مسلم لیگ ن کی سیاسی گمشدگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسلم لیگ ن ایک سیاسی حقیقت ہے اورپنجاب کی سیاست میں اسے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ایک بڑی واضح برتری بھی حاصل ہے ۔ اگرچہ وہ اس وقت اقتدار کی سیاست میں نہیں لیکن اس کے باوجود مرکز اور پنجاب کی سطح پر ان کے منتخب نمائندوں کی تعداد موثر ہے اور وہ کسی بھی سطح پر ایک بڑا کردار اد ا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے ۔ لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن سیاسی میدان یا محاذ پر سیاسی گمشدگی کا شکار ہوگئی ہے ۔ اس کی تصویر یا شکل نظر تو آرہی ہے مگر یا تو وہ سیاسی دھندلی ہے یا اسے نے عملی سیاست میں ایک خاموشی اختیار کرلی ہے ۔ یہ خاموشی اس کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے یا اس میں ایک بڑی سیاسی مایوسی کی جھلک نظر آتی ہے ۔ مسلم لیگ ن کے بارے میں یہ رائے محض سیاسی پنڈتوں ، تجزیہ نگاروں یا اہل دانش تک محدود نہیں بلکہ ان کی اپنی سیاسی جماعت میں بھی پارٹی کی سیاسی گمشدگی کی آواز اٹھ رہی ہے اور پارٹی کے لوگ قیادت سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔
حالیہ مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا ۔ اس میں مجموعی طور پر پنجاب کی قیادت کا ہی غلبہ رہا ۔لیکن اس اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر راجہ ظفر الحق، خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال نے کی ۔اس اجلاس میں پانچ اہم پہلو سامنے آئے ۔ اول کہ حکومت کی بری کارکردگی کے باوجود ہم بڑی پارٹی اور حزب اختلاف کے باوجود کوئی بڑا سیاسی فائدہ نہیں اٹھاسکے اور اس کی وجہ پارٹی ، پارلیمانی پارٹی اور قیادت سے جڑے مسائل ہیں ۔ دوئم نواز شریف کے سیاسی بیانیہ سے پیچھے ہٹنے سے پارٹی کا موقف عوام اور اہل دانش میں کمزور ہوا اور اس تناظر میں ہمیں سیاسی پسپائی کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ سوئم خواجہ آصف کے بقول اب تک جو بھی پارٹی کے فیصلے ہوئے وہ سیاسی قیادت نے ہی کیے ہیں اور اس عمل کو جذباتیت کی بجائے ہوش مندی سے دیکھا جائے ۔ چہارم پارٹی میں مشاورت کا فقدان ہے اور چار لوگ بیٹھ کر سب پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ پنجم شہباز شریف کی وطن واپسی کو فوری طو رپر ممکن بنایا جائے تاکہ پارٹی ایک فعال کردار ادا کرسکے ۔
اس اجلاس میں جو کچھ ہوا اس کی رودار یا قصہ کہانی یا دکھ کا پہلو پہلی بار سامنے نہیں آیا ۔ مسلم لیگ ن میں موجود بہت سے لوگ تواتر کے ساتھ پارٹی پالیسیوں پر تنقید کررہے ہیں ۔ ایک بنیادی مسئلہ مزاحمت اور مفاہمت کی سیاست سے جڑا ہوا ہے ۔ نواز شریف اور مریم نواز کو مزاحمت اور شہباز شریف ، خواجہ آصف اور سردار ایاز صادق کو مفاہمت کی سیاست سے جوڑا گیا ۔ایک گروپ اسٹیبلیشمنٹ سے ٹکراو اور دوسرا گروپ معاملات کو مفاہمت سے چلانا چاہتا ہے ۔نواز شریف کا سیاسی بیانیہ کسی نے تبدیل نہیں کیا بلکہ عملی طو رپر خود نواز شریف اور مریم نواز نے ہی اپنے ہی سیاسی بیانیہ پر یا تو خاموشی اختیار کرلی ہے یا وہ واقعی کسی سمجھوتے کی سیاست یا کسی سیاسی لے دو کی بنیاد پر اپنے بیانیے سے بہت پیچھے چلے گئے ہیں۔ الزام شہباز شریف پر لگایا جاتا ہے ، مگر خواجہ آصف کی اس بات میں پوری جان ہے کہ جو بھی پارٹی یا شریف خاندان نے پالیسی اختیار کی ہے وہ ان ہی کی مرضی سے جڑی ہوئی ہے ۔ اس لیے اگر نواز شریف یا مریم نواز کا بیانیہ پیچھے چلا گیا ہے تو اس کی بڑی وجہ شہباز شریف نہیں بلکہ خو د نواز شریف اور مریم نواز ہیں ۔
نواز شریف اور مریم نواز کے سیاسی بیانیہ سے جڑے اہل دانش اور سیاست کی ایک بڑی تعداد جو ان کو ایک بڑے مزاحمت کار کے طو رپر دیکھ رہے تھے یا ان کو سیاسی ہیرو کے طو رپر پیش کررہے تھے ان کو بھی سیاسی سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ یہ طبقہ بھی سمجھتا ہے کہ پارٹی میں نواز شریف کے مقابلے میں شہباز شریف کا بیانیہ طاقت پکڑ چکا ہے ۔خواجہ آصف ہی کے بقول پارٹی میں چند جذباتی اور نوجوان لوگ جو سیاست کا کم تجربہ رکھتے ہیں بلاوجہ ہمیں ٹکراو کی سیاست میں دکھیلنا چاہتے ہیں جو پارٹی کے مفاد میںنہیں ۔اصولی طور پر تو جو لوگ بھی نواز شریف یا مریم نواز سے کوئی بڑی جمہوری جنگ کی توقع کررہے تھے وہی خود غلطی پر تھے اور ان کی سیاسی رومانس کا ٹوٹنا یقینی تھا ۔ کیونکہ مسلم لیگ ن اپنے مزاج میں مزاحمتی پالیسی کی سیاست کی بہت بڑی حامی نہیں رہی ہے ۔
مسلم لیگ ن کی قیادت کچھ بھی کہے لیکن سیاسی عمل میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کی علاج کی غرض سے باہر جانے کا فیصلہ کسی
سیاسی تنہائی میں نہیں ہوا ۔ وہ یقینی طو رپر کچھ طے کرکے ہی فیصلہ کرنے والی قوتوں کے ساتھ گئے ہیں اور اس کی ایک وجہ نواز شریف اور مریم نواز کی سیاسی زبان بندی یا خاموشی ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ نواز شریف کا سیاسی بیانیہ کمزور ہوا ہے اور اس سے ان کی اسٹیبلیشمنٹ کے خلاف مزاحمت کا عمل بھی پیچھے چلا گیا ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہم مسلم لیگ ن کی سیاست میں تضادات پر مبنی سیاست کے پہلو زیادہ دیکھ رہے ہیں اور لگتاہے کہ ان کی جماعت موجود ہ سیاسی بحران میں یا تو کنفیوزن کا شکار یا بہت چالاکی سے خود کو بچانے کی کوشش کررہی ہے ۔ سیاست مےں قائد حزب اختلاف کا کردار پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ سے باہر خود کو ایک متبادل قیادت کے طو رپر پیش کرنا ہوتا ہے ۔ وہ اپنی سیاسی حکمت عملی سے تمام سیاسی قوتوں کو اپنے اردگرد متحد کرکے متفقہ حکمت عملی اختیا رکرتا ہے ۔لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ قائد حزب اختلاف خود سیاسی طور پر گمشدگی کا شکار ہیںاور ان کی فوری واپسی کا امکان کم ہے ۔
مسلم لیگ ن کے نو سے زیادہ ارکان پنجاب اسمبلی کا وزیر اعلی عثمان بزدار سے ملاقات اور حکومت کی حمایت سمیت ترقیاتی فنڈ کے حصول کی کوشش نے بھی پارٹی کو مشکل صورتحال میں کھڑا کردیا ہے ۔ کم ازکم پینتیس لیگی ارکان ہیں جو حکومت سے رابطوں میں ہیں ۔ایک منطق دی جاسکتی ہے کہ ارکان اسمبلی نے اپنی وفاداری سے بغاوت کی ہے مگر سچی بات یہ ہے کہ جب پارٹی خود اپنے آپ کو سیاسی تنہا کررہی ہے تو اس کے ارکان جو آتے ہی ترقیاتی فنڈز کے لیے ہیں وہ کب تک پارٹی قیادت کا انتظار کریں گے ۔مسلم لیگ ن نے اگر خود کو فوری طو رپر فعال نہ کیا اور پارٹی کے بگڑے معاملات کو درست نہ کیا تو اس کے مزید ارکان بھی بغاوت کرسکتے ہیں ۔ اگر مقامی انتخابات ہونے ہیں تو اس میں حزب اختلاف کے ارکان بھی چاہیں گے کہ وہ حکومتی حمایت کی مدد سے اپنے حمایت یافتہ لوگوں کو منتخب کرواسکیں ۔
اسی طرح یہ جماعت حکومت کے بارے میں بھی کئی طرح کے تضادات رکھتی ہے ۔ ایک گروپ چاہتا ہے کہ حکومت مدت پوری کرے اور اس کی بگڑی کارکردگی کا فائدہ اٹھایا جائے تو دوسرا گروپ فوری طور پر ان ہاوس تبدیلی کا حامی ہے تو تیسرا گروپ فوری طور پر نئے انتخابات کا مطالبہ کررہا ہے ۔ اس عمل سے پارٹی قیادت اپنے ورکروں کو بھی کنفیوز کررہی ہے اور لگتا ہے کہ پارٹی اپنی سیاسی حکمت عملی نہ تو خود شفاف ایجنڈا رکھتی ہے اور نہ ہی وہ کچھ دینے کے لیے تیار ہے ۔حکومتی جماعت کو یہ برتری حاصل ہے کہ اسے اس وقت حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتوں سے کوئی بڑا سیاسی خطرہ نہیں اور وہ سمجھتی ہے کہ یہ جماعتیں کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر سیاسی طور پر گم ہیں اور ان کی قیادتیں اپنی ذاتی سیاسی بقا کی جنگ لڑرہی ہیں ۔
حزب اختلاف بنیادی طور پر ایک متبادل حکومت ہوتی ہے اور وہ لوگوں میں یہ اعتماد پیدا کرتی ہے کہ حکومت کے مقابلے میں بحران کا سیاسی اور معاشی حل اس کے پاس ہے ۔لیکن اس وقت اگر لوگ حکومت سے مطمن نہیں تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ لوگ حکومت کے مقابلے میں مسلم لیگ ن یا پیپلزپارٹی کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ مسلم لیگ ن کے اندر موجود گروپ بندی بھی پارٹی کی تنظیم سازی میں بھی اور سیاسی عمل میں بھی مسائل پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔اسی طرح مسلم لیگ ن کے بارے میں دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی ، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی میں بھی یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ یہ جماعت متحدہ حزب اختلاف کی تشکیل میں رکاوٹ بن رہی ہے اور خاص طو رپر شہباز شریف کو بہت زیادہ شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔بہر حال مسلم لیگ ن اس وقت داخلی بحران میں کافی الجھی نظر آتی ہے جو اس کے سیاسی کردار کو محدود کرنے کا سبب بن رہی ہے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *