پاکستان رینجرز (سندھ) کی سماجی خدمات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی میں قیام امن کے دیرینے خواب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پاکستان رینجرز (سندھ) کی گراں قدر خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا جس کی بدولت آج شہر میں خوف کے سیاہ بادل چھٹ چکے ہیں اور کراچی کے شہر ی اور تاجر بلا خوف معمول کی زندگی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان رینجرز (سندھ) کی خدمات کا دائرہ کار صرف انٹرنل سیکیورٹی تک محدود نہیں بلکہ رینجرز کے جوان سماجی کاموں اورموسم کی شدت سے نمٹنے کے لیے شدید گرمی کی صورت میں عوام الناس کے لیے ہیٹ اسٹروک کیمپس کے قیام کے ساتھ ساتھ کراچی اوراندرون ِسندھ کے پسماندہ علاقوں میں ماہر ڈاکٹروں کی موجودگی میں علاج کی مفت سہولیات بھی فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی بھی ناگہانی صورتحال، قحط سالی، سیلاب اور شدید بارشوں کی صورت میں بھی شہر میں سول انتظامیہ کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مشغول نظر آتے ہیں۔

گذشتہ دنوں کراچی کے علاقے لیاقت آباد الیاس گوٹھ کی کچی آبادی میں حادثاتی طور لگنے والی آگ کی وجہ سے 160 کے لگ بھگ جھگیاں خاکستر ہوئیں جس سے 250 سے زائد خاندان متاثر ہوئے۔ متاثرین کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈی جی رینجرز سندھ کی خصوصی ہدایات پر رینجرز کے جوانوں نے مخیر حضرات کے تعاون سے متاثرین میں ٹینٹ، فوڈ پیکٹ، بستر، کمبل، گرم کپڑے اور دیگر ضروری اشیا تقسیم کیں جبکہ شہر میں کرونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر مارکیٹ سے تیزی سے غائب ہوتے سرجیکل ماسک کے مہنگے داموں فروخت کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں سرجیکل ماسک اورمتعدد انفیو ژن واٹر ڈرپ (بوتلیں ) بر آمد کی گئیں اورملوث افراد کو گرفتار کیا۔

علاوہ ازیں پاکستان رینجرز (سندھ) کے زیر انتظام قائد اعظم رینجرز اسکول برائے خصوصی اطفال، انسانیت کا مظہر ہے، جہاں خصوصی بچوں کے ساتھ خصوصی شفقت بھرے روئیے کا برتاؤ کیا جاتا ہے تاکہ محبت کے مستحق یہ بچے معاشرے کا حصہ بنتے ہوئے سوسائٹی کا فعال رکن بن سکیں۔ اس کے علاوہ اندرونِ سندھ میں 31 ویلفیئر اسکول بھی پاکستان رینجرز (سندھ) کے زیرِ سایہ کا م کر رہے ہیں۔ ان اسکولز میں بچوں کو پک اینڈ ڈراپ اور کھانے کی سہولت بھی مفت مہیا کی جا رہی ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر تعلیم کے میدان میں سندھ رینجرز کی کاوشیں بھی قابلِ تحسین ہیں۔

رینجرز کے جوان کراچی کے علاوہ سندھ بھر میں اپنی پیشہ وارانہ خدمات کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اس ضمن میں اندرونِ (سندھ ) بدین کے علاقے احمد راجو میں فری میڈیکل کیمپ کا اہتمام کیا گیا جس میں علاقے کے افراد کو مفت طبی سہولیات مہیا کی گئیں۔ فری طبی کیمپ میں جنرل فزیشن، آئی اسپیشلسٹ، میڈیکل اسپیشلسٹ، ڈینٹل سرجن، بچوں کے اسپیشلسٹ، آرتھوپیڈک، لیڈی ڈاکٹرز اور رینجرز کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے تقریباً 700 مریضوں کا معائنہ کیا جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل تھے، بعدازاں مریضوں کو ادویات بھی فراہم کی گئیں۔

رواں برس کے آغاز میں پاکستان رینجرز (سندھ) کی جا نب سے اندرونِ سندھ کے علاقے مٹھی اور اسلام کوٹ میں تھر فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا جس میں تھر کی ثقافت پر مبنی اسٹال لگائے گئے جس کا مقصد روایتی کلچر کو فروغ دینا اور مقامی لوگوں کے فن پاروں سے لوگوں کو روشناس کرواناتھا۔ فیسٹیول کے دوسرے مرحلے میں نگر پارکر کے مختلف علاقوں میں 7 روزہ فیسٹیول کا انعقاد کیا جو رواں سال 31 جنوری سے 6 فروری تک جاری رہا جس میں پسماندہ علاقوں میں عورتوں اور بچوں کی صحت اور خوراک کے بارے میں آگاہی لیکچرز اور علاج کے حوالے سے فری میڈیکل کیمپس کا اہتمام کیا گیا۔ فیسٹیول میں ماہر ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور رینجرز کے ڈاکٹرز نے علاقے کے تقریباً 9 ہزار لوگوں کو مفت طبی سہولیات اور ادویات فراہم کیں اور پاکستان رینجرز (سندھ) کی جانب سے مستحقین میں آٹے کے بیگ بھی تقسیم کیے گئے۔

اس کے علاوہ پاکستان رینجرز (سندھ) معاشرے کواسمگلنگ اور منشیات کی روک تھام کے لئے کسٹم حکام کے ساتھ مل کر کوشاں ہے۔ پاکستان رینجرز ( سندھ) نے رواں ماہ فروری میں انٹی ف جنس معلومات کی بنا د پر کراچی اور اندرونِ سندھ مں ر مختلف چکگ پوسٹوں پر کارروائاسں کرتے ہوئے اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنایا۔ ان کاررواؤ ں کے دوران مختلف اقسام کی نان کسٹم پڈک اشاگء اور منشا ت برآمد کرلی گئں ک جن کی مالت تقریباَ 73.80 ملنو ہے۔ اسی باہمی تعاون سے دونوں اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے نایاب نسل کے پرندوں کی اسمگلنگ کو بھی ناکام بنایا۔ اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے پاکستان رینجرز (سندھ) کی کاوشیں یقیناً ملکی خزانے کو پہنچنے والے نقصانات کے تدارک میں معاون ثابت ہوں گی۔

شہرمیں جب امن کا قیام ممکن ہوا تو بین الاقوامی کھلاڑیوں نے بھی پاکستان کے معاشی حب کا رخ کیا۔ کھیل کے میدانوں کی رونقیں بحال ہونے سے کراچی کی روشنیوں میں مزید اضافہ ہوا جس کا سہرا پاکستان رینجرز سندھ کے سر جاتا ہے، رینجرز کے جوانوں نے نہ صرف شہر کے امن، شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی کھلاڑیوں کی حفاظت کی مکمل ذمے داری لی بلکہ اسے احسن طریقے سے نبھایا کر بھی دیکھایا، جس کی واضح مثال دیگر انٹرنیشنل ٹورنامنٹس کے علاوہ پاکستان سپر لیگ ( کرکٹ) کے میچز ہیں۔ گذشتہ سال پی سی ایل فور کا فائنل کراچی میں ہی ہوا تھا جو سیکیورٹی اداروں کی انتھک محنت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

رواں سال پاکستان سپر لیگ 5 کے ابتدائی میچز بھی شہر جناح میں منعقد ہوئے جبکہ رواں مہینہ میں اس ایونٹ کے لئے بھی حسب سابق رینجرز کے جوان کمربستہ ہیں۔ ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل عمر احمد بخاری نے اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پلاننگ کافی مربوط ہے، سیکورٹی پلان اچھا بنایا گیا ہے، رینجرز، پولیس اور تمام ادارے مل کر کام کررہے ہیں۔ میجر جنرل عمر احمد نے کہا کہ دعائیں رنگ لائی ہیں، عوام پی ایس ایل میچز کو انجوائے کررہے ہیں، خوشی کی بات ہے کہ کرکٹ سے کراچی کی روشنیاں مزید بحال ہوئی ہیں۔ پاکستان رینجرز (سندھ) کا ادارہ عزم و استقلال کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ بلا شبہ کراچی کے امن اور اندرونِ سندھ میں پاکستان رینجرز (سندھ) کی پیشہ ورانہ اور سماجی خدمات قابل تحسین ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *