“کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے”

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پوری دُنیا اس وقت ایک عجیب خوف کا شکار ہے۔انسان بے بسی سے مر رہے ہیں ۔بے شمار کرونا وائرس  کا شکار ہو کر الگ تھلگ جگہوں پر انتہائی نگہداشت وارڈوں میں زیر علاج ہیں۔بازار اور شاپنگ مال سنسان ہیں۔ عبادت گاہیں خالی کرائی جا رہی ہیں ۔بین الاقوامی پروازیں بند ہیں۔ سیاحت کی انڈسٹری ٹھپ ہو چکی ہے۔ سٹاک مارکیٹ کریشں اور تیل کی قمیتں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔دُنیا ایک عظیم تجارتی ،مالی اور معاشرتی بحران کی زد میں ہے۔

اس دفعہ یہ آفت کروناوائرس کی صورت میں کسی ترقی پذیر یاغریب افریقی ملک میں نازل نہیں ہوئی۔بلکہ دُنیاکے سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرتےہوئے ممالک چین، جاپان،کوریا،اٹلی ،برطانیہ ،امریکہ اور یورپ میں تیزی سے پھیلی ہے۔ایران بھی شدیدمتاثرین میں شامل ہو چکا ہے۔مگر ان سے زیادہ غریب اور پسماندہ ممالک ابھی تک اس وبائی مرض سے بچے ہوئے ہیں۔لوگ اس کی وجہ سانپ اور چمگادڑ وغیرہ کھانے میں تلاش کر رہے ہیں۔مگر چین ،جاپان وغیرہ میں تو یہ چیزیں صدیوں سے کھائی جا رہی ہیں۔ان ممالک میں حفاظتی انتظامات اسطرح کے وائرس  سے بچاؤ اور جدید ترین ویکسین ہائے کی ایجاد معمول کی باتیں ہیں۔پھر اصل مسئلہ کدھر ہے۔

ہمارے خیال میں ابھی حال ہی میں چین نے ایک مصنوعی انسان روبوٹ نما بنا کر دُنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ اس حد تک ترقی کر چکا ہےکہ وہ مصنوعی انسان بھی بنا سکتا ہے۔پھر مالک کائنات نے جواب دیا کہ وہ اصل انسانوں کو ماربھی سکتا ہے۔بچا کر دکھاؤ۔

پوری ترقی یافتہ دُنیا اس وائرس سے بچنے کے لئے ہر ممکن طریقہ اختیار کر رہی ہے۔آبادیوں کی آبادیاں سیل کر دی گئی ہیں۔اگر صورتحال یہی رہی تو شدید غذائی بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔مگر یہ سب لوگ ابھی تک  اس حقیقت کا ادراک نہیں کر سکے کہ وہ دُنیاوی سکیموں ،چالوں اور پیش بندیوں میں مصروف ہیں۔قدرت کا ہاتھ اس مرتبہ اُن ملکوں پر زیادہ سخت نظر آرہا ہے۔جہنیں اپنی ٹیکنالوجی پر ناز اور زعّم تھا۔اصل میں ان سب سے اُوپر ایک ہستی ایسی بھی بیٹھی ہے جو اس کائنات کی اصل مالک ہے۔جسے یہ ترقی یافتہ قومیں شاید فراموش کیے بیٹھی ہیں ۔اصل میں وہی  تو ہے جو نظام  ہستی چلا رہا ہے وہ قرآن حکیم میں یوں فرماتا ہے۔

“اسکی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے

تو اُس سے فرما دیتا ہے کہ ہو جا تو  وہ ہو جاتی ہے”

سورۃ یسٰین آیت نمبر82

بے شک ہر عیب ،ہر نقص ،ہرکمزوری ،ہر خامی اور ہر شرک سے وہ ذات اعلیٰ و ارفع ہے۔اسکی ہمہ گیر قدرت اور اسکابے پایاں علم،ہر اعلیٰ و ادنیٰ پر جاری و ساری ہے۔ہر چیز اسکی زیر نگیں اور تابع فرمان ہے۔جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ہر چیزکا اختیار اُسکے اپنے دست قدرت میں ہے اور انجام کار ہر چیز نے اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔زمین  پر جتنی چالیں چلی جاتی ہیں۔اُن سب کا توڑ صرف اُسی ذات  باری کے پاس ہی تو ہے۔جو سب سے بڑی چالیں چلنے والا ہے۔میں نے اپنی گناہ گارآنکھوں سے بے شمار منصوبہ سازوں ،بے شمار چال بازوں اور بے شمارہنرمندوں کی ساری کاری گری ،ساری منصوبہ سازی اور ساری چال بازی اُلٹی  پڑتے دیکھی ہے۔

دوسروں کا راستہ روکتے روکتے خود گر پڑتے ہیں اور سوائے پچھتاوے اور مذامت کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔شاید انسانی جبلّت یا دماغ میں کوئی خلل ہے کہ انسان کو ذرا موقع ملے یااُسے وقتی کامیابی ملےتو وہ سارا کریڈ ٹ اپنی ذات کی خوبیوں اور ذہانت و فطانت کے ذمّہ ڈال دیتا ہے۔اگر ایسے مواقع پر انسان شکر ادا کرے۔اپنے مالک حقیقی کا کہ جسکی مہربانیوں اور احسانات کے بغیر وہ سانس بھی نہیں لے سکتا،ایک قدم بھی نہیں اُٹھا سکتا،تو اللہ تعالیٰ اُسکی نعمتوں اور انعامات کو بڑھا دیتا ہے۔مگر قرآن پاک کے اپنے الفاظ میں انسان تھڑ دلہّ،جلد باز اور ناشکرابھی ہے۔ایسی ہی کیفیت اس وقت اُن تمام ترقی یافتہ ممالک کو درپیش ہے جنہیں اپنی قابلیت ،ذہانت ،ترقی اور ٹیکنالوجی پر بڑا مان اور ناز تھا۔

یہ کروناوائرس جو سردست لا علاج مرض ہے اس جدید ترقی کےد ورمیں ایک وارننگ ہے ۔اس مالک حقیقی کی طرف سے جو ارض وسما کا واحد مالک ہے۔جسکی دی گئی عقل استعمال کر کے انسان نے اس درجہ ترقی کی۔جسکے وسائل کی وجہ سے انسانوں نے اوجِ ثریا کو چھوا۔مگر حقیقی اختیار اور طاقت صرف اور صرف اُسی اللہ تعالی کے پاس ہے۔یہ وقت اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنے اور اپنے گناہوں پر پشیمانی اور ندامت کا ہے ۔ جو کچھ اس وقت ترقی یافتہ دُنیا میں ہو رہا ہے اورنسبتاً غریب اور کم ترقی یافتہ ممالک ابھی تک سکون میں ہیں۔اس سب کو دیکھ کر بے اختیار زبان سے نکل جاتا ہے کہ “کوئی توہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے،وہی خدا ہے”

اللہ تعالیٰ ہماری ارض وطن اور اسکے باسیوں کو اس وبائی مرض کے مہلک اثرات سے محفوظ  و مامون رکھے ۔آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply