محسن داوڑ اور علی وزیر کا دورہ افغانستان: سازش یا دوستی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دس مارچ کو ریڈیو پاکستان کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے ایک ٹویٹ کی گئی۔جس میں دعوی کیا گیا کہ پشتون تحفظ موومینٹ کے آراکین پارلمینٹ محسن داوڑ اور علی وزیر افغانستان میں پاکستان مـخالف قوتوں کے ساتھ مل کر ملک کو غیر مستحکم کرنے میں ملوث ہیں۔ ٹویٹ کے ساتھ ایک تصویر بھی دی گئی تھی جس میں محسن داوڑ اور علی وزیر ایک افغان فوجی ہیلی کاپٹر کے سامنے مقامی حکام کے ساتھ کھڑے تصویر بناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہ ٹویٹ ایسے وقت کی گئی جب اس سے ایک دن پہلے دونوں منتخب اراکین پارلمینٹ نو منتخب افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کی خصوصی دعوت پر کابل پہنچ کر ان کی تقریب حلف وفاداری میں شریک ہوئے تھے۔

میں یہ ٹویٹ دیکھ کر کئی منٹ تک اس پر سوچتا رہا اور کچھ رنجیدہ سا بھی ہوگیا۔ اس دوران کئی آن لائن اخبارات نے اس ٹویٹ کے تناظر میں خبریں بھی شائع کی اور ان پر طرح طرح کے تبصرے بھی کئے گئے۔ اس کے علاوہ کچھ پاکستانی ٹی وی چینلز نے روایت کے مطابق کچھ الٹی سیدھی خبریں بھی چلائیں ۔ جب سے دونوں ایم این ایز کابل گئے ہیں۔ روزانہ ہی کوئی نہ کوئی نئی خبر آرہی ہے جس میں ہمیں طرح طرح اطلاعات مل رہی ہے۔

پاکستان میں ریڈیو کی تاریخ بہت پرانی ہے لیکن بدقسمتی سے جتنی اس ادارے کی تاریخ پرانی ہے اتنی ہی یہ ادارہ پسماندہ بھی لگتا ہے۔ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی یہ ادارہ اپنے اندر کوئی تبدیلی نہیں لاسکا۔ مجھے نہیں معلوم کے یہ خبر کس کے کہنے پر اور کس مقصد کے تحت دی گئی لیکن ایک عام صحافی کی حیثیت سے میں اتنا کہا سکتا ہوں کہ اس سے کوئی بڑا مقصدحاصل نہیں ہورہا بلکہ میرے خیال میں الٹا نقصان کا خدشہ ہے۔ کم از کم آزاد سوچ رکھنے والے افراد ایسی خبروں کو دیکھ کر اس کا مذاق ہی بنائیں گے۔

اول تو اس خبر کے ساتھ ثبوت کے طورپر کوئی ایسی چیز نہیں دی گئی جس سے پڑھنے والے کی اس حد تک تسلی ہوسکے کہ اس کو لگے اس میں کچھ نہ کچھ سچائی بھی ہے۔ بعض لوگ ایسی خبروں کو اسی ’ ناکام پالیسی’ سے جوڑ رہے ہیں جو ماضی میں سابق فوجی آمروں کے دور میں وقتاً فوقتاً دہرائی جاتی رہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی کے حلف برداری میں علی وزیر اور محسن داوڑ اکیلے نہیں گئے تھے بلکہ افغان حکومت کی طرف سے پاکستان کی تقربناً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو اس تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔ ان میں پیپلز پارٹی، پختون خوا ملی عوامی پارٹی، اے این پی ، قومی وطن پارٹی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا گیا اور ان میں بعض جماعتوں کے قائدین نے خصوصی طورپر کابل جاکر شرکت  بھی کی۔

 مجھے محسن داوڑ کے غیر ذمہ دارانہ رویئے سے بھی مایوسی ہوئی۔ پی ٹی ایم کے  دونوں معزز ممبران کابل میں منعقد ہونے والی  کچھ تقریبات میں شریک ہوئے جو ان کے اعزاز میں خصوصی طورپر منعقد کی گئی تھیں ۔ ان میں ایک تقریب میں محسن داوڑ کی طرف سے  ضرور کچھ ایسے الفاظ کا استعمال کیا گیا جسے مناسب نہیں کہا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کچھ لوگوں کو اس بات سے تکلیف ہوئی کہ وہ ہیلی کاپٹر میں جلال آباد سے کابل کیوں پہنچے۔  انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگ اس بات سے بھی شدید آگ بگولہ ہوئے جب ان کی امر اللہ صالح کے ساتھ بنائی گئی ایک تصویر شائع ہوئی۔

امر اللہ صالح افغانستان کے موجودہ نائب صدر ہیں۔ وہ وزیر داخلہ اور افغان انٹلیجنس ایجنسی این ڈی ایس کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں اور پاکستان کے شدید مـخالفین میں شمار ہوتے ہیں۔ محسن داوڑ جس انداز سے  تقریب میں خطاب کررہے تھے اس سے صاف لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کسی کومذاق کا نشانہ بنا رہے ہوں۔ ان کی باتوں پر تقریب میں موجود افراد زور زور سے تالیاں بجا کر قہقہے بھی لگا رہے تھے۔ ہمیں اپنے ملک کی کئی پالیسیوں سے اختلاف ہوسکتا ہے، جن پر ہم تنقید بھی کرتے ہیں۔ لیکن جب باہر جائیں تو ذمہ داری کا احساس ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔

بدقسمتی سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں اور ایسے میں بحثیت ایک معزز پارلمینٹرین کے محسن داوڑ جیسے افراد جنہیں افغانستان میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ انہیں تعلقات کی بہتری میں اک مثبت کردار ادا کرنا چاہئے جو وہ کر بھی سکتے ہیں۔ جبکہ  انہوں نے امن کے ضمن میں بات ضرور کی لیکن پاک افغان تعلقات پر کوئی بات نہیں کی۔ ان کی تقریر سے لگ رہا تھا کہ جیسے وہ وہاں موجود حاضرین کو بس خوش ہی کرنا چاہتے تھے ۔ سیاست بھی ہونی چاہیے لیکن کوئی بھی کام قاعدے قانون کے دائرے سے باہر نہیں ہونا  چاہیے ۔ ورنہ ان  باتوں کے اثرات منفی ہی آئیں گے۔ اگر سمجھیں اور سنبھل جائیں تو اس میں ہر فریق کے لیے خیر ہے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *