اکھٹے کھانا کھانے سے کورونا وائرس پھیلتا ہے؟


چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والا کورونا وائرس دُنیا کے 145ممالک میں پھیل چکا ہے اور اِسی وبائی مرض کو روکنے کے لیے بہت سے ممالک حفاظتی اقدامات کرتے نظر آرہے ہیں۔

کورونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات کرتے ہوئے ان ممالک نے تعلیمی ادارے، اجتماعات اور عوامی مقامات کو بند کردیا ہے۔ کورونا سے 145 ممالک میں 5436 ہلاکتیں ہو گئیں

دوسری جانب اِس بات پر بھی غور کیا جا رہا ہے کہ ریسٹورنٹس کو بھی بند کیا جائے کیونکہ ریسٹورنٹس ایک ایسی جگہ ہے جہاں لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں تو وہاں یہ مرض ایک انسان سے دوسرے انسان میں با آسانی منتقل ہوسکتا ہے۔

ریاستہائے متحدہ امریکا میں قائم سینٹر برائے مرض قابو اور روک تھام (سی ڈی پی) کے مطابق، کورونا وائرس کو ایک ایسا وبائی مرض سمجھا جا رہا ہے جو سانس کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے انسان میں منتقل ہو رہا ہے لیکن تا حال ایسا کوئی کیس سامنے نہیں آیا جس میں یہ بتایا گیا ہو کہ ساتھ کھانا کھانے سے یہ موذی وائرس ایک سے دوسرے میں منتقل ہوا ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ بغیر کسی تحقیق کے ریسٹورنٹس کو بند کرنا غلط ہے۔

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس سانس کے ذریعے ایک انسان سے دوسرے میں منتقل ہوتی ہے جبکہ مل کے کھانا کھانےمیں کوئی حرج نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ریسٹورنٹس انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھیں، ریسٹورنٹس میں جگہ جگہ ہینڈ سینیٹائزر رکھیں جائیں، اِس کے علاوہ کھانا پکاتے وقت صفائی کا بھی خاص خیال رکھا جائے۔

اُنہوں نے کہا کہ لوگوں کو خود بھی کورونا وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے اور زیادہ رش والے ریسٹورنٹس جانے سے گریز کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ دُنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے اموات کی تعداد 5 ہزار 436 ہو گئی ہے جبکہ 1 لاکھ 45 ہزار 5 سو سے زائد افراد اس وائرس کی وجہ سے بیمار ہیں۔

Facebook Comments HS