بے یقینی کی نہ محسوس ہونے والی دلدل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایسی دلدل ہوا کرتی ہے جو دیکھنے میں دلدل نہیں بلکہ گیلی اور بعض اوقات سوکھی مٹی کا مسطح رقبہ دکھائی پڑتی ہے۔ دھنستا وہی ہے جو غور کیے بن اور سوچے بغیر اس میں ‌ پاؤں دھر دیتا ہے۔ میں نے اپنی بات کہنے کو یہ عنوان اپنے متبدل مزاج دوست شمعون سلیم کی سوشل میڈیم پر جاری کی گئی ایک انگریزی زبان میں لکھی پوسٹ سے لیا ہے جو انہوں نے اس ضمن میں تحریر کی ہے کہ انہیں اپنے اختیار کردہ وطن نیدرلینڈ لوٹنا تھا مگر پروازیں بند ہونے سے وہ بے یقینی کی نہ محسوس ہونے والی جس دلدل میں ہیں اس سے نکلنے کی اگر کسی کے پاس راہ ہے تو انہیں سجھائے۔

مگر میں اس عنوان کے تحت جو بات کرنا چاہتا ہوں وہ اس وقت دنیا کے 149 ملکوں تک پہنچی اس مرض سے متعلق ہے جسے بہت دنوں کی سوچ بچار کے بعد عالمی تنظیم برائے صحت Pandemic یعنی عالمی وبا قرار دے چکی ہے۔ یاد رہے بہت زیادہ لوگوں کو متاثر کرنے والی امراض کو تین ناموں سے یاد کیا جاتا ہے یعنی Endemic ایسا مرض جو ایک بڑے خطے میں ہمیشہ موجود رہتا ہو جیسے کئی نم و گرم ملکوں ‌ میں ملیریا، Epidemic یعنی ایسا مرض جو کسی ایک موقع پر ایک وسیع اور باہم جغرافیائی علاقے میں پھیل جائے جیسے کسی بھی ملک میں خسرہ اور Pandemic یعنی ایسا مرض جو بتدریج دوردراز کے مختلف جغرافیے کے حامل ملکوں میں پھیل جائے۔

کسی بھی مرض کو Pandemic قرار دیے جانے کی خاطر کئی ملکوں کے محکمہ ہائے صحت، متعلقہ حکومتوں اور عالمی تنظیم برائے صحت کو بہت زیادہ سوچ بچار کرنا پڑتی ہے اور بہت زیادہ عوامل کا جائزہ لینا ہوتا ہے کیونکہ ایسا اعلان کیے جانے سے کئی ملکوں کی معاشرت، معیشت تاحتٰی سیاست پر بھی منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔ گذشتہ عشرے میں ایسا تین بار کیا گیا ایک تب جب H 5 N 1 نام کی وائرس سے برڈ فلو پھیلا تھا جو سب سے پہلے 1997 میں اور پھر H 5 N 2 کے نام سے 2002 اور H 5 N 8 کے نام سے 2008 میں پھیلا۔

2009 کے ماہ اپریل میں H 1 N 1 کے نام سے خنزیری زکام یعنی Swine Flu پھیلا تھا لیکن ان دونوں سے زیادہ 2003 میں ایک اور اسی طرح کی وائرس سے جو کورونا وائرس ہی تھا SARS یعنی Severe Acute Respiratory Syndrome کے نام سے ایک وبا پھیلی تھی جس کی وجہ سے خاص طور پر چین میں ہی لاکھوں لوگ مرے تھے۔ 2012 میں MERS یعنی

Middle East Respiratory Syndrome کے نام سے کورونا وائرس کی ایک نوع سے سعودی عرب میں وبا پھوٹی تھی جو 2018 میں پورے مشرق وسطٰی میں پھیلی۔

مگر اب جس مرض کو COVID۔ 19 یعنی Corona Virus Disease 2019 کے نام سے عالمی وبا قرار دیا ہے وہ H 5 N 1 یا H 1 N 1 کی طرح علالت یعنی Syndrome نہیں بلکہ مرض یعنی Disease ہے۔ نومبر 2019 سے چین کے صوبہ ہوبے کے شہر ہونان سے شروع ہوئی اس مرض سے اب تک 149 ممالک متاثر ہو چکے ہیں۔ آج یعنی 15 مارچ 2020 تک ایک لاکھ باون ہزار نو سو ایک افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ 5801 افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں 75500 صحت یاب ہو چکے ہیں یعنی 71600 اب بھی ہسپتالوں میں ہیں اور ان میں سے تقریباً مزید پانچ ہزار مر بھی سکتے ہیں یوں یہ اموات کی تعداد 10000 ہو سکتی ہے یعنی متاثرہ 150000 افراد کا 6 اعشاریہ 6 فیصد یعنی 1000 افراد میں سے 66۔ عام زکام سے مرنے والوں کی شرح اعشاریہ 01 فیصد ہوتی ہے یعنی 1000 میں 1 فرد موت کا شکار ہوتا ہے۔

اس وبا سے دنیا بھر کی حکومتیں یونہی پریشان نہیں ہیں۔ کاروبار منسوخ کیے گئے ہیں، پروازیں روک دی گئی ہیں، نقل و حمل اور رسل و رسائل پر پابندی لگائی گئی ہے۔ مذہبی مقدس مقامات بند کیے گئے ہیں۔ اجتماعات اور تہوار روک دیے گئے ہیں۔ اس کی وجہ اس وائرس کی شدت اور انتہائی سریع پھیلاؤ ہے۔

ٹھیک ہے مختلف ملکوں بشمول پاکستان نے سرحدیں بند کر دی ہیں مگر وائرس تو ہر اس جگہ پہنچ چکا جہاں اسے محدود کیے جانے کے بندوبست کیے جا رہے ہیں۔ وائرس کے ایک برطانوی ماہر کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں اس مرض سے مرنے والے پہلے شخص کی موت ظاہر کرتی ہے کہ وائرس کہیں پہلے سے موجود تھا کیونکہ ایک شخص کے مریض ہونے اور مریض رہنے میں خاصا وقت لگ جاتا ہے، جس اثنا میں وہ نمعلوم کتنے لوگوں سے مل چکا ہو۔

پھر سارے ملکوں میں چین جیسی کمیونسٹ حکومت بھی نہیں ہے جہاں شہر بند کرنے کا مطلب ہے کہ شہر فی الواقعی بند۔ اس کے علاوہ ہر ملک کے لوگوں کی اپنی خاص نفسیات ہوتی ہے۔ بیشتر ملکوں میں تو صحت سے متعلق آگاہی انتہائی کم ہے جیسے پاکستان، ہندوستان، افغانستان وغیرہ۔

ہانگ کانگ کے ڈاکٹر لی آن گیبریل کے مطابق جنہوں نے SARS سے نمٹا تھا کے مطابق COVID۔ 19 کی شدت اور سرعت سے اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ یہ مرض عالمی آبادی کے 40 سے 60 فیصد کو متاثر کرے گا اور دنیا بھر میں اموات کی تعداد 45 ملیں یعنی ساڑھے چار کروڑ سے 60 ملین یعنی چھ کروڑ افراد تک ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ایک لہر تمام ہو جانے کے بعد دوسری لہر بھی آئے گی جو زیادہ شدید ہوگی۔ امریکہ کے چیف میڈیکل افسر نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ ہم اسے نہیں روک سکتے۔ برطانیہ کے ایک وائرولوجسٹ کے مطابق اس سے بہت زیادہ لوگ مریں گے پھر شاید ایک دو سال بعد لوگوں میں اس مرض کے خلاف مدافعت پیدا ہو جائے۔ یہ مرض 1918 میں پھیلے ”سپینش فلو“ جس سے تب ساڑھے پانچ کروڑ افراد مرے تھے، کے بعد دوسری عالمگیر اور شدید تر وبا ہے۔

لیکن ہمارے ہاں سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا تک پہ اس مرض کو کمتر کرکے ظاہر کرنے کا نتیجہ یہی نکلے گا کہ لوگ جو صحت سے متعلق پہلے ہی غیر آگاہ ہیں اور غیر آگاہ ہو جائیں گے۔ ہمارے ہاں جہاں ہسپتالوں کے ایک ایک بیڈ پر دو اور کبھی کبھار تین مریض بھی ہوتے ہوں وہاں آئسولیشن وارڈ کہاں سے بنائے جا سکتے ہیں۔ ویسے بھی سب سے کم بجٹ صحت اور تعلیم کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ درست کہ لوگوں میں ہراس نہیں پھیلانا چاہیے لیکن لوگوں کو آوارہ گائیوں یا بھیڑ بکریوں کی طرح بھی تو نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔

لوگوں کو حفاظتی تدابیر سے متعلق سب سے زیادہ گمراہ مذہبی کارکن یا مذہب کو دنیاوی معاملات کا مداوا خیال کرنے والے پھیلا رہے ہیں۔ کچھ نہیں ہوتا کی سوچ ختم کیے جانے کی ضرورت ہے۔ مثلاً ایک معروف عالم نے وڈیو جاری کی ہے جس میں وہ مثال دے رہے تھے کہ طاعون پھیلا تو ایک گھر کے سارے لوگ طاعون میں مبتلا ہو گئے مگر ساتھ والے گھر میں کوئی متاثر نہیں ہوا اور اسی طرح کوئی ہوا کوئی نہیں ہوا۔ ان صاحب کو یہ معلوم نہیں کہ طاعون بیکٹیریا یعنی جراثیم سے پھیلتا ہے جبکہ موجودہ وبا انتہائی مہلک وائرس سے پیدا ہو رہی ہے۔

بیکٹیریا ایک جاندار ہوتا ہے جبکہ وائرس ایک کیمیائی جینیاتی مادہ یعنی RNA رائیبو نیوکلییک ایسڈ۔ ایک طرف وہ فرما رہے ہیں کہ موت نے جب آنا ہے تو آنا ہے، درست۔ دوسری جانب یہ بھی بتا رہے ہیں کہ کہا گیا ہے جہاں وبا ہو وہاں مت جاؤ اور جہاں وبا پھیل چکی ہے وہاں سے کہیں اور مت جاؤ۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

خدارا اس معاملے کو دنیاوی ہی سمجھیں اور اس سے متعلق جو عالمی ماہرین کہتے ہیں اسی کو مناسب جانیں۔ بھانت بھانت کی بولیاں بول کے کہ چین نے پھیلا دی یا امریکہ کی سازش ہے یا عذاب ہے لوگوں کو گمراہ مت کریں۔ ہاتھ بار بار دھوئیں، لوگوں سے میل ملاقات ترک کر دیں۔ مصافحہ مت کریں۔ انجان لوگوں سے ایک میٹر دور رہیں۔ اگر کسی شہر میں ایک بھی مریض ثابت ہو جائے تو ماسک اور بہتر ہے دستانے بھی استعمال کریں۔ جتنی زیادہ احتیاط کی جائے گی اتنے ہی زیادہ محفوظ ہو سکیں گے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *