کے کسی صوبے کی حدود میں ردو بدل، متعلقہ صوبے کی اسمبلی سے کم از کم دو تہائی اکثریت سے منظوری ملنے کے بعد ہی ممکن ہو سکتا ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ اس کے لیے آئین کے آرٹیکل ایک کی شق نمبر دو میں بھی ترمیم کی ضرورت ہے، جس کی خاطر ایوان زہریں اور ایوان بالا میں الگ الگ دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ اس کے بعد بھی سینیٹ میں نمائندگی، این ایف سی ایوارڈ اور نئے صوبے میں سیکریٹیریٹ اور دفاتر کے قیام کی خاطر درکار فنڈز پر تنازعہ الگ پیدا ہو گا۔ جب حکمراں جماعت خود کسی ایک شہر میں سیکرٹیریٹ کے قیام پر متفق نہیں ہو پائی تو سوال یہ ہے کہ اپوزیشن سے محاذ آرائی جاری رکھتے ہوئے وہ پنجاب اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تعاون کس طرح حاصل کر سکے گی؟

حکومت کے پاس موجود وقت مٹھی میں موجود ریت کی مانند سرکتا جا رہا ہے۔ بقیہ مدت میں جب تک یہ بات یقینی نہیں ہو جاتی کہ وہ مذکورہ تمام رکاوٹیں دور کر سکتی اسے بے وقت کی راگنیوں سے اجتناب کرتے ہوئے بلدیاتی نظام فعال کرنے پر توجہ مرکوز دینی چاہیے۔ بلدیاتی نظام مکمل فعال ہو جائے تو عوام کے بیشتر مسائل اسی سے حل ہو سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *